درخت 🌲 لگائیں
آپ پریشان ہیں درخت 🌲 لگائیں
آپ خوش ہیں درخت 🌲 لگائیں
آپکی شادی ہوئی درخت 🌲 لگائیں
اولاد پیدا ہوئی درخت 🌲 لگائیں
کوئی عزیز دنیا سے چلا گیا 🌲 لگائیں
بچہ سکول جانا شروع ہوا درخت 🌲 لگائیں
کوئی آپ کے پیسے کھا گیا درخت 🌲 لگائیں
ڈوبے پیسے ملیں درخت 🌲 لگائیں
اگر آپ کسی کو بتاؤ گے کہ مولانا ظفر علی خان چوک سے سموسے کھائے تو اگلا پریشان ہو جائے گا، لیکن اگر بتاؤ کہ آپ نے لکشمی چوک سے بینظیر سموسہ کھایا تو سننے والے کی روح تروتازہ ہو جائے گی۔
Islampura was never a historical name. It had always been krishan nagar. Islampura was a name given to the area in the 90s, and it never suited. My parents always said krishan nagar, and kept using that (they grew up in krishan nagar)
Dumb tweet.
@CherieDamour_ I know a woman who used to file cases against rich people and after winning the case, she marries the lawyer. 5 years ago she had married 3 lawyers already.
ہماری روشن تاریخ۔۔۔۔۔
ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک ہندوستان کی دھرتی کسی دوسرے ملک و قوم کو لوُٹے بغیر دنیا میں سب سے امیر ترین دھرتی تھی، یہ وہ دھرتی تھی جہاں سونے کا سکہ چلا کرتا تھا، یہاں کے امراء سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا کھاتے تھے، سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کی اس قدر کثرت تھی کہ امراء کے ہاں انعام کے طور پر ہیروں کی مالا دے دینا معمول تھا۔ دنیا میں سب سے پہلی ہیروں کی کان ہندوستان ہی میں دریافت ہوئی۔
ہیرے کا انمول ہونا دنیا نے سرزمینِ ہندوستان سے ہی سیکھا۔ ہندوستان پہنچ جانا یورپئیوں، عربوں، وسط ایشیائی، ایشیا بعید والوں اور افریقیوں کا ایک خواب ہوا کرتا تھا۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جب نادر شاہ محمد شاہ رنگیلے کو شکست دے کر تخت طاؤس اور کوہِ نور ہیرا لے کر گیا تو دہلی میں بادشاہ کا خزانہ تین سو زائد اونٹوں (بعض جگہوں پر ایک ہزار اونٹ لکھا ہے) پر لے کر گیا، یہ خزانہ سونے چاندی کے برتنوں، ہیرے جواہرات اور نایاب اور قتیمی نگینوں پر مشتمل تھا۔
آپ یہی دیکھ لیں کہ تاج محل اگر آج کے دور میں بنایا جائے تو اسکی انڈین کرنسی میں لاگت تقریباً ستر ارب روپے آئے گی۔ ستر ارب روپے کئی صوبوں اور ریاستوں کا آج کے دور میں سالانہ بجٹ ہوتا ہے۔
یہاں کے کاریگروں، یہاں کی مصنوعات اور یہاں کا دفترِ طعام دنیا بھر میں سب سے عمدہ، نرالا اور لذیذ ترین تھا، یہاں سے شروع ہوئے علوم اور کھیل آج کے دور میں بھی دنیا بھر میں رائج ہیں۔
پھر اس دھرتی کو مسلمان ٹکر گئے، افغان غزنوی، غوری، لودھی اور پھر ابدالی، ایرانی نادر شاہ، ترک سلجوق، عرب ابنِ قاسم، وسط ایشیائی مملوک، بابر اور تیمور نے دھرتی کو اس قدر لوٹا کہ ابنِ قاسم سے لے کر ابدالی تک تقریباً ایک ہزار سال تک کے عرصے میں سوائے چنگیز خان اور چند ایک پرتگالیوں کے باقی تمام کے تمام مسلمان ہی باہر سے آ کر اس دھرتی کو لوٹتے کھسوٹتے رہے، جو اندر والے مسلمان مفکرین تھے وہ اسی فکر میں رہتے کہ اسلام نافذ کروانے کیلئیے اب کس کو خط لکھ کر بلوائیں۔۔۔ یوں وہ بیرونی حملہ آوروں کو خط لکھ لکھ کر بلاتے رہے، بیرونی حملہ آور آتے، مزید اسلام نافذ کرتے، ستر اسی ہزار گردنیں اتارتے اور جاتے ہوئے خزانے پر بھی ہاتھ پھیر جانتے۔ اس کے باوجود یہ دھرتی ایک ہزار سال تک لٹتی رہی۔
انگریز کے آنے تک پیالے میں تلچھٹ ہی باقی رہ گئی تھی، کہا جاتا ہے کہ صرف ایک سو تہتر سال کے عرصے میں انگریز ہندوستان سے آج کے 45ٹریلئین ڈالرز کے برابر لوٹ کھسوٹ کر گیا۔
الحمدللہ اسلام تو نافذ ہو گیا۔۔۔مگر مسئلہ یہ ہوا کہ اپنا گھر لٹوا لٹوا کر ہاتھ میں باقی کچھ نہیں بچا، اور یوں آج دنیا بھر میں کشکول اٹھائے پھرتے ہیں۔
ہماری روشن تاریخ۔۔۔۔۔
Came home to Motia fully blooming, out of habit picked flowers which would have wilted by morning, missed so much my Naani and mother. Wahaan kon hai tere musafir tu jayeega kahan.
تاریخ سے ہماری دلچسپی اتنی ہی ہے کہ ہم میں سے شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد ہماری تاریخ ایک دم سے جھپکا مار کر خاموش کیوں ہو جاتی ہے اور پھر اچانک بہادر شاہ ظفر کے دور میں ایک دم سے کیوں بیدار ہو جاتی ہے؟
اسکی حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد کی تاریخ+