اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں بھی سوچنے سمجھنے کا بڑا سامان ہے۔ اُن کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے، اُس کے بیچ میں سے ہم تمہیں ایسا صاف ستھرا دُودھ پینے کو دیتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہوتا ہے۔
﴿سورۃ النحل، ۶۶﴾
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا
سُورَةُ الفُرۡقَانِ - 27
مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں کہ:
••"ایک صاحب کہنے لگے "یار ساری عمر ڈرتے ڈرتے ہی گزر گئی ہے۔ پہلے والدین سے، پھر اساتذہ سے، پھر افسران سے، پھر موت سے اور پھر موت کے بعد والے حساب کتاب سے"۔
میں نے پوچھا ، "آپ نے بیوی کا ذکر نہیں کیا؟
کہنے لگے ڈر کے مارے نہیں کیا
#اوردو
وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنَ الرَّحْمَٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِينَ
اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
سُورَةُ الشُّعَرَاءِ - 5
إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا
سُورَةُ هُودٍ - 119
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اُس کے دِل میں جو خیالات آتے ہیں، اُن (تک) سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اُس کی شہہ رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں،
سورۃ ق
بڑی شان ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی اس لئے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے، اور وہی ہے جو مکمل اِقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے،
سورۃ الملک
خَالِدِينَ فِيهَا ۖ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ
وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی
سُورَةُ البَقَرَةِ - 162
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ
اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا
سُورَةُ الأَنفَالِ - 58
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں ، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مومنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ۔
(سورۃ آل عمران : 160)
رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دِکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے، وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔ اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تووہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعدادپوری کرلے۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے، اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا، تاکہ( تم روزوں کی) گنتی پوری کرلو، اور اللہ نے تمہیں جو راہ دِکھائی اس پر اللہ کی تکبیر کہو، اور تاکہ تم شکر گذار بنو۔
﴿سورۃ البقرۃ، ۱۸۵﴾