کیا اِن جیسے بے غیرت حرامزادے لفافے صحافیوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا؟ یہ کھلے عام پی ٹی آئی کی اور عمران خان کی سپورٹرز عورتوں کو کھلے عام گندی گندی گالیاں دے رہا ہے۔ اس ٹکّلے کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا؟
اگر یہی کسی پی ٹی آئی کے بندے یا صحافی نے کہا ہوتا نون لیگ کو یا پیپلز پارٹی کو تو ایک ٹکّلے کی ٹوئی میں مرچیں لگ جاتیں۔ تب تو یہ اپنی رنڈی رونا شروع کر دیتا کہ میری ماں بہن کو گالی دی، میری ماں بہن کو گالی دی۔
اس ٹکّلے کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا؟ حرامزادہ کھلے عام سب کو گالیاں دے رہا ہے۔ اس کو گالیاں دیں گے، اس کی ماں بہن کو گالی دیں، اس کی رنڈی بیوی کو کوئی گالی دے تو اس کی ٹوئی میں مرچیں لگ جائیں گی، کمینہ!
نورین نیازی کی عمران خان سے ملاقات ختم نورین نیازی اور خان کی ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی۔
ملاقات جیل کانفرنس روم میں کرائی گئی نورین نیازی جیل سے گورکھپور فیکٹری ناکے پر پہنچ گئیں۔نورین نیازی نے میڈیا سے کوئی بات نہیں کی۔
نورین نیازی کی علیمہ خان سے مشاورت جاری۔
جیل ذرائع
Bushra Bibi showed extreme courage behind bars for Imran Khan. Locked up, isolated, yet she never broke, never bowed.
We don't talk about her sacrifice enough. Respect for the lady who stood like a mountain when it mattered most.
@shazbkhanzdaGEO We have seen you spitting shit about Imran Khan's wife on your show. Is she not a woman?
Tumhari aurtein, aurtein. Hamari aurtein janwar?
Yuck thoo on your lifafaf sahafat.
For the past few days, I’ve been watching some of our so-called journalists obsessively posting about the Sarhad University incident, defending the colonel and his wife by arguing that “she is a woman,” that she has her honour, that she is a wife, and that her husband was simply trying to protect her honour.
But what genuinely shocks me is this: not one of these journalists has shown even a fraction of the same outrage for five-year-old Ayat Noor, who was raped and murdered. Or three year old Aizal, who was raped and murdered. Or Hina Javed, who was murdered by her own husband after marriage.
And these are not isolated cases. Every single day, we hear about another case of rape and murder. Rape and murder. Rape and murder. And I keep repeating it because these are not even adult women. These are tiny children, three, four, five, six years old, being raped and murdered.
Yet I have not seen a single one of these journalists express the kind of rage, outrage, and desperation for these innocent children that I have seen them display while defending the colonel’s wife.
Why?
Were these little girls not someone’s daughters? Did they not have families? Did they not have honour? Did their lives not have value?
Or is a woman’s honour only worth defending when she is your daughter, your relative, or the wife of someone from the armed forces?
Do the daughters of ordinary civilians not matter? Does their dignity, safety, and honour have no value?
Because if your outrage only appears when it involves someone from your own circles, while the rape and murder of innocent little girls barely earns you a post, a condemnation, or even a fraction of the same anger then what exactly are you defending?
Shame on this kind of lifafa journalism.
Your selective outrage is not journalism. It is hypocrisy.
#JusticeforAyat
#JusticeforAizal
#JusticeforHina
@kabeerraja786 Chall hatt haramzaday ghasti maa ki gandi aulaad! Kanjar sala takla! Haram ka pilla! Suar ki aulaad. Teri maa gashti tera baap suar teri biwi randi!
کل سرحد یونیورسٹی کے واقعے کے بعد مجھے ایک بار پھر یہ احساس شدت سے ہوا کہ شاید پاکستان میں عام شہری اور سویلین کی جان، عزت اور وقار کی کوئی قیمت نہیں، جبکہ فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے پورا نظام فوراً حرکت میں آ جاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے اس ملک میں صرف فوجی اور ان کے خاندان انسان ہیں، باقی عام شہری محض کیڑے مکوڑے ہیں جن کے ساتھ جو چاہے سلوک کیا جائے۔ عام شہری کی عورت عورت نہیں، اس کی عزت عزت نہیں، اس کا دکھ دکھ نہیں۔ لیکن اگر کسی فوجی کی بیوی کے ساتھ کوئی بدتمیزی کر دے یا اس سے کوئی تلخ بات کہہ دے تو اچانک پورا ملک، پورا میڈیا اور نام نہاد دانشور اس کے دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اور سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ میں ہمارے سامنے کئی ایسے دل دہلا دینے والے واقعات آئے جن میں معصوم، کم سن بچیوں کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔ ان بچیوں کے لیے وہ شور کہاں تھا؟ وہ صحافت کہاں تھی؟ وہ حکومتی ایکشن کہاں تھا؟ وہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار کہاں تھے؟
ان معصوم بچیوں کے خاندان بھی پاکستانی شہری ہیں۔ ان کی بیٹیاں بھی پاکستانی بیٹیاں ہیں۔ ان کی ماؤں کا درد بھی اتنا ہی حقیقی ہے جتنا کسی طاقتور خاندان کا درد۔
لیکن جب معاملہ ایک فوجی خاندان کا ہو تو اچانک ہر طرف سے آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ صحافی میدان میں آ جاتے ہیں، تجزیہ کار پروگرام کر لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر جب ایک غریب شہری کی پانچ یا چھ سال کی بچی زیادتی کے بعد قتل ہوتی ہے تو چند دن بعد وہ خبر بھی باقی خبروں کے نیچے دفن ہو جاتی ہے۔
کیا یہی انصاف ہے؟
اور ان نام نہاد لفافہ صحافیوں سے میرا سوال ہے: اگر آپ واقعی صحافی ہیں تو اپنی آواز صرف طاقتور لوگوں کے لیے کیوں استعمال کرتے ہیں؟ ان معصوم بچیوں کے لیے آپ کی آواز کہاں تھی؟ ان کے قاتلوں اور زیادتی کرنے والوں کے خلاف آپ نے اتنی ہی شدت سے سوال کیوں نہیں اٹھایا؟
مجھے کسی عورت کے ساتھ زیادتی یا بدسلوکی کی حمایت نہیں۔ کسی بھی شہری کی عزت اور تحفظ ضروری ہے، چاہے وہ فوجی ہو یا سویلین۔ لیکن اصول ایک ہونا چاہیے۔ اگر ایک فوجی کی بیوی کی عزت اہم ہے تو ایک عام پاکستانی شہری کی بیوی اور بیٹی کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہونی چاہیے۔
یہ ملک کسی ایک طبقے کا نہیں۔ پاکستان کے عام شہری بھی انسان ہیں، ان کی زندگیاں بھی قیمتی ہیں، ان کی بیٹیاں بھی عزت اور تحفظ کی مستحق ہیں۔
اگر ریاست اور میڈیا صرف طاقتور کے درد کو درد سمجھیں اور عام شہری کے بچوں کے قتل، زیادتی اور ظلم پر خاموش رہیں، تو پھر سوال اٹھے گا کہ آخر اس ملک میں انصاف کس کے لیے ہے؟
کیا پاکستان میں واقعی صرف طاقتور انسان ہیں اور باقی سب کیڑے مکوڑے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے۔
اس ٹکّلے کو صحافی اور اتنا بڑا تجزیہ کار کس نے بنا دیا؟ اتنا جھوٹ بولتے ہوئے ذرا بھی شرم نہیں آتی؟
ویڈیو میں صاف صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ اپنے آفس سے باہر نکلی، لیکن یہ ٹکلا اب جھوٹ بول رہا ہے کہ اسے یونیورسٹی کے اندر آنے ہی نہیں دیا جا رہا تھا۔
چند دن پہلے یہی لوگ کہہ رہے تھے کہ اسے یونیورسٹی سے باہر نہیں جانے دیا جا رہا تھا، اسی لیے اس کے شوہر کو آ کر اسے بچانا پڑا۔ اب کہانی بدل گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اسے یونیورسٹی کے اندر آنے نہیں دیا جا رہا تھا، اس لیے اس کا شوہر اسے بچانے آیا۔
بھائی، آخر ایک ہی واقعے کی اتنی مختلف کہانیاں کیوں؟ ویڈیو میں سب کچھ واضح ہے، پھر یہ جھوٹ کس بنیاد پر بولا جا رہا ہے؟
تم لوگوں کی نام نہاد صحافت پر لعنت ہے۔ ہر بار حقائق کے بجائے اپنی مرضی کی کہانی بنا کر عوام کو گمراہ کرتے ہو اور پھر خود کو صحافی کہتے ہو۔ اگر ویڈیو ثبوت موجود ہے تو اسے دیکھو، حقیقت بیان کرو اور جھوٹ بولنا بند کرو۔
صحافت کا مطلب پروپیگنڈا کرنا نہیں ہوتا۔ صحافت کا مطلب سچ، ثبوت اور حقائق عوام کے سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ اگر تم یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر صحافت کے نام پر یہ تماشا بند کرو۔
اور ناظرین اس فوٹیج سے ایک معاملہ کلیر ہوگیا ہے کہ کرنل اہلیہ کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور پھر اس کے بعد جتھہ نے ایک نہتی خاتون پر حملہ کیا تو پھر ایک غیرت مند خاوند نے اپنا حق ادا کیا
@kabeerraja786 Hahahhaha taklay pehle keh rahay thay ke usse bahar nahi janay de rahay thay ab keh rahe ho ke usko andar nahi anay de rahay thay. Tere baap ki randi hai yeh jo mirchein lag rahi tui mai?