گلگت بلتستان والے پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں، لیکن پھر یاد رکھیں اس کے بعد۔
آپ کے بچے کھلے گٹروں میں گر کر اپنی جان دیں گے۔
سات ماں کی حاملہ عورت بھی کسی ڈمپر کے نیچے آ کر کچلی جائے گی۔
سڑکوں کے نام پر بڑے بڑے گڑھے ملیں گے۔
گیس کے لئے سلینڈر لینا ہو گا۔
بجلی کے لئے سولر لگانا ہو گا۔
پانی کے لئے ٹینکر ڈلوانا ہو گا۔
تعلیم کے لئے مہنگے پرائوٹ اسکول جانا ہو گا۔
بیماری کی صورت میں پرائوٹ علاج کروانا ہو گا۔
بس یوں سمجھ لیں گلگت بلستان بھی پھر دوسرا کراچی ہی بن جائے گا !!
لہذا پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں تاکہ گلگت کی عوام بھی وہ سہولیات اور مزے لے جو پچھلے اٹھارہ سال سے کراچی کی عوام لے رہی ہے پیپلز پارٹی کی حکومت میں۔
وما علینا۔۔۔۔۔
منصور علی خان صاحب کا مئر کراچی کے شکوں پر ایک اور جواب تو سامنے آگیا لیکن ابھی تو @_Mansoor_Ali صاحب نے یونیورسٹی روڈ پانچ سال سے کیوں کھدی پڑی ہے، اس پر سوال نہیں کیا،
کراچی تو کیا، پورے سندھ کو آج تک سندھ حکومت ایک BRT سروس بھی نہیں دے سکی، اس پر سوال نہیں کیا؟
کیوں ڈمپر ٹرکوں اور ٹریکٹروں سے کچل کر کراچی کے لوگ مر رہے ہیں اور سندھ حکومت آج تک اس کی روک تھام نہیں کر سکی؟
23 سال میں K-IV منصوبہ کیوں نہ بن سکا، اس پر کچھ نہ پوچھا، اٹھارویں ترمیم کے بعد سے کراچی کا صوبائی ڈویلپمنٹ فنڈز میں 945 ارب روپے کا شارٹ فال کیوں ہے؟
Cess, Octroi/Zila Tax کی صورت میں 2 ٹریلین روپے پچھلے پندرہ سال سے کراچی کو کیوں نہیں مل رہے؟ جو پورٹ سٹی ہونے کی وجہ سے صرف کراچی کا حق ہے، اور اسی کے انفراسٹرکچر پر خرچ ہونے چاہیے؟اس پر باز پرس نہیں کی۔
میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے نتائج میں طالب علموں کے ساتھ جو ظلم کیا جاتا ہے، وہ نہیں پوچھا؟
میڈیکل انٹری ٹیسٹ کی دھاندلی پر سوال نہیں کیا؟
یہاں تک کہ کراچی کے بچوں نے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں بیٹھنا کیوں چھوڑ دیا، اس پر باز پر کوئی سوال نہیں کیا۔
ابھی تو لسٹ بہت لمبی ہے، اور منصور علی خان صاحب نے واقعی احتراماً بہت ہلکا ہاتھ رکھا ہے۔
کس بےدردی سے کراچی اور سندھ کو لوٹا گیا۔ اور یہ سارا پیسہ دبئی گیا، وہاں جائدادیں بنائی گئیں۔ لیکن اب ان حرامخوروں کا مکمل احتساب ہو گا۔ کراچی اور سندھ ان کے تسلط سے آزاد ہوں گے۔
اب جو ان کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں یہ نقارخانے میں طوطی کی صدا ثابت ہوں گی۔
#بااختیار_کراچی
یہ عبدالقادر میمن ہیں۔ ایک نڈر سماجی کارکن جنہوں نےچند ماہ پہلےڈمپر مافیا کےخلاف آواز اٹھائی اور ایف آئی آر بھی کٹوائی۔ کل رات اس مافیا نے پولیس کےساتھ مل کر عبدالقادر پر حملہ کیا۔ یاد رہے ڈمپر مافیا کی سرپرستی بھی پیپلزپارٹی کر رہی ہے۔
#بااختیار_کراچی
جیسے تمھارے لئے صرف سندھ دھرتی ماں ہے ایسے ہی ٹوٹ بٹوٹ کے لئے پورا پاکستان دھرتی ماں ہے۔ رہی بات گھر توڑنے کی تو وہ کام تم لوگ کر رہے ہو سندھ کو پاکستان سے توڑنے کا۔ ٹوٹ بٹوٹ کے اجداد نے یہ وطن بنایا تھا تو تمھیں بھی آزادی دلائی تھی ورنہ آج بھی ہندووں کے کتے ہی نہلا رہے ہوتے تم لوگ۔ باقی تم لوگوں کی منافقت کھل کر سامنے آ گئی ہے تم لوگ اصل میں پیپلز پارٹی کی بی ٹیم ہو۔ جہاں سندھ کی ترقی کی بات ہو سندھ کو پیپلز پارٹی اور وڈیرہ شاہی سے آزاد کروانے کی بات ہو وہاں تم لوگ مرسوں مرسوں کا نعرے لگانا شروع کر دیتے ہو۔ بہرحال اب فیصلہ ہو چکا ہے مرسوں مرسوں کرو یا کرسوں کرسوں سندھ اب حرامخور پیپلز پارٹی کے تسلط سے آزاد ہو گا۔
پاکستان زندہ باد !!
کراچی سول سوسائٹی کی جانب سے یکے بعد دیگر کامیاب تاریخی ٹرینڈ چلائے گئے۔ ان ٹرینڈز کا امپیکٹ اتنا پاورفل ہےکہ کراچی سمیت پورے سندھ پر مسلط فرعون گھبرائے ہوئے ہیں۔ اب کراچی سول سوسائٹی صرف مسائل پہ بات نہیں کرے گی بلکہ ان مسائل کا مستقل اور پائدار حل بھی چاہتی ہے۔
#بااختیار_کراچی
کراچی سول سوسائٹی کا ٹرینڈ پینل پر نمبر ون پر ٹرینڈ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ٹرینڈ نہیں مخالفین کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ ہے۔ دو گھنٹے پہلے شروع ہونے والا ٹرینڈ پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔
#بااختیار_کراچی
کراچی والوں سے کے الیکڑک کا انتقامی سلوک؛
16- A بفرزون کے رہائشی بلنگ 85 فیصد ہونے کے باوجود کے الیکٹرک انتظامیہ گلشن وسیم کےرہائشییوں سے انتقامی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔
اس شدید گرمی میں پچھلے ایک ماہ سے 20/20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ اے لوگ تنگ آگئے۔
@KElectricPk
بتائے یہ انتقام کیوں؟
دن دیہاڑے کریم آباد پل پر سونے کےتاجر کےساتھ ڈکیٹی۔ 23 لاکھ روپے کیش اور ایک کلو چاندی لوٹ لی گئی۔ اس پل پر ہمیشہ پولیس کی موبائل کھڑی ہوتی ہے آج واردات کے وقت نہیں تھی۔ کیمرے لگےہیں لیکن ای چلان کےلئے، سٹریٹ کرائم کےلئے نہیں۔ کراچی بھی کوئی کچے کا علاقہ بنا دیا ہے۔
#PPPChorHai
یہ حرامخور نہیں سدھریں گے ان کے خون خمیر میں وڈیرا شاہی ہے۔ کل عوام نے ساری رکاوٹیں ہٹا کر وی آئی پی کلچر کو جوتےکی نوک پر ڈالا تو آج انہوں نے ڈمپر کھڑے کر کے روڈ بلاک کر دی۔ اب عوام ان کو جوتے مارے گی تب ہی سدھریں گے۔ ان کو شائد عوام کے غصے اور طاقت کا اندازہ نہیں۔
#PPPChorHai
نسلہ ٹاور کراچی کے رہائیشی منتظر ہیں کہ کب اسلام آباد کی ون کانسٹیٹیوشن ایویو نامی بلڈنگ سمیت ثاقب ناسور، آصف سعید کھوسہ کے گھر اور بنی گالہ بھی گرائے جائیں۔
اگر نسلہ ٹاور اور الہ دین پارک ریگولرائز نہیں ہو سکتا تو ان جونکوں کے چھتے بھی ریگولرائز نہیں ہونے چاہئیں !!
کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہنا۔ شرمیلا فاروقی
سکھر کو روم اور کراچی کو پیرس بنا دیا ہے۔ بلاول زبردستی بھٹو
کراچی کی سڑکوں پر پیپلز پارٹی کے کام بول رہے ہیں۔ سعدیہ جاوید
کراچی کا موازنہ پاکستان کے شہروں سے نہیں، یورپ کے شہروں سے کیا جانا چاہئیے۔ ناصر حسین شاہ
کچھ بھی بولو جس ڈھٹائی اور بےشرمی سے یہ جھوٹ بولتے ہیں، ان چور، کرپٹ، بیغرتوں کو کانفیڈنس کے پورے نمبر دینا چاہئیے۔
کراچی سول سوسائٹی کی اسپیس میں صحافی فہیم صدیقی نے اعتراف کیا کہ :
کراچی سول سوسائٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر کراچی کے حق میں اٹھنے والی آوازیں پورے پاکستان میں سنی جا رہی ہیں۔ ارباب اختیار اس کا نوٹس لے چکے ہیں، یہ ہی وجہ ہے اب پیپلز پارٹی بےچینی کا شکار ہے۔