"کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے" (اس زندگی کے نام جو نہ کسی کے اختیار میں ہے نہ کسی کی معلومات میں )
(A note of condolence on sudden death of a young brilliant doctor)
"زندگی بہت ناپائیدار ہے - دنیا عارضی ہے "
یہ باتیں ہم سب کرتے ہیں - بہت دفعہ کرتے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم اکثر یہ باتیں کرتے ہویے ان کا دل سے ادراک نہی کر رہے ہوتے بس زبان سے ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں - اس بات کا احساس مجھے کچھ دن پہلے ہوا جب میں نے ایک ینگ پاکستانی فزیشن ڈاکٹر ثوبیہ لیق جو کلیولینڈ کلینیک اوہایو میں ٹرانسپلانٹ ہیپا ٹولوجسٹ تھیں ' ان کے اچانک انتقال کی خبر سنی جو بچے کی ڈیلیوری کے دوران حرکت قلب رک جانے (cardiac arrest ) سے اس جہان فانی سے رخصت ہوگئیں - اس بچے کو لیکر انہوں نے کتنے خواب سوچے ہونگے ' کتنے جھولے سجاے ہونگے ' اس کا احساس ان سب کو ہوسکتا ہے جو اولاد والے ہیں -
یہ خبر سن کر جو احساس دل میں پیدا ہوا وہ شاید وہ ادراک تھا جو "دنیا فانی ہے " کہتے ہویے نہیں ہوتا تھا - ہم یہاں تک پہنچنے کیلئے کتنی محنت کرتے ہیں - نرسری سے ہائی سکول اور کالج یونیورسٹی تک پڑھائی ' سردی گرمی میں ٹیوشن اور امتحانات - اس محنت میں کتنی شادی بیاہ ' کتنی بسنتیں ' کتنے عیدیں قربان ہوجاتی ہیں - پھر ناکامیوں کے خوف کی خاردار جھاڑیوں میں دامن بچاتے بچاتے کامیابی تک پہنچتے ہیں - کتنے ڈپریشن ' کتنے فرسٹریشن اور کتنے اپری ہینشن کا سامنا کرتے کرتے مشن اکومپلش کرتے ہیں اور جب یہ سب محنت کر لیتے ہیں اور اس کا پھل کھانے کا سمے آتا ہے تو اچانک زندگی کی یہ ٹرین اپنی آخری سیٹی بجا دیتی ہے اور ہم ایک انجانے سٹیشن پر اترجاتے ہیں جس کا نام موت ہوتا ہے - اس سفر کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس کی منزل کا تو سب کو پتا ہوتا ہے پر کب سر راہ میں ہی منزل بن جائے ' یہ نہ کسی کی معلومات میں ہوتا ہے نہ کسی کے اختیار میں ہوتا ہے -
یہ جو اب میں لکھنے لگا ہوں یہ زندگی کے بارے میں میرا مشاہدہ اور میری ذاتی سوچ ہے ----مجھے لگتا ہے کہ سکول کے زمانے سے کالج کی پڑھائی تک ہمیں مقابلے اور گول سیٹ کرنے کی اتنی عادت ہو چکی ہوتی ہے کہ ایک منزل کے بعد اگلی منزل کی تلاش نگاہ خود شروع کردیتی ہے - میٹرک - پری میڈیکل - ایم بی بی ایس -ہاؤس جاب - - اس کے بعد یو کے’ امریکا ‘ پاکستان کے امتحان - وہ کرلئے تو ریزیڈنسی - خالی ریزیڈنسی کافی نہیں سپیشلائز کرنا چاہیے- وہ ہوگئی - تو اچھی جاب - وہ ہوگیا تو نظر کسی اور منزل کی تلاش میں جت جاتی ہے - یہاں تک کہ منظر ختم ہوجاتا ہے پر نظر اپنی سرچ لائٹ ادھر ادھر مارتی رہتی ہے کہ کوئی اور منزل نظر کی اس لت کو پورا کردے - اس لت کو پورا کرنے کیلئے نظر خود ساختہ منظر تراشنے لگتی ہے جیسے کہ “کوالٹی آف لائف” ——-تعلیم تو حاصل کرلی اب تجربہ لے لو - سکل (skill) تو سیکھ لیا اب ہاتھ سیدھا کرلو - کرایے کا گھر کیا ہوتا ہے ' گھر اپنا ہونا چاہیے - ویزے گرین کارڈ کا کچھ پتہ نہیں چلتا بھیی ' اصل تحفظ تو تب ہے جب پاسپورٹ مل جائے - کب تک ماہانہ پے چیک پر رہینگے ' اصل مقصد تو فاآئینینشل انڈیپنڈنس ( Financial Independence) ہے - ابھی تو سب ٹھیک ہے پر ریٹائرمنٹ کا کیا پیکج ہے ؟ ----
- الغرض نظر ہر اگلے سراب میں "سیراب" کا گمان کرنے لگتی ہے کیوں کہ اسی طرح اس کی وہ لت پوری ہوتی ہے - مجھے لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم سب "مقصدیت اور منزل " کے مسلسل نشے کے عادی بن جاتے ہیں جس کو مثبت رنگ دینے کیلئے ہم “جستجو” کا نام دیتے ہیں لیکن دراصل وہ “تشنگی “ کا روپ دھار لیتی ہے - ہم اس “خود واجب کردہ” تلاش کو “ لگن “ کا نام دیتے ہیں مگر وہ “لگان “ بن جاتی ہے -- ہم جب تھک کر تھوڑی دیر رکتے ہیں تو فورا "وڈ ڈرال" (withdrawal) میں جانے لگتے ہیں اور اس کی پیچیدگی سے بچنے کیلئے ہم پھر ادھر ادھر نظر گھماتے ہیں - نظر پھر سے کوئی نیا سراب ڈھونڈ لیتی ہے اور ہم پھر گامزن ہو جاتے ہیں - یہ وہ نشہ ہے جس میں سوبرایٹی (sobriety) تب نہی آتی جب منظر ختم ہوجاتے ہیں بلکہ تب آتی ہے جب ایک دن وہ نظر دھندلی ہو کر ختم ہوجاتی ہے - اسی مسلسل نشے کو “زیست' اس سوبرایٹی” کو عدم اور اس خود ساختہ منظر کے ناظر کو "حضرت انسان "کہتے ہیں -
لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوتا ہے جو ہمیں ویک آپ کال دیتا ہے کہ زندگی سالوں اور دہایوں کی بات نہی بلکہ لمحوں کا مجموعہ ہے اور ہمیں اس کو لمحوں میں جینے کی عادت ڈالنی چاہیے اور کسی چیز کو "بکٹ لسٹ " (bucket list) میں ڈالنے کی بجاے اس کو فورا کرلینا چاہیے کیوں کہ کب یہ لمحے گزر جائیں اور کب یہ بکٹ الٹ جائے اس کا نہ اختیار ہمارے پاس ہے نہ اس کی معلومات -
انّا للٰہ و انّا الیہ راجعون
(الله ڈاکٹر ثوبیہ کو جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے خاندان کو صبر اور ہمیں اس جہان فانی کو واقعی میں فانی سمجھنے کا ادراک عطا فرمایے - آمین)
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
یہ خراباتیان خرد باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے
.... (جون ایلیا )
قلم کی تعزیت وقاص نواز
33 new governors. 33 chief ministers. 33 cabinets. 33 high courts. 33 secretariats. 33 IGs.
Government already runs 85,000 cars. Add hundreds of thousands more.
Pakistan doesn't need more rulers. It needs power to reach the citizen.
Not 4 mini-Islamabads. Not 33. Zero.
My column, The News:
https://t.co/Z1XcOdDAE7
پی ٹی آئی کےلوگ میری کردار کشی کریں گے یہ توپتہ تھا ،اندازہ تھا شاید یہ اس وقت ہو جب یہ اقتدار میں آئیں گے۔ چلو جلدی ہو گیا ۔ حیرانی نہیں ۔انھوں نے توعمران ریاض جس نے اتنی مار کھائی اس کو بھی نہیں بخشاتھا۔میں تو کچھ بھی نہیں۔ضروری نہیں ہر بات آپ کو پسند آۓ۔ بہرحال آپ کی مرضی۔
#WorldwideProtestsForImranKhan as he stands like a tall mountain, not bending, not bowing.
The protests are testament to his support. The only leader with the power of moving the whole world.
“For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights. He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025.”
Amnesty International
عمران خان سیاسی طور پر امر ہو چکے ہیں۔ بہت سے لوگ مر کر امر ہوتے ہیں لیکن عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو زندہ ہو کر بھی امر ہو چکے ہیں۔ مطیع اللہ جان
عمران خان سیاسی طور پر امر ہو چکے ہیں۔ بہت سے لوگ مر کر امر ہوتے ہیں مگر عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو زندہ ہو کر بھی امر ہو چکے ہیں۔۔ مطیع اللہ جان
The Mianwali Police have arrested many PTI workers during Chairman Imran Khan's sister Aleema Khan’s visit to Mianwali. It includes Taj Khan Barki, Gul Malook Advocate, Waseem Khan, Ilyas Khan, Hidayatullah Khan, Ziaullah Khan, Sher Abbas, Afaq Ullah Khan, Adil Khan, Muhammad Saim Khan, Atif Shiraz, Deshan Khan, Tariq Iqbal Khan, Imran Khan, Saleem Khan, Nasir Khan, and Aamir Khan. They are currently being held at the City Police Station and Pai Khel Police Station
جسٹس مسرت ہلالی نے شادی نہیں کی، ان کی کوئی اولاد نہیں ہے اس لیے شاید انہیں اولاد کا حق چھینے جانے کہ وہ تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی جو دیگر لوگوں کو ہوتی ہے۔ میڈم کروڑوں نوجوانوں کا حق مارنے میں ملوث ہیں، سب سے بڑی سیاسی جماعت کو الیکشن سے باہر کیا اور ملک کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا جہاں سے ان کو تو لاکھوں روپے پینشن کی صورت میں ملتے رہیں گے لیکن غریب آدمی بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے بچیوں کے زیور بیچنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اللّٰہ پاک ان سے کڑا حساب لے