دنیا کے 21 لیجنڈر�� کرکٹرز نے وزیرِ اعظم پاکستان کو خط لکھ کر عمران خان کے فوری علاج کا مطالبہ کر دیا، شرم کی بات یہ ہے کہ کسی پاکستانی کرکٹر اور نام نہاد سلیبرٹیز نے یہ آواز نہیں اٹھائی!
#ImranKhanHealthMatters
پاکستان اور چین کے درمیان واحد تجارتی گیٹ وے سوست پورٹ پر ڈیڑھ ماہ سے جاری دھرنے کے پرامن تاجروں پر ناجائز ٹیکسوں اور تجارت دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے دوران اندھا دھند طاقت کا استعمال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ گلگت بلتستان کے پہلے ہی محروم عوام کو مزید مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلنے کی ایک سو��ی سمجھی سازش محسوس ہوتی ہے۔
صبح نماز کے وقت ایف سی اور پولیس کی جانب سے تاجروں پر فائرنگ کا واقعہ ایک شرمناک اور ناقابلِ قبول عمل ہے، جس نے یہ تاثر دیا کہ گویا یہ خطہ پاکستان نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر ہے۔ حکومتِ وقت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر مقامی تاجروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا چاہیے، کیونکہ بارڈر پر ناامنی اور بےچینی پیدا کرنا نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
کافی عرصے سے زائرین اور زیارات کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ کبھی کہا گیا کہ 40 ہزار افراد غائب ہوگئے، کبھی انسانی اسمگلنگ کا الزام لگا۔ حالانکہ عراق و ایران جانے والے زائرین کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے اور بارڈر پر پاسپورٹ جمع کروا دیے جاتے ہیں۔
محرم کے دوران ایران، عراق اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کی میٹنگ سے امید بندھی کہ مسائل حل ہوں گے۔ زائرین نے ہوٹلوں، گاڑیوں کی بکنگ اور قافلوں کی تیاری شروع کر دی۔ مگر اچانک اطلاع ملی کہ زمینی راستہ بند کر دیا گیا ہے، جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ یہ سفر صرف سفر نہیں، ہمارے عشق، عبادت اور ایمان کا مظہر ہے، اور غریب طبقے کیلئے واحد قابلِ استطاعت راستہ بھی۔
ہر سال بلوچستان سے 10 لاکھ سے زائد زائرین زیارت پر جاتے ہیں، جس سے بین الصوبائی تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔ حکومت نے نہ کوئی متبادل دیا، نہ ہی فلائٹس یا فیری کا انتظام کیا۔ ہمیں کربلا جانے کا آسان راستہ بند کر کے عبادت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ریمدان بارڈر پر موجود طلبا اور قافلوں کو بھی روکا جا رہا ہے۔
ہم پرامن طور پر صرف اپنے آئینی اور مذہبی حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو ہم ہر تعمیری بات چیت کے لیے ��یار ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہے، جبکہ عراق جیسے ملک میں داعش کے باوجود زائرین کو سہولیات دی جا رہی ہیں۔ بلوچ قبائل بھی زائرین کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔
ہمارا مطالبہ واضح ہے: ہمیں کربلا جانے دیا جائے۔ جن کے ویزے لگ چکے ہیں انہیں نہ روکا جائے۔ گورنر سندھ سے ملاقات میں بھی یہی مطالبات رکھے، اور ان کا کہنا ہے کہ کچھ وقت دیں۔ ہم حکومت نہیں گرا رہے، صرف اپنے حق کے لیے نکلے ہیں۔ اگر حکومت چاہے تو افغانستان کے راستے سے بھی زیارت ممکن ہے۔
یہ کوئی سیاسی احتجاج نہیں بلکہ خالصتاً عقیدے، عبادت اور آئینی حق کا دفاع ہے۔ حکومت کو عوام کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے، نہ کہ ان کے لئے مشکلات کا سبب بنے۔
وعلیکم السلام! دل کو سکون دینے والی قرآن کی دو آیات:
سورۂ الرعد (۱۳:۲۸): الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
ترجمہ: جو ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں۔ سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔
سورۂ الانشراح (۹۴:۵-۶): فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
ترجمہ: تو بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ نہ صرف آئین و جمہوریت کی روح کے منافی ہے بلکہ ملک کے عدالتی نظام کی ساکھ پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ آٹھ ججز کے فیصلے کے خلاف سات دیگر ججز نے نظرثانی کی اپیل سنی، جو انصاف کے مسلمہ اصولوں اور عدالتی وقار کی بدترین پامالی ہے۔ یہ اقدام عدل و قانون کی تاریخ میں ایک بد نما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
درحقیقت، یہ سارا بحران 26ویں آئینی ترمیم کا شاخسانہ ہے، جس نے ملک میں آئین کی روح اور جمہوری اقدار کو مسلسل کمزور کرنے کی راہ ہموار کی۔ اس ترمیم اور اس کے بعد کی عدالتی کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ طاقت کے مراکز جمہور کی رائے، پارلیمانی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے اصولوں کو روندنے کے لیے ہمہ وقت سرگرم ہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک سیاسی جماعت کی حق تلفی ہے، بلکہ مستقبل میں کسی بھی سیاسی و عوامی قوت کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی خطرناک روایت کی بنیاد ہے۔ آج ق��م کا عدلیہ پر سے وہ رہا سہا اعتماد بھی اٹھ چکا ہے، جو کسی بھی ریاست کے استحکام، عدل اور قانون کی بالادستی کے لیے انتہائی مہلک ہے۔
ہم اس غیر آئینی، غیر جمہوری اور متعصبانہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے تمام ریاستی و عدالتی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوامی مینڈیٹ اور آئین کی بالادستی کا احترام کریں۔ پاکستان کا آئندہ مستقبل صرف آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور شفاف جمہوری عمل ہی میں محفوظ ہے۔
ایرانی قوم سے یہ کہنا کہ آؤ اور سر تسلیم خم کرو، کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔
ایرانی قوم کس کے آگے جھکے؟ ہم کسی کی جارحیت کے آگے ہرگز سر نہیں جھکائیں گے۔ یہی ایرانی قوم کی منطق ہے، یہی ایرانی قوم کا جذبہ ہے۔
اس جنگ میں امریکہ کا داخل ہونا سو ��یصدی اس کے نقصان میں ہوگا۔ اس معاملے میں اس کو جو نقصان ہوگا، وہ ایران کو ہونے والے ممکنہ نقصان سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔
فرعونِ عصر ڈون��ڈ ٹرمپ جان لے کہ ولی امرالمسلمین، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دنیا بھر کے کروڑوں شیعیانِ حیدرِ کرارؑ کے مرجعِ تقلید اور عقیدت و اطاعت کا مرکز ہیں۔ ان کی عزت و حرمت ہماری ریڈ لائن ہے، جبکہ عالمِ اسلام کی حقیقی اسلامی مزاحمتی تنظیمیں بھی آپ کو ��پنا مرکز و محور تسلیم کرتی ہیں۔ امریکہ کے نفسیاتی مریض صدر کی یہ دھمکیاں اس کی شکست خوردہ ذہنیت اور بوکھلاہٹ کی علامت ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اہلِ حق سے ٹکرانے والے ہمیشہ ذلیل و رسوا ہوئے، اور ٹرمپ کی نسلیں بھی اس انجام سے محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔
یہ درمیان سے گزرنے والا ایرانی میزائل مبینہ طور پر خیبر ہے۔ میک 5 کی رفتار یعنی 6000 کلو میٹر فی گھنٹہ سے بھی زائد۔ ہائیپر سونک میزائلز کو روکنا ابھی تک تقریباً ناممکن ہے۔ انکی نشاندہی کرنے والے ریڈار تو موجود ہیں مگر بہت��ین فضائی دفاعی نظام بھی انکے خلاف پوری طرح مؤثر نہیں ہیں۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
“من کنت مولاہ، فھذا علی مولاہ”
“جس کا میں مولا ہوں، اس اس کا علی مولا ہے۔”
آج کا دن اُس عظیم لمحے کی یاد ہے جب رسولِ اکرمؐ نے ولایتِ علیؑ کا اعلان کر کے حق و باطل کے درمیان دائمی حد فاصل کھینچ دی،عیدِ غدیر، دراصل عدل، وفا، حریت اور مظلوموں کی حمایت کا دن ہے۔
میں اس بابرکت موقع پر دنیا بھر کے اُن مجاہد اور حریت پسندوں کو سلام پیش کرتاہوں جو صہیونیت اور استعماری قوتوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ ایران،فلسطین، لبنان، یمن، کشمیر،عراق، شام، بحرین اور ہر اُس سرزمین کے حریت پسندوں کو عیدِ غدیر کی مبارکباد کہ جو علیؑ کے نقش ق��م پر استقامت کی راہوں پر گامزن ہیں۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ولایتِ علیؑ کا مطلب فقط محبت کا دعویٰ نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف قیام اور حق کی نصرت ہے۔ آج ملتِ اسلامیہ کو اسی ولائی شعور کی ضرورت ہے تاکہ استکبار و صہیونیت کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
عید غدیر کا پیغام یہ ہے کہ جہاں مظلوم ہو، وہاں علیؑ کے چاہنے والے اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ جہاں ظالم ہو، وہاں علیؑ کے پیروکار اُس کے مقابل صف بستہ ہوں گے۔
عیدِ غدیر کی برکتیں تمام امتِ مظلومین پر سایہ فگن رہیں، اور اللہ تعالیٰ ہمیں ولایتِ علیؑ کے راستے پر ثابت قدم رکھے۔
#عيد_الغدير مبارک•