کوٸ کامل پیر فقیر دسو
جیہڑا دل دے نال دعا دیوے
مایوس ہاں میں بہت عرصے توں
میرے روندے نین ہسا دیوے
کھاوے رحم مجبور دی حالت تے
مینوں دید دی مرشد دعا دیوے
نہ گھر منگدا نہ زر منگدا
بس مرشد یار ملا دیوے
نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں
مصرے اٹکے ہوئے ہے ہونٹوں پر
لفظ کاغذ پہ اترتے ہی نہیں
اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح
کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم
سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام تیرا
بس تیرا نام ہی مکمل ہے
اس سے بہتر بھی نظم کیا ہو گی