رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رَحم ( خونی رشتوں کا سارا سلسلہ ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے : جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے گا اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے گا ۔
(مسلم،کتاب حسن سلوک،۶۵۱۹)
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
(بخاری،۲۰۷۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
" جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے”
فرمایا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
(مسلم،کتاب الجمعہ ،۱۹۷۳)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے ۔
(سنن ابی داؤد، ۳۵۷۵)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
(صحیح بخاری، ۳۳)
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :-
مجھے ایک ایسے شہر ( میں ہجرت ) کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو کھا لے گا۔ ( یعنی سب کا سردار بنے گا ) منافقین اسے یثرب کہتے ہیں لیکن اس کا نام مدینہ ہے وہ ( برے ) لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔
(بخاری،۱۸۷۱)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
نہ میری قبر کو عید بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔
(مسند احمد، ۵۷۰۴)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ آدمی کی بہترین خوراک وہ ہے جو وہ اپنی محنت سے کما کر کھائے ۔ اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہی ہے ۔‘‘
(سنن نسائی، ۴۴۵۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
ایک عورت کہتـی ھے کـہ شادی کے 17 سال بعد میں اس نتیجـہ پر پہنچـی . . کـہ مــرد خدا کی خوبصورت ترین مخلوق ھے.
وہ اپنـی جوانی کو اپنـی بیوی اور بچـوں کیلئے قــربان کـرتا ھے
یہ وہ ھستی ھے جو پوری کوشش کـرتا ھے کہ اس کے بچوں کا آیندہ مستقبل۔ خوبصورت اور اچھا بنے
لیکن اس قـربانی کے بدلے ھمیشہ اس کی سرزنش کی جاتـی ھے
اگـر کبھی فـریشمنٹ کے لئے گھـر سے باھـر قـدم رکھے تو بے پرواہ
اور اگـر گھـر میں رھے تو سست اور بیکار
اگـر بچـوں کو غلطـی کـی وجـہ سے ڈانٹے تو وحشی
اگـر بیوی کو نوکـری سے روکے تو متکـبر اور رعب جمانے والا
اگـر ماں سے دلجوئی کـرے تو ماں کا لاڈلا
اور اگـر بیوی سے پیاری باتیں کرے تو بیوی کا مـرید
اس کے باوجود مـرد دنیا کی وہ ھستی ھے جو اپنے بچـوں کو ھـر اعتبار سے خود سے بھتر دیکھنا چاہتا ھے
باپ وہ ھستی ھے جو اپنے بچـوں سے نا امیدی کے باوجود عشق کـرتا آور ھمیشہ ان کـی بہتری کے لئے دعا کـرتا ھے
باپ وہ ھستی ھے جو اپنے بچـوں کی اذیتوں کو برداشت کـرتا ھے جب وہ اس کے قـدموں پر قـدم رکھ کـر کھیلتے ھیں اور جب بڑے ھو کـر باپ کے دل پر قـدم رکھتے ھیں
باپ وہ ھستی ھے جو اپنـی بہترین ثروت بلکـہ جو کچھ اس کے پاس ھے اپنـی اولاد کو بخـش دیتا ھے
اگـر ماں اولاد کو 9 مہینے پیٹ میں اٹھاتی ھے
تو باپ پوری زندگـی اپنے فکــر و دماغ میں لئے پھرتا ھے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہیں بھیج لیتے۔
(جامع ترمذی،۴۸۶)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دو ۔‘‘
(سنن ابن ماجہ،۲۴۴۳)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس طرح دعا فرماتے:
"اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر کر دے۔
(بخاری، ۱۸۹۰)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عقلمند وہ ہےکہ جواپنےنفس کومطیع رکھے اور موت کےبعدکی تیاری کرے، اور بےوقوف وہ ہےکہ جواپنےنفس کی پیروی کرے اور اللہ پر امیدیں باندھے۔
(ترمذی، ۲۴۵۹)