اے شریف انسانو!!
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
تم سمجھتے ہو
آنکھوں پہ اک سبز عینک لگا کر
یہ بے سبزه میدان
سرسبز و شاداب بن جائیں گے
یہ بے آس فصلیں
خزاں کا لباس
اپنے جسموں سے یوں نوچ لیں گی
کہ جیسے کوئی سوکھا پتّا
ہواؤں کے بے رحم جھونکوں کے ہاتھوں
وجود اپنا کھو بیٹھتا ہے
+
تم سمجھتے ہو
بس اک تمہارے لبوں کی ہنسی کے سبب
یہ ماحول کی تلخیاں
خود بخود ہو کے تحلیل مر جائیں گی
یہ تو ممکن نہیں
کیوں نہ ہم، اپنے ماحول کے
تھر تھراتے لبوں سے
یہ بیچارگی چھین لیں
ایک بوسیدہ دیوار کی اوٹ میں
چھپ گئی ہے جو یہ چاندنی چھین لیں
روشنی چھین لیں
+
خوش ہیں تو چائے پیئیں
اُداس ہیں تو زیادہ چائے پیئیں
طبیعت خراب ہے تو چائے پیئیں
طبیعت زیادہ خراب ہے تو اور زیادہ چائے پیئیں
اگر مرنے والے ہیں تو چائے پی کر مر جائیں
لیکن
پیئیں ضرور!
تمہارے ارد گرد ہزاروں ایسے لوگ ہوں گے جو بولیں گے کہ تمہارے منہ پر نشان کیوں ہیں؟ تم تھوڑی سانولی ہو، تم تھوڑی موٹی ہو، تم تھوڑی پتلی ہو، تمہارا قد کیوں چھوٹا ہے اور تم بولتی بہت ہو لیکن تم اُسے چُننا جو بولے "ہاں تم تو بلکل ویسی ہو جیسا میں نے سوچا تھا"۔✨🌸
مذاق وہی اچھا ہوتا جس میں دونوں ہنس رہے ہوں۔ کہنے والا بھی اور سننے والا بھی۔ اگر ایک ہنس رہا ہے اور ایک کو تکلیف ہو رہی ہے، تو اس کو مذاق نہیں کہتے بلکہ دل آزاری کرنا کہتے ہیں!!