راولاکوٹ کی جلسہ گاہ میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن عمر نظیر کی اپیل پر خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بچوں نے اسکول یونیفارم پہن رکھی تھی جبکہ خواتین کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے ہیں۔ بچوں نے "ہمارے مطالبات منظور کریں" سمیت مختلف مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے ہیں۔ جلسے میں ملی نغمے، تقاریر اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے مطابق کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی خواتین اور بچوں کو احتجاج میں شرکت پر مجبور کر رہی ہے اور انہیں بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس سے بڑی زیادتی اور عدلیہ کے لئے باعث شرم بات کیا ہو گی کہ ایک ٹویٹ پر ایمان مزاری کو سترہ سال کے لئے قید میں ڈال دیا۔ کیا کسی کو محض ایک ٹویٹ پر اس کے زندگی کی قیمتی سال ضائع کرنے چاہئیں؟ اس خاتون کے جو پڑھی لکھی ہے غریبوں کی ہمدرد وکیل ہے۔ دنیا میں پاکستان کاایک روشن چہرہ ہے.
قاضی فائز عیسیٰ کو آج وہ بھی نشانہ بنا رہے ہیں جو انکے فیصلوں کے دیوانے ہوا کرتے تھے۔
آج والے ججز بھی ایک دن ریٹائر ہو جائیں گے۔ انکے فیصلے ان پر بوجھ بن جائیں گے۔ انکی آنیوالی نسلیں اپنے تعارف میں سے انکا نام حذف کر دیں گے۔
تاریخ بڑی ظالم شے ہے۔۔۔
اطہر من اللہ نے عمران خان سے نواز شریف کی زندگی کی ضمانت مانگی۔۔۔
اطہر من اللہ نے آدھی رات کو 12 بجے عمران خان کے خلاف عدالت کھولی
اطہر من اللہ نے عمران خان کی دو دونوں اسمبلیاں توڑنے پر 90 روز میں الیکشن کرانے میں رکاوٹ پیدا کی
اطہر من اللہ نے نواز شریف کی سزا معطل کی
اور آج ان کا ضمیر جاگ گیا ہے کہ جی وکلا تحریک چلے
جو کام پی ٹی آئی قیادت کو کرنا چاہئے تھا ، وہ علیمہ خان کو کرنا پڑ رہا ہے۔ کتنے مہینوں سے وہ کہہ رہی تھیں لیکن کسی نے نہ سنا۔ آج وہ خود میدان میں نکل آئی ہیں۔ پر سوال یہ ہے کہ عوام اور کارکنان ان کے ساتھ جڑیں گے؟
جتنی رسوائی قاضی کی لندن میں ہوئی تھی آج اس سے زیادہ رسوائی آج اس کی مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ ریورس ہونے سے ہوئی ہے۔
یہ رسوا ہوتا رہے گا انشااللہ