اپنی جماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ پوری قوم جانتی ہے کہ ہماری قیادت پر ایسے حملے کون کروا رہا ہے۔ یہ وہی قوّتیں ہیں جو پردوں کے پیچھے چھُپ کر وار کرتی،اپنے ٹاؤٹوں، اپنے مہروں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلاتی، ججوں کو دھمکاتی اور پوری ڈھٹائی سے انتخابی نتائج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے پورے انتخابی عمل کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیتی ہیں۔
کان کھول کر ہماری بات سُن لیں کہ پاکستان تحریک انصاف ان مکروہ ہتھکنڈوں اور پُرتشدد کارروائیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوگی جن سے اس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا کہ شرپسند قوم کے سامنے مزید بےنقاب ہوتے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں ناحق قید بانی چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا خصوصی پیغام!
13 مئی 2024
(۱)
اس ملک کی بد قسمتی ہے کہ یہاں ایک خود ساختہ ”بادشاہ سلامت“ فیصلے کرتے ہیں۔ جب کسی ملک میں حکومت ایسے لوگوں کو ملتی ہے جن کے پاس مینڈیٹ نہیں ہوتا تو ملک فساد اور انتشار کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہ جو انتشار آج کشمیر میں نظر آرہا ہے اس کے پاکستان بھر میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔پورے ملک میں فارم 47 والی جعلی حکومتیں قائم کر دیں گئیں ہیں۔ جمہوریت کا فائدہ یہ ہے کہ حکومت عوام کی منتخب کردہ ہوتی ہے جس کے پیچھے عوام کھڑے ہوتے ہیں۔ عوام اپنی منتخب کردہ حکومت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اگر کوئی تنازعہ کھڑا ہو جائے تو بات چیت کے ذریعے اس کا حل نکل آتا ہے، مگر جس قسم کی جعلی مسلط شدہ حکومتیں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور پاکستان میں قائم کردی گئی ہیں ان کا عوام سے کوئی رشتہ نہیں چنانچہ ہر جانب بےچینی اور مایوسی ہے۔ فارم 47 زدہ حکومتوں کے خلاف بجٹ کے موقع پر اور شدید ردعمل آئے گا۔ بدقسمتی سے ملک میں ایک مصنوعی سیٹ اپ عوام پر تھوپ دیا گیا ہے، نگران وزیراعظم کاکڑ اور راولپنڈی کے کمشنر نے سچ بیان کر کے اس حکومت کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس حکومت کی بالکل کوئی حیثیت نہیں۔ SIFCجیسا غیر آئینی ادارہ اس ملک پر تھوپ دیا جاتا ہے اور کوئی نہیں بولتا۔ اس کا ایک ہی کام تھا کہ ملک میں پیسہ لائے گا جبکہ پاکستان بزنس کونسل نے کھل کر بتا دیا ہے کہ پیسہ ملک میں آنے کی بجائے باہر جا رہا ہے۔ ایک طرف قوم کو زرعی انقلاب کی ٹرک کی بتی پیچھے لگایا گیا اور دوسری طرف گندم درامد کر کے اربوں کی دیہاڑیاں لگائی گئیں جس سے گندم کا کاشتکار معاشی طور پر قتل ہوگیا۔ اس جعلی سیٹ اپ میں حکومت ان لوگوں کو دیدی گئی ہے جن کی اپنی ساری دولت ڈالر کی شکل میں باہر پڑی ہوئی ہے۔ لیڈر کو قربانی دینا پڑتی ہے اور نواز اور زرداری کا یہ گروہ کسی صورت قربانی نہیں دیے گا نہ ہی یہ لوگ اپنا پیسہ ملک میں واپس لائیں گے ۔ ان کے حرام کے پیسے پر جنرل مشرف اور بعد کے ادوار میں آئی ایس آئی نے مجھ سمیت سب کو خود تفصیلات فراہم کیں اور آج ان کو ہمارے سروں پر مسلط کر دیا گیا ہے اور ان کی صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں۔
اس جعلی نظام کو قوم پر مسلط کرنے کا مقصد صرف اس ایک آدمی کی طاقت میں اضافہ کرنا ہے جس نے اپنی ذاتی طاقت کے حصول کیلئے پورے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ نے واضح کر دیا تھا کہ کس طرح ایک شخص یحییٰ خان نے اپنی ذاتی طاقت بڑھانے کیلئے ملک کو ٹوٹنے دیا۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پاکستان کے ہر شہری کو پڑھنی چاہیے تاکہ سب کو پتا چل سکے کہ یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمن میں سے غدار کون تھا۔
میں اس وقت جیل میں اس وجہ سے ہوں کیونکہ میرے جیل سے باہر ہونے سے بادشاہ کی طاقت کم ہوگی۔
(۲)
9مئی کو صبح پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور پاکستان کے سب سے زیادہ اعزازات/تمغے جیتنے والے شخص کو جس طرح ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا اس کا مقصد عوام کو اشتعال دلانا تھا جبکہ میں نے اس دن صبح اپنے ویڈیو پیغام میں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر میری گرفتاری مقصود ہے تو وارنٹس دکھائیں اور گرفتار کر لیں میری جانب سے کوئی مزاحمت نہیں ہوگی۔ 9مئی سے پہلے 25مئی 2022، 3نومبر 2022، 8مارچ 2023، 14مارچ 2023 اور 18مارچ 2023کو مجھے راستے سے ہٹانے اور میری جماعت کے خلاف طاقت کے بہیمانہ استعمال کے ذریعے ہمیں ہدف بنانے کی کوششیں کی گئیں تاہم میں اور میری جماعت مکمل طور پر پرامن رہے اور کسی قسم کے اشتعال کا شکار ہوئے بغیر آئین و قانون کے دائرے میں اپنی جائز اور قانونی سیاسی جدوجہد آگے بڑھاتے رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر اور چیف آف آرمی سٹاف دھمکی آمیز سیاسی بیانات داغ رہے ہیں اور فوج کو سیاست میں ملوث کر رہے ہیں جس سے فوج کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ جب سیاسی بیانات اور پریس کانفرنسز کی جائیں گے تو سیاسی جماعت ان کا جواب دینے کا حق رکھتی ہیں۔
9 مئی کی صبح میرا ہائی کورٹ سے غیر قانونی اغواء لندن پلان کا حصہ تھا جس پر جنرل عاصم منیر مجھ سے معافی مانگیں۔
1/2
سابق صدر مملکت و سپریم کمانڈر عارف علوی صاحب نے سمندر کو کوزے میں سمو دیا ۔۔
“اسے کہتے ہیں Logically بات کرنا ناکہ بےربط جواز گھڑنا اور بعد میں ایک لمبے عرصے کے لیے غائب ہوجانا”
بانی چئیرمین عمران خان کے ٹیلی گراف میں چھپنے والے آرٹیکل کا اے آئی ورژن
“میں یہ بات واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یا میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو جنرل عاصم منیر اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ لیکن مجھے کوئی خوف نہیں کیونکہ میرا ایمان مضبوط ہے۔ میں غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا“
نومبر ۲۰۲۲ میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد بنی گالہ کے باہر لگے جانثاران کیمپ زمان پارک شفٹ ہوچکے تھے اس لیے ہمارا بھی زیادہ تر وقت لاہور گزرتا تھا۔ پنجاب میں انتخابی طبل بجا تو سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں، تحریک انصاف کی جانب سے پہلی ہی ریلی کے انقعاد پر دھاوا بول دیا گیا۔ درجنوں کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔ شام تک ظلِ شاہ کی تشدد زدہ لاش سڑک پر پھنکی ملی۔۔ یہ ۸ مارچ ۲۰۲۲ کا واقعہ ہے۔ مارچ سال کا تیسرا مہینہ ہے اور مئی پانچواں!
۱۴ مارچ کو خود پر درج ان گنت جعلی ایف آئی آرز میں سے ایک کی ضمانت کے لیے اسلام آباد آیا ہوا تھا، حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر، عدالت میں حاضری کے بعد لاہور واپسی کے لیے نکلا ہی تھا کہ ہمارے ایم این اے جنید اکبر نے اطلاع دی کہ بڑی تعداد میں پنجاب پولیس کے اہلکار عمران خان کی ۱۸ مارچ کی عدالتی پیشی کے وارنٹ پر عملدرآمد کرانے پہنچ گئے ہیں۔ دن کے وقت عموماً کیمپوں پر مقامی لوگ کم ہوتے تھے صرف دور دراز سے آئے کارکن موجود تھے۔ نہتے کارکن کسی مسلح جنگ کے لیے تو ٹرین ہوئے نہ تھے، نہ پولیس کی طرح ہتھیاروں سے لیس تھے، نہ ریاستی اہلکاروں کی طرح monopoly of violence کا گھمنڈ تھا۔ عمران خان کی محبت میں ڈنڈوں، آنسو گیس کے سامنے ڈٹے رہے لیکن کتنا کوئی وقت ڈٹے رہتے؟ اس لیے پبلک کال دی اور قریب کے علاقوں سے کارکنان کو فوراً زمان پارک پہنچنے کا کہا۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ چند گھنٹے سے زیادہ شاید ہی ہم اس معاملے کو کھینچ سکیں، مگر امید تھی کہ اس دوران وکلاء عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر اُس شتر بے مہار کو کوئی لگام ڈال سکیں کہ جو اپنی منشاء سے آئین و قانون کی ناک اور بازو مروڑ کر اپنے گھناؤنے عزائم پر عملدرآمد کراتے آرہے تھے۔ سچ کہوں تو ظلِ شاہ کی موت نے کسی کے دل میں ایسا کوئی گمان بھی نہ رہنے دیا تھا کہ سامنے والے یہ سمجھیں گے کہ ہم ایک ہی ملک کے باشندے فقط آئین و قانون کی عملداری کے لیے برسرِ احتجاج ہیں پھر بھی سب سر پر کفن باندھ کر کھڑے رہے کیونکہ سب جانتے تھے کہ ۴ نومبر پہلا موقع نہیں تھا جو عمران خان کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ نومبر سال کا گیارواں مہینہ ضرور ہے مگر یہ نومبر بھی اُس مئی سے پہلے ہی آیا تھا۔
اگلے ۲۴ گھنٹے کیا کیا ہوا، عمران خان کی قوم نے کیسے عمران خان کی حفاظت کی وہ کہانی تو تاریخ کے لیے لکھی جانی ہے، تین مرتبہ عمران خان نے باہر نکل کر ہمیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہوں نے بہر صورت لندن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔ لیکن سب کی رائے یہی تھی کہ یہ تماشہ فقط گرفتاری کے لیے نہیں لگایا گیا۔
تمام رات اور اگلی صبح زمان پارک میں واقع ملک کے سابق وزیر اعظم، دنیا میں پاکستان کی پہچان، پچاس سال سے پاکستان کے سب سے قابلِ فخر بیٹے کے گھر پر سامنے سے اور ایچیسن کی جانب جانے والی سڑک سے فائیرنگ ہوتی رہی۔ ۳۶ خول تو اگلی صبح میں نے اپنے ہاتھوں اٹھائے۔ آنسو گیس کے شیلوں کی تعداد تو شاید گنتی سے ہی باہر تھی۔ گھر کے دروازوں اور دیواروں کو کرینوں اور بکتر بند گاڑیوں سے توڑنے کی کوششیں ہوئیں۔ اپنے لوگوں پر گولیاں چلائیں گئیں تشدد ہوا۔ یہ سب سال کی تیسرے مہینے میں ہورہا تھا، وہ مہینہ جو مئی سے پہلے آتا ہے!
۲۰۱۳ کے انتخابات کے وقت جب ٹکٹس کے فیصلے ہورہے تھے تو اُس وقت کے پارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے میرے ٹکٹ کی بھرپور مخالفت کی۔ “نوجوان ہے، سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں ہے، نا اپنا کوئی ووٹ ہے نا خاندان کا”۔ صرف ایک شخص تھا جس کو یقین تھا کہ پاکستان بدل چکا ہے اور اِس تبدیلی کا “پوسٹر بوائے” بننا میرے حصے میں لکھا گیا۔ کافی بڑے گھروں میں خطرے کی گھنٹیاں بجیں۔ ان کی نسلوں کے مستقبل کا سوال تھا۔ الزامات کی بوچھاڑ، جعلی ڈگری سے لیکر غلیظ ذاتی حملے ہوئے۔
اگلی حکومت میں عمران خان نے پھر اسی ذی شعور اعلی قیادت کے مخالف جاکر سب سے بڑے بجٹ والی وزارت سونپ دی۔ بڑی بڑی کرسیوں پر لوگ تلملائے۔ اللہ کا کرم تھا اُس نے مجھے عمران خان کا اعتماد قائم رکھنے کی توفیق دی۔ دہشت گردی کی واپسی پر میرا سٹینڈ اور ۹ مئی کے بہانے تو بعد میں ہاتھ آئے کہ جن کے ذریعے مجھے انتخابات سے مائنس کرنے کا جواز ڈھونڈا۔ “ڈی چوک پر پھانسی” کی دھمکی تو باجوہ صاحب نے مجھے مارچ ۲۰۲۲ میں ہی پہنچا دی تھی۔ اور یہ ضروری بھی تھا، میرا نشانِ عبرت بننا ضروری تھا۔مگر مس کیلکولیشن ہوگئی۔ ہم سمجھاتے رہ گئے مگر اپنے گھمنڈ میں سمجھ نہیں پائے۔۔وہ بات جو عمران خان جانتا تھا، جو یہ سمجھ نہیں پائے کہ میں تبدیلی کا پوسٹر بوائے ضرور تھا فقط میں ہی تبدیلی نہیں تھا!
عمران خان نے ہزاروں کی پود اپنے ہاتھوں لگائی تھی۔ اور اُن ہزاروں کے بعد لاکھوں تیار ہیں۔ میں نہیں لڑا۔ میرے ایک یونین کونسل کا ورکر اِن خدائی کے دعویداروں کے حمایت یافتہ امیدوار سے تاریخی لیڈ لے گیا۔
جن خاندانوں کو اتنے سال گھاک سیاست دان نہیں ہرا سکے آج اُس بلور خاندان سے جیت کر یوتھ ونگ کا صدر مینا خان آفریدی حلف لے رہا ہے۔ جس فاٹا کی نشستوں پر ایک خاندان سے دوسرے خاندان کی باریاں لگتی تھیں اُس کے نمائندگی میرے بازو سہیل آفریدی کے پاس ہے۔ وہ جس کو پختونخواہ میں عمران خان کی سیاست کو دفن کرنے کا دعوی تھا، اُس کی رعونت پر آخری فاتحہ پڑھنے والا شاہ احد میرے آئ ایس ایف کا نوجوان ہے۔ پختونخواہ میں مسلم لیگ کے آخری قلعہ ہزارہ پر یوتھ ونگ کے اکرام خان غازی نے انصاف کا پرچم لہرایا، شیر علی آفریدی، شاہد خٹک، اب کتنوں پر کاٹا لگانا ہے؟
مجھے انتخابات سے باہر کر دیا اور میدان سے بھی ہٹنے پر مجبور کردیا لیکن شور کم ہوا کیا؟ مجھ سے اونچا بول رہا ہے صدام ترین، پارلیمان میں جگہ بناتے تو شاید اُسے سال لگ جاتے مگر اُس کا حق چھین کر آپ نے اُس کی آواز دنوں میں گھر گھر پہنچا دی۔ قاسم خان سوری نہیں ہے، تو سالار کاکڑ ہے آپ نے اُس کا مینڈیٹ جس کو بھی دیا عوام کے لیے تو وہی نمائندہ ہے جس کو انہوں نے ووٹ دیا۔ عالمگیر محسود اور ارسلان گھمن کو قیادت سے دور رکھا تھا، اپنے ہاتھوں ان کا راستہ صاف کردیا۔ آج ان کی سیٹیں لے کر اوروں کی جھولی میں ڈال بھی دیں تو کون سی کسی نے عزت سمیٹ لی اور کون سی ہار انہوں نے تسلیم کرلی؟
اور یہ تو وہ نام ہیں جو ہم سُن رہے ہیں۔ دو سال سے پارٹی کو کون زندہ رکھے ہے؟ عمران خان تو چھ مہینے سے جیل میں ہے، مجھ سے فسادی بھی منظر سے غائب ہوگئے۔ جن پہ تکیہ تھا وہ بڑے بڑے نام توڑ دیے؟ “لیڈر” لیڈر نہیں رہے۔ کوئ ہرس و حوس میں لُڑک گیا۔ کوئی جبر کے سامنے ہار گیا۔ کسی نے گھر بار کی عزت بچائی تو کوئی آل اولاد کے نام پر ٹوٹ گیا۔ ایک سہارہ تھا انتخابی نشان کہ کھمبے کو بھی ملا تو لوگ سر آنکھوں پر بٹھائیں گے وہ بھی لے لیا۔ پھر کون تھا کہ جس نے گاجر، مولی، گائے، بھینس، چمٹے، پیالے گھر گھر پہنچائے؟ پاکستان کی عوام، بچے بچے کو ازبر تھا کہ عمران خان کا نشان کون سا ہے! فقط جوان نہیں۔۔ ۸-۱۰ سال کے بچوں کو بھی علم ہے کہ عمران خان کیا ہے!
ایک مراد سعید خاموش ہوا تو اتنی زبانیں کھل گئیں۔ اتنی زبانیں کھینچوگے تو کتنے سر گویا ہونگے کوئی اندازہ ہے؟
آج سے دس سال پہلے ایک بڑے صحافی کا فون آیا تھا، دُکھی تھا، ایک بہت بڑے سیاست دان نے کہا تھا “دیکھو! یہ کیسے لوگوں کو لے آیا ہے عمران خان پارلیمان۔ اب یہ بیٹھیں گے ہمارے برابر؟”۔ آج اور بھی تلملا رہا ہے، عمران خان نے اُس کے ولی عہد کی تاج پوشی کے امکانات خاک کردیے۔ بہت سوں کے قدموں تلے سے زمین سرکی ہے ابھی جبر کے ہاتھوں سے تھامے ہیں تو نہیں لگ رہا، جب ہاتھ تھک جائیں گے (جو کہ تھکیں گے کیونکہ انہیں بڑا بھی خدائی کا دعوی ہو، ہے یہ انسان ہی) تو گمنامی کے اندھیروں میں گُم ہونے کی خواہشوں کو زباں ملے گی۔ تب تک جمے رہنا ہے۔ منزل پر نظر رکھنی ہے۔ اپنا حق واپس لینا ہے۔ برابر نہیں برتر ہو تم۔ مالک ہو تم۔
🧵 اس تھریڈ میں نیشنل اسمبلی کے لئے عمران خان کے نامزد امیدواران کے نام، حلقہ نمبر اور انتخابی نشان کے بارے میں تمام معلومات موجود ہیں۔
پاکستان، 8 فروری کو ووٹ ڈالنا بھی ہے اور ووٹ کی حفاظت بھی یقینی بنانی ہے، اپنے لیے، اپنے بچوں کے لیے، اپنے کپتان کے لیے، اپنے پاکستان کے لیے!
#عمران_خان_کے_امیدوار
#فیصلہ_اب_عوام_کرےگی
اپنی پرچی خود بنائیں
شناختی کارڈ نمبر 8300 پر میسج کریں اسکے بعد جو جواب موصول ہو اس کو پرچی کی شکل میں سوائے پولنگ اسٹیشن کے لکھ کر رکھ لیں اسطرح آپکو الیکشن والے دن باہر پولنگ بوتھ پر پرچی بنوانے کی ضرورت نہیں وقت کی بچت ہو گی اور زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹ کاسٹ کرسکیں گے
آج سے ہی پرچیاں بنا لو بعد میں حکومت کی طرف سے نیٹ ورٹ پرابلم بھی آسکتی ہے