”ڈاکٹر مہرنگ بلوچ جو گمشدہ افراد کیلئے آواز اٹھاتی تھیں انہیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اسٹبلشمنٹ نے ان پر الزام لگایا کہ وہ بیرون ملک ایجنسیوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ حالانکہ یہ وہی مہرنگ بلوچ ہیں جن کی ریلیوں میں مریم نواز جا کر ان کے حق میں تقاریر کرتی رہی ہیں۔ تب یہ محب وطن تھے آج دہشتگردوں کی پراکسی ہو گئے ؟“ @SHABAZGIL
راولاکوٹ رینجرز نے کشمیریوں کو گولیاں ماری بے گناہ ورکرز کو گرفتار کیا گیا ایکشن کمیٹی سے گن پوائنٹ پر پریس کانفرنس کروا کا لاتعلقی کا اظہار تک کروایا ہے کور کمیٹی کے ممبران کے گھر تک توڑے گے
لیکن ابھی تک کشمیری قوم کے جوش اور جذبے کو ماند نا کر سکے
15دن کے بعد بھی پرامن دھرنا
اگر عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو ہم بہنیں خود لائحۂ عمل کا اعلان کریں گی اور ہمارا لائحۂ عمل انتہائی سخت اور فیصلہ کن ہوگا عوام تیار رہیں
علیمہ خان صاحبہ
عمران خان کی جیل کاٹنے کا موازنہ کسی بھی سیاستدان سے نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے وہ صعوبتیں برداشت کیں جو نہ نواز شریف نے کیں نہ آصف زرداری نے،
حالانکہ یہ ان کے لیے پہلا تجربہ تھا پھر بھی وقار، حوصلے اور استقامت سے جیل کاٹی! مطیع اللہ جان۔
عمران خان جس روز وزیراعظم بنا تو عمران خان نے دھاندلی کے الزامات پر اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ اگر دھاندلی پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اگر کوئی حلقہ تحقیقات کے لیے کھولنا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اسکے بعد اپوزیشن نے کبھی بھی کسی کمیشن یا کسی حلقہ جاتی تحقیقات کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ بھی نوٹ کرنے والی بات ہے کہ 2013 کے انتخابات کے بعد اسی طرح کی کمیشن کے قیام کے لیے تحریک انصاف نے 126 دن دھرنا دیا لیکن ن لیگ نے کمیشن نہیں بنایا۔ تین سال تک تحریک انصاف صرف چار حلقوں میں تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی لیکن نواز شریف کو تحقیقات کی جرات نا ہوئی۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2018 میں تحریک انصاف کی دھاندلی پیٹیشنز کی تعداد کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ تھیں۔ ن لیگ کے خواجہ آصف نے الیکشن کی رات جنرل باجوہ سے مدد مانگنے کا اعتراف ٹی وی پر کیا۔ تحریک بائیس ، سو ، پانچ سو ، ہزار اور بارہ سو ووٹس کے مارجن سے بھی کئی نشستیں ہاری لیکن نا کوئی جعلی فارم سینتالیس بنا نا ضرورت سے زیادہ ووٹ مسترد کرکے اپنا امیدوار جتوایا گیا۔
نیتن یاہو کے خلاف عمران خان کا ایک ٹویٹ دکھا دیں
ن لیگی پٹواری
اور پھر تیمور جھگڑا نے ٹویٹ نکال کر دکھا دیا جسے اینکر نے خود پڑھا war criminal Netan yahu
بس پھر پٹواری وہی کہانی جی دوسرا دکھائیں 🤦♂️
انُ کو ہمیشہ دوسرا دیکھنا ہوتا ہے
اڑھائی منٹ کی اس ویڈیو میں عمر نزیر کشمیری نے ایجنسیوں کے کالے چینل کا نفرت انگیز پراپیگنڈا تباہ کر دیا۔ غور سے سنیے ہمارے کشمیری بھائی کیا کہہ رہے ہیں۔ باقی ظلم کے شکار ناراض لوگ پاکستان میں بھی سخت شکوے کرتے رہتے ہیں۔
راولاکوٹ شہر اور مضافات میں اس وقت موجود مظاہرین کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔دھرنے کے مقام اور دور دور تک مضافات میں آپ کو صرف مظاہرین نظر آئیں گے۔رات کے وقت راولاکوٹ کا موسم شدید خراب ہو جاتا ہے اس کے باوجود لوگ پچھلے کئی دنوں سے یہاں جمے ہوئے ہیں۔اب دھرنے میں عورتوں اور بچوں کی شرکت بھی ہونے لگی ہے۔گزشتہ روز خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد مظاہرے میں پہنچی اور رات تک بیٹھی رہی۔شہر کا وسط سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں جبکہ چاروں اطراف ہزاروں مظاہرین موجود ہیں۔
تاریخ لکھے گی کہ پچیس کروڑ زندہ لاشوں کے درمیان صرف پینتیس لاکھ باضمیر کشمیری تھے، جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا جانتے تھے اور ہر قیمت پر ڈٹ جایا کرتے تھے۔"
لاؤ ترازو تول کے دیکھو ساڈا پلہ بھاری ہے.
عمران خان کے فوج سے تنازعات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہندوستان نے کشمیر میں 370 والا معاملہ کیا تو جنرل باجوہ چاہتا تھا کہ بھارت سے اس معاملے پر زیادہ کچھ نہ کہا جاۓ
لیکن عمران خان نے کہا نہیں ہمیں بھارت کو تگڑا ہو کر جواب دینا ہو گا جو بھی ہو عمران خان محب وطن تو ہیں
نجم سیٹھی
بے شرم ڈرامے باز! جب یہ اپوزیشن میں تھے تو ان کی اداکاریاں بھی دیکھ لیں۔ اُس وقت کہتے تھے کہ20,000 تنخواہ والا آدمی10,000 کا بجلی کا بل کیسے دے گا، اور آج یہی لوگ عوام کو دو وقت کی روٹی کے لیے ترسا رہے ہیں۔
اس خوف کے بت کو توڑیں گے
ہم پوری قوم کو جوڑیں گے
زندان میں ڈالنے والے سن
ہم حق لے کر ہی چھوڑیں گے
پی ٹی آئی کا نیا ترانہ
#ReleaseImranKhan#WhereIsImranKhan
سہیل آفریدی پر تنقید صوبے کے بجٹ کے لیے وفاق سے رابطوں پر تنقید نہیں ہورہی۔
سہیل آفریدی پر تنقید اس لیے ہورہی ہے کہ ؛
ڈرون حملوں پر ایف آئی آر دیے بغیر
فوجی آپریشن روکے بغیر
سٹریٹ موومنٹ کے بغیر
اسمبلی کو قانون سازی کے لیے استعمال کیے بغیر
رجیم چینج کے بعد کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن بنائے بغیر
عمران خان کے لیے اڈیالہ جائے بغیر
سہیل آفریدی وفاقی کٹھ پتلیوں سے مل رہا ہے اور اس سب کا مطلب مائنس عمران خان ہے۔
گلگت میں پیپلز پارٹی کو حکومت دے کر سلیکٹ کیا گیا اور ن لیگ کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا
جبکہ دوسری طرف کشمیر میں ن لیگ کو حکومت دے کر پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا۔
یہ دونوں برائے نام کی سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی لونڈیاں ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کا اصل مقصد عوام کو مایوس کرنا ہے کہ آپکے ووٹ سے کوئی تبدیلی نہیں انی لیکن مایوس نہیں ہونا انشااللہ وقت ائے گا جب عوامی مینڈیٹ کی ہی جیت ہو گی۔