میرا آفیشل اکاؤنٹ عامر خان چمپنی مسلسل رپورٹنگ کی وجہ سے سسپینڈ کر دیا گیا ہے یہاں حق بات کرنا اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونا جرم بنا دیا گیا ہے، مگر یاد رکھیں سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں ❌
جب تک میرا اصل اکاؤنٹ ریکور نہیں ہو جاتا، براہِ کرم اس اکاؤنٹ کو فالو اور سپورٹ کریں۔
2014-17 کے دوران جب سہیل ظفر چٹھہ گجرات میں DPO تھے، NAB نے گجرات پولیس فنڈز میں مبینہ کرپشن کا کیس کیا۔
الزامات میں پٹرول بلز، یونیفارم، شہدا فنڈ، پنشن، فیک واؤچرز اور گھوسٹ ملازمین کے ذریعے اربوں روپے (تقریباً 3 ارب) کی بدعنوانی شامل تھی۔
2019 میں NAB کی کارروائی کے دوران سہیل ظفر چٹھہ پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے اور proclaimed offender قرار پائے۔
آج وہی شخص PML-N حکومت میں Additional IG Crime Control Department (CCD) Punjab کے عہدے پر ہیں اور CCD آپریشن چلا رہے ہیں۔
اسٹبلشمنٹ کے گود میں پلنے والا اقرار الحسن عمران خان کی وجہ سے ریچ بنانے والا ، پی ٹی آئی والوں کمنٹس سے ریچ بنانے والا ، اسی ریچ سے تین بیویوں کا خرچ اُٹھانے والا جمہوریت کی بات کرتا ہے ۔ اخے لخ دی لعنت۔
ایک صحافی ہوکے ایک عالمی لیڈر پر جیل میں ہونے والے بربریت پر آواز اُٹھانے کے بجائے ، أن کی ملاقاتیں کھولنے پر آواز اُٹھانے کے بجائے أنہی ملاقاتوں پر طنز کررہا ہے۔
اخے لخ دی لعنت آپ پر اور آپ کی جماعت پر۔
اسٹبلشمنٹ کی گود سے أس لیڈر پر تنقید کرنا جس کے دور میں گروتھ ریٹ 6 فیصد+ سے ترقی کررہا تھا۔ أس معیشت کا مزاق اڑایا۔
اخے لخ دی لعنت آپ کی تین بیویوں پر۔
عمران خان کے علاؤہ اس ملک کے پاس نہ کوئی چارہ ہے نہ اگلے 100 سالوں میں آسکتا ہے۔
عوامی راج کے بجائے اپنی جماعت کا نام اقرار کی بیویوں کا راج
نام رکھ دیں.
O Mr. Before pointing fingers at others, you should also look at your own political conduct. In the February 8, 2024 elections, you took the seat of PTI candidate Rehana Dar in broad daylight and reached the assembly, and today you sit as the Defence Minister. Have you ever thought what answer you will give on the Day of Judgment for becoming a minister on a controversial seat ?
Imran Khan was elected by the people in 2018, and in 2024 the public showed even greater trust in him by giving a clear majority, but you people openly stole the public mandate.
The reality today is that Maryam Nawaz is sitting on the mandate of 130 million people of Punjab, and you are sitting on Rehana Dar’s seat. These are public mandates that you are occupying.
As far as corruption is concerned, this is the system introduced by politicians like you, who looted Pakistan’s resources for decades and are still clinging to power.
Remember, this occupation will not last long. The people of Pakistan know how to take back their mandate, and they will reclaim it very soon.
Imran Khan Zindabad.
عید اور عمران خان صاحب کی رہائی !
ابھی عید کے کچھ دنوں بعد شاید سہیل آفریدی صاحب عمران خان صاحب کی رہائی کے حوالے سے کسی لائحہ عمل کا اعلان کریں ۔ لیکن آگر کوئی ساری ذمہ داری سہیل آفریدی صاحب پر ڈالنا چاہتے ہے یا سہیل آفریدی صرف خود ہی ، پختونخوا کی بنیاد پر نکلنے کا سوچے گا تو یہ بھی تحریک اور عمران خان صاحب کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ بطور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ممبر اکثر ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ پارٹی کی طاقتور عناصر پر بات نہ کریں ورنہ مستقبل نہیں رہے گا تو ہم أس مستقبل کا کیا کریں جس میں عمران خان صاحب کی بھلائی نہ ہو۔ کارکنان کو جواب دینا پڑے گا۔ نہ کہ یہ کہ جنید اکبر صاحب کارکنان کو بلواسطہ گھروں میں بیٹھنے کا کہہ رہے ہے۔ علی امین گنڈاپور صاحب کے دور میں بھی تنظیم کے سارے معاملات وزیر اعلیٰ ہینڈل کرتا تھا اب بھی وہی دہرایا جا رہا ہے ۔ تو آگر یہی سب کرنا ہے تو پھر سلمان اکرم راجہ ، جنید اکبر صاحب سمیت سینکڑوں کی تعداد میں جو تنظیموں عہدیداران ہے أن کا کیا فائدہ ؟ عمران خان صاحب کی رہائی کے لئے حقیقی طور پر نکلنے کے لئے رستہ یہی ہے۔ کہ صوبوں کے صوبائی عہدیداران سے لیکر آخر یو سی ، وی سی سطح تک تنظیموں کو بحال کیا جائے۔ ورنہ جس آئی ایس ایف ، یوتھ ونگ پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے۔ ہمیشہ پارٹی کی یہی دو تنظیمیں ہر جگہ پر نکل آتی ہے اور اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود اکثریت لوگ حقیقی طور پر عمران خان صاحب کے ساتھ مخلص ہے مگر أن لوگوں کو پارٹی کی تنظیمی اور اندرونی معاملات کا بہت کم علم ہوتا ہے۔ پارٹی کے ہر ممبر کے لئے پارٹی کی تنظیم کو جاننا ضروری ہے تب بندہ اصل نشانے پر تنقید کر سکے گا۔ ہمارا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ سہیل آفریدی صاحب کو بیٹھنا چاہیے بلکہ مقصد یہ ہے کہ عمران خان صاحب کو حقیقی طور پر رہا کرنے کے لئے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ہر عہدیدار کو أسی طرح ایکٹیو ہونا ہوگا جس طرح یہ تمام عہدیداران 8 فروری کے وقت ایکٹیو تھے۔ تمام عہدیداران کو مل کر اپنے ساتھ عوام کو أسی طرح انگیج رکھنا ہوگا جس طرح 8 فروری کے وقت انگیج کیا تھا۔ ورنہ خرم ذیشان بھائی کی بات ٹھیک ہے کہ 26 نومبر کے بعد ابھی تک کوئی ایسا احتجاج نہیں ہوا ہے جو عمران خان صاحب کے رہائی میں کامیابی کا سبب بنا ہو۔ اس کی کی خاص وجہ کہ ہر بندہ ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈال رہا ہے ورنہ ہر بندے کو معلوم ہے کہ کس کی کون سی ذمہ داری ہے۔ ابھی بھی وقت ہے۔ کہ آگر حقیقی طور پر عمران خان صاحب کو رہا کرنا ہے تو سلمان اکرم صاحب جو پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہے أن کو اپنے ساتھ تمام تنظیمیں عہدیداران کو سرگرم رکھنا ہوگا تب بات بنی گی۔ اس کے علاؤہ آگر کوئی جان بوجھ کر زمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ صاحب پر ڈال رہے ہے تو بھی بات نہیں بنی گی۔ پارٹی کے تمام ذمہ داران اب عید گزرنے کے بعد ایک ٹیبل پر بیٹھ جائے اور عوام کے سامنے عمران خان صاحب کے رہائی کے حوالے سے لائحہ عمل سامنے رکھے ۔ رہی بات عوام کو ، کارکنان کو گولیوں سے ڈرانے کی تو کارکنان سے زیادہ گولیاں کھانے کا حق تنظیمی عہدیداران کا، عیاشیاں کرنے والوں کا ہے۔ کارکنان نے اپنی طرف سے کافی قربانیاں دی ہے اب باری عہدیداران ، ایم پی ایز ، ایم این ایز اور ٹکٹ ہولڈرز کی ہے۔
نوٹ : ہمارے ساتھ آئی ایس ایف سمیت پارٹی کی کسی تنظیم کا کوئی عہدہ نہیں ہے مگر الحمدللہ عمران خان صاحب کے لئے بغیر کسی لالچ مفاد کے ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کیا ہے شکریہ
آپ سب کو میری طرف سے عید الفطر مبارک ہو۔
تاریخ گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ دوسروں کی بہت خوبصورت تصاویر بنائی ہیں.لیکن آج تک کسی نے میری اچھی تصویر نہیں بنائی اسی لیے مجھے ہمیشہ خود ہی سیلفی لینی پڑتی ہے🤳
لشکر بھی تمہارا ہے سردار بھی تمہارا ہے
تم جھوٹ کو سچ لکھ دواخبار بھی تمہارا ہے
خونِ مظلوم زیادہ نہیں بہنے والا
ظلم کا دور بہت دن نہیں رہنے والا
اِن اندھیروں کا جِگر چیر کے نور آئے گا
تم ہو فرعون تو موسیٰ بھی ضرور آئے گا
President Trump has vowed to obliterate Iran's missile production facilities and naval forces, issuing a stark warning to the Iranian military: surrender or face annihilation.
خیبرپختونخوا کا ٹریفک کا اہلکار آصف رضا جو اپنی ایمانداری اور دیانتداری اور اچھے اخلاق کی وجہ سے مشہور ہے وہ مریم نواز کی چمچوں کی طرح باری جرمانے نہیں لگاتا بلکہ غریبوں کی مدد کرتا ہے آپنے جیب سے
@MaryamNSharif
آپ کی نظر میں صحافت کیا ہے؟
صحافت کی حقیقی تعریف کیا ہے ؟
کیا صحافی کا کام صرف خبر آگے پہنچانا ہے؟
یا خبر کی تحقیق کر کے اسے صحیح یا غلط ثابت کرنا ہے؟
یا ہر خبر کی بنیادی حقیقت قوم کے سامنے لانا ہی اصل صحافت ہے ؟
آپ کی نظر میں صحافت کیا ہے؟
صحافت کی حقیقی تعریف کیا ہے ؟
کیا صحافی کا کام صرف خبر آگے پہنچانا ہے؟
یا خبر کی تحقیق کر کے اسے صحیح یا غلط ثابت کرنا ہے؟
یا ہر خبر کی بنیادی حقیقت قوم کے سامنے لانا ہی اصل صحافت ہے ؟
بندے نکل رہے ہے
لیکن کوئی نکلوانا نہیں چاہتا۔
تحریکی ، دھرنے محض ٹویٹس کے ہدایات ، یا کمبل کے ہدایات سے کامیاب نہیں ہوتی۔
جتنے بھی تنظیمی عہدیداران ہے أن کو کشتیاں جلانی ہوگی تب لوگ نکلیں گے.
انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن اقراء یونیورسٹی ۔
اقراء یونیورسٹی کے طلباء جو دھرنے میں مقابلہ کرنے کے لئے آخری وقت تک ڈٹ کر کھڑے رہیں
یہ وہی طلباء ہے جن کو برگرز کہا جاتا تھا ۔
صوابی دھرنے کی آخری لمبی رات۔
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہے ۔
آپ اپنی نظر میں دھرنا ختم ہی سمجھے مگر ہم ابھی بھی صوابی سے نہیں گئے کیمپس دوبارہ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہے لوگ آرہے ہے لگے نوجوان دوبارہ ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہے لیکن سڑک کھولا ہوا ہے مگر افسوس کہ بغیر قیادت کے کارکنان کو سڑکوں پر چھوڑنا بھیڑیوں کے آگے رکھنا ہے جن کو ہر طرف سے ہر سازش سے کمزور کیا جا سکتا ہے۔ خیر کل رات جب پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری دھرنا منتشر کرنے پہنچی تو کارکنان مزاحمت میں ڈٹے رہے۔ ہم آئی ایس ایف کے ایک عام ممبر کی حیثیت سے جتنا اختیار رکھتے تھے، اتنا کردار ادا کیا۔ اپنی چھوٹی پرائیویٹ اقراء یونیورسٹی سے ہر سرگرمی میں طلبہ کو ساتھ لائے، اور پشاور ISF میں , آئی ایس ایف کیمپس کے طلباء ہماری آئی ایس ایف اقراء یونیورسٹی کے طلبہ اور آئی ایس ایف خیبرپختونخوا کے ترجمان سمیت ہماری صوبائی قیادت ہی آخر تک سڑکوں پر موجود رہے۔ کارکنان اور قیادت کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ڈٹ کر کھڑے رہے۔
ہم دوبارہ واضح کردے کہ ہم فیصلہ ساز نہیں ہے۔اگر ہمارے پاس ضلعی یا صوبائی سطح کا اختیار ہوتا تو شاید وہ فیصلے کرتے جو کچھ لوگ چاہتے تھے، مگر پرامن دھرنے میں جذباتی طور پر جان قربان یا جان بوجھ کر گرفتارییں دینا عقلمندی نہیں۔دھرنے کے نتائج کا اندازہ سب کو تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ یہ تمام مطالبات فوری حل نہیں ہوں گے، لیکن مزاحمت کا سفر ضروری تھا۔ دھرنا ختم ہونا جدوجہد کا خاتمہ نہیں، اور نہ ہی یہ ہار ہے۔
چاہے 26 نومبر ہو یا کوئی اور مقام، سچ یہ ہے کہ قیادت سے زیادہ ہم بطور عوام ذمہ دار ہیں۔ کل رات کی مثال سامنے ہے؛ اس اعصاب کی جنگ میں کئی بڑے نام، ٹک ٹاکرز اور ورکرز وقت سے پہلے چلے گئے۔ رات گزرنے کے ساتھ تعداد کم ہوتی گئی۔ اسی دوران پولیس اور ایف سی پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر پہنچی۔ تعداد کم ہونے کے باوجود کارکنان پُرعزم تھے، مگر شاہد خٹک سمیت نوجوان قیادت مسلسل یہی کہتی رہی کہ احتجاج پرامن رہے۔
ہم چاہتے تو دھرنا جاری رکھتے، مگر سوال یہ تھا: کیا محدود تعداد کے ساتھ دوبارہ اسے کامیاب کر پاتے یا ایک اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرتے؟ افراتفری میں جب چند مخصوص افراد کے علاوہ کوئی ساتھ نہ ہو تو اگلا لائحہ عمل سوچنا ضروری ہوتا ہے۔
یہ جدوجہد طویل ہے، اور اس کی پہلی شرط باہمی برداشت ہے۔ صوابی دھرنے کے دوران سوشل میڈیا پر اختلافات ہوئے، مگر مقصد گراؤنڈ پر موجود قیادت کو متنازع بنانا نہیں تھا۔ تنقید اُن لوگوں پر ہونی چاہیے جو گھروں میں بیٹھ کر صرف عمران خان کا نام استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گراؤنڈ پر موجود مخصوص قیادت نہ ہوتی تو دھرنا پہلے ہی ختم ہوچکا ہوتا۔
خیبرپختونخوا میں دھرنے کے خاتمے کا سارا ملبہ نہ صوبائی حکومت پر ڈالنا چاہیے اور نہ گراؤنڈ قیادت پر۔ اصل مسئلہ عدالتی نظام کا ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ کے احکامات برسوں زیرِ التوا رہتے ہیں، دوسری طرف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہو تو ایک دن میں سماعت اور فیصلہ آجاتا ہے۔ یہی تضاد نوجوانوں کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ہم پر گراؤنڈ قیادت کے دفاع کا لیبل لگایا گیا، مگر ہم نے ہمیشہ وہی لکھا اور بولا جو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سوشل میڈیا واریئرز اور اوورسیز پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ہر دکھائی جانے والی چیز مکمل حقیقت نہیں ہوتی۔ ایسے وقت میں تقسیم صرف عمران خان کو نقصان پہنچاتی ہے۔
بطور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن اقراء یونیورسٹی کا ایک ممبر، ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ فوکس عمران خان پر رکھنا ہے، متحد رہنا ہے، آئندہ کی حکمتِ عملی سوچنی ہے۔ لڑنے کے بجائے جڑے رہنا اور ڈٹے رہنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
پاکستان زندہ باد
عمران خان پائندہ باد
تحریر : عامر چمکنی