کیا محترمہ وزیر اعلیٰ کی para police اب تک ہزاروں یا لاکھوں دوکانداروں سے کروڑوں یا اربوں بھتہ وصول کر چکی ہے؟ خفیہ ایجنسیاں سو رہی ہیں تو تاجر تنظیموں کو بروئے کار انا چاہیے۔ جلد انشاء اللہ جعلی حکمران دھتکارے جائیں گے۔ اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔
کیا عمران خان کو اس لیے قید میں ڈالا گیا کہ ملک کر امن اجاڑ کر پاکستان پر ظلم کیا جا سکے، آج 3 سال ہوگئے ہیں ملک میں تباہی ہی تباہی ہے، عمران خان کی اس وقت پاکستان کو اشد ضرورت ہے،علیمہ خان
2 دسمبر آخری ملاقات اور آج 9 جون عمران خان کی فیملی سے ملاقات پر پابندی کو 6 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا پی ٹی آئی نا سیاسی نا عدالتی محاذ سے یہ ملاقات بحال کروانے کامیاب ہوئی اس دوران سلمان صفدر کے بقول عمران خان کی دائیں آنکھ کافی متاثر ہو چکی
عوام مجھے راستے میں روک روک کر بتا رہے ہیں کہ ہم نے مسلم لیگ ن کے کیمپوں سے رسید کٹوائی اور ووٹ ہم نے جا کر ٹرانسفارمر پر عمران خان کے منتخب امیدوار عتیق پیرزادہ کو دیا ہے یہ خاموش ووٹ ہیں جو خود گواہی دے رہے ہیں کہ ہمارا ووٹ کس کے ساتھ ہے
جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ججز کے تبادلے کا ایسا طریقہ کار رائج نہیں تھا,جسٹس بابر ستار کا خط
"ججز کے تبادلوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عدلیہ میں ایک ایسے کلچر کو فروغ دے گا جہاں بے ضابطگیاں اور نااہلی پنپے گی،آئین کے آرٹیکل 200 اور 209 میں کی گئی ترامیم کو ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔اب ججز کو دیگر مقامات پر تبادلے کی دھمکی دی جا سکتی ہے اور اگر وہ تبادلہ قبول نہ کریں تو انہیں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ججز کے تبادلے کا ایسا طریقہ کار رائج نہیں تھا"جسٹس بابر ستار
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
عمران خان کو ناحق قید کر رکھا ہے عمران خان تک ذاتی معالجین اور فیملی کی رسائی نہیں ہے عمران خان کو علاج کی سہولت دستیاب نہیں ہے نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ بشریٰ بی بی کو بھی آپریشن کروانا پڑا ہے اور فیملی کو پتہ تک نہیں چلنے دیا تو ایسے ماحول میں تلخیاں کیسے کم ہوں گی- @Jhagra
بشری بی بی صاحبہ کی طبیعت ناساز ہونے پر ان کو جیل ہسپتال منتقل کیا گیا اور ان کی فیملی کو کال کی گئی اور کہا گیا کہ آپ اڈیالہ آ جائیں ، پھر کچھ دیر بعد ان کو کہا گیا کہ کل صبح 9 بجے اڈیالہ آ جائیں ، اب ان کی فیملی کل صبح 9 بجے اڈیالہ پہنچے گی ، بشری بی بی کی طبیعت کافی دنوں سے ناساز تھی، لیکن ان کا ٹریٹمنٹ نہیں کرایا جارہا تھا ، جس پر علیمہ خانم صاحبہ نے بھی ٹویٹ کیا
بشرٰی بی بی کو گزشتہ رات الشفأ ہسپتال لا کر ان کی دائیں آنکھ کی سرجری کی گئی دوبارہ جیل شفٹ کر دیا گیا
آج ان کی فیملی سے جیل میں ہی مختصر ملاقات کروائی گئی
نہ ہی یہ سرجری فیملی کی موجودگی میں کروائی گئی
اور نہ ہی انہیں سرجری کے بعد ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیرنگرانی رکھا گیا
عمران خان صاحب اور بشریٰ بی بی دونوں کو مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور دونوں کی آنکھوں کا مسئلہ بننا، ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی نہ دینا، آزاد لیب سے ٹیسٹ نہ کروانے دینا ، فیملی سے کئی کئی ماہ ملاقات نہ کرنے دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے اور اصلی میڈیکل حالت چھپائی جا رہی ہے-
یہ کوئی قدرتی بیماری نہیں بلکہ اس کے پیچھے عاصم منیر کا ہاتھ ہے جو اپنی انا کو تسکین دینے کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے-
تحریک انصاف اور ہمارے وکلأ کو سب کام چھوڑ کر پاکستان کے علاوہ ہنگامی طور پر تمام عالمی اداروں کے فورمز پر اس سب سے اہم معاملے کو اٹھانا چاہیے اور کسی بھی صورت میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ہسپتال منتقلی یا ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور آزاد لیب سے میڈیکل ٹیسٹ یقینی بنوانے چاہییں
@BrSalmanSafdar@salmanAraja@BarristerGohar@SheikhWaqqas@sayedzbukhari@SajjadBurki@SohailAfridiISF@AllamaRajaNasir@MKAchakzaiPKMAP
بشریٰ بی بی شدید علیل ہیں جیل انتظامیہ شدید ٹارچر کر رہی ہے بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جو کہ عالمی قوانین کے تحت بدترین ٹارچر ہے۔
سمیع ابراہیم
مجھے عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی وکالت کرتے تقریباً چار سال ہوچکے ہیں جوں جوں ان کے کیسز ختم ہوتے جارہے ہیں ان کے بے گناہی ثابت ہوتی جارہی ہے ویسے سختیوں کا سلسلہ تیز ہوتا جارہا ہے ۔
میری ایک سال میں عمران خان سے چیف جسٹس ہائیکورٹ اسلام آباد کی مداخلت کی وجہ سے ممکن ہو پائی ، عمران خان کی قید تنہائی اور living conditions میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا۔
پچھلی ملاقات میں آنکھ کے حوالے سے خان صاحب نے بتایا کہ مکمل بینائی ایک بار کھونے کے بعد ڈاکٹرز کو دکھایا گیا جس کے بعد صرف پندرہ فیصد بینائی واپس آئی۔74 سال کی عمر میں کسی اعضاء کا ضائع ہونا ان کی صحت پر قید تنہائی کا اثر ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان اور بشری بی بی کے ساتھ عدالتی معاونت سے جاری فسطائیت پر گفتگو
#SaveImranKhansEyesight
علیمہ خان نے تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہیں
جب تک عمران خان کا معالجہ نہیں ہوتا اٹک پل پر دھرنا دیا جائے ہم اگر یہاں آ کر بیٹھ سکتے ہیں تو انہیں کیا عذر ہے بیرسٹر گوہر کہاں ہیں جو جماعت کے سربراہ ہیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کہاں ہیں وہ کیوں پیش قدمی نہیں کرتے علیمہ خان
یہ بلکل جائز غصہ ہے سب دھیان سے یہ سنیں۔
کوئی ناجائز مطالبہ نہیں
کوئی سیاسی بات نہیں
ایک ہزار دِنوں بعد بھائی کے لئیے یہ مطالبہ کرنا بلکل غلط نہیں
پوری قوم کا یہی مطالبہ ہے۔
Imran Khan has been kept in solitary confinement for six months under brutal conditions, while Bushra Bibi is being held the same way. Their freedom is being deliberately blocked by the Chief Justice of the Islamabad High Court, who refuses to fix their bail hearings.
Imran Khan has made it clear that the judiciary is no longer independent, it is acting like a tool of the government. Judges assigned to his cases are not delivering justice; they are ensuring hearings never happen. The reality is simple: the moment this case is heard, its weak and baseless nature will be exposed, and bail will become unavoidable. That is exactly why it is being stalled. Imran Khan and Bushra Bibi continued imprisonment is due to Judge Dogar, who is openly facilitating a government that came to power by stealing Imran Khan’s mandate.
Through Salman Safdar, Imran Khan has sent a message, his wife is being pushed to the edge by prolonged isolation. He has said he can endure this ظلم himself, but she is being broken to force him into submission. The pressure is deliberate, calculated, and inhumane. He said clearly “no deal, no surrender! It is liberty or death.”
عمران خان سے ہونے والی ملاقات اور گفتگو کے حوالے سے بیرسٹر سلمان صفدر کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو:
“مجھے عمران خان صاحب نے بتایا کہ:
• میں تین ماہ تک جیل سپرٹنڈنٹ (عبدالغفور انجم) کو بتاتا رہا کہ میری ایک آنکھ میں بینائی کا مسئلہ آ رہا ہے لیکن اس نے اس پر کوئی کان نہیں دھرا
• کئی دن تک میری ایک آنکھ کی بینائی 100 فیصد تک چلی گئی تھی
• مجھے ڈاکٹر عارف نے بتایا کہ انجکشن لگانے سے بینائی میں 15% بہتری آئی ہے - اس کے بعد سے میری بینائی میں کوئی بہتری نہیں آئی
• میں بالکل بھی اس علاج سے مطمئن نہیں ہوں
• میں مسلسل کہتا آیا ہوں کہ میرے ذاتی ڈاکٹرز کو بلایا جائے تاکہ پتہ چلے کہ آنکھ میں blood clot / خون کا لوتھڑا آنے کی اصل underlying reason / بنیادی وجہ کا پتہ چل سکے - لیکن مسلسل اس سے انکار کیا جا رہا ہے
• میں کافی عرصے سے اپنے ڈینٹیسٹ سے چیک اپ کا بھی کہ رہا ہوں لیکن اسے بھی نہیں بلایا گیا
• مجھے اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے
• بشریٰ بی بی کی بھی آنکھوں کا مسئلہ آیا اور دو ہفتے بعد وہی میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ کرے گا جس نے میرا معائنہ کیا”
@BrSalmanSafdar@salmanAraja@BarristerGohar@MKAchakzaiPKMAP@AllamaRajaNasir@SohailAfridiISF@Aleema_KhanPK