چرچا بہت ہے شہر میں جس خوش لباس کا
رکھا ہوا ہے میں نے بھرم اس اداس کا
وہ خاک فاصلوں کے معانی بتائے گا
جو فرق جانتا ہی نہیں دور پاس کا
کیا ظلم ہے کہ وہ میری قیمت لگاتے ہیں
وہ جن سے ریٹ طے نہیں ہوتا کپاس کا
اس کو بھی بادشاہ کی بیٹی سے عشق ہے
لگتا ہے یہ فقیر بھی اپنی کلاس کا
ورنہ تمہارے دل میں ٹھہرنے کے ہم نہیں
پہلے علاقہ خالی کرو آس پاس کا
وہ چاند گھاٹیوں سے نکلتا ہے اس طرح
جیسے کہیں پہ پھول کھلا ہو کپاس کا
***
ایسے ہی تو لپکتے نہیں پارسا ' ادھر
جانی ! نشہ الگ ہے ہمارے گلاس کا
عمران عامی
#حمزہ