نیا وزیراعلی (باتور خان) آیا تو کہا کہ جان قربان کردوں گا۔
علی امین گنڈاپور پھر بھی بہتر تھا کیونکہ کم از کم اپنے لیڈر سے ملاقات تو کرتا۔ نئے وزیراعلی کو 10 مہینے ہوگئے، رہائی تو دور کی بات ملاقات تک نہ کرسکے۔ انہوں نے نہ پختونخوا کی خدمت کی، نہ ہی اپنے لیڈر کے ساتھ وفا کیا
امیرحیدرخان ہوتی، سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا
@HaiderHotiANP
#Punjab is making headlines with new development projects and economic progress. In contrast, Pakhtunkhwa is increasingly associated with corruption, insecurity, and uncertainty. The people deserve governance that delivers peace, development, and hope, not crisis after crisis.
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایک وزیراعلیٰ نے اپنے سیکیورٹی گارڈ کو اسمبلی فلور پر بلا کر سیاسی نعرے لگوائے۔ یہ عمل نہ صرف پارلیمانی روایات کے منافی ہے بلکہ اسمبلی کے تقدس اور وقار کو بھی مجروح کرتا ہے
کوئٹہ سے پشاور آنے والی مسافر بس حادثے میں 40 افراد کی شہادت نہایت افسوسناک ہے۔ شہداء کے لواحقین سے تعزيت کرتے ہیں اور زخمیوں کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ ایک دشوار اور خطرناک راستہ ہے مگر حکومت آخر یہ راستے کب پرامن اور محفوظ بنائے گی۔ ہم ویسے بھی حالات کے مارے ہوئے لوگ ہیں، یہ ایک بین الصوبائی روٹ ہے مگر مرکزی اور صوبائی حکومت کوئی اس پر توجہ نہیں دے رہا۔
میاں افتخار حسین
صدر عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا
#ANP | #MianIftikharHussain
1947ء سے 2012ء تک خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضہ 100 ارب روپے سے بھی کم تھا، مگر گزشتہ 13 سال میں یہ بڑھ کر 1000 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا؟
قصاب والی سوات کے محل خرید رہے ہیں اور ترکھان نوابوں کی جائیدادیں، سرکاری نوکریاں بازار میں بک رہی ہیں، یہ ہے تبدیلی، سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا ، امیرحیدرخان ہوتی
اگر کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کی جامعات اور تعلیمی اداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، تو گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کا حالیہ ڈگری سکینڈل ہی کافی ہے۔
تحریک انصاف کے ایک سابق وزیراعلیٰ نے ایک پرو وائس چانسلر ڈاکٹر شکیب اللہ کو 85 نمبر سے اوپر لاکر تعینات کیا(یہ موصوف سوات ویٹرنیٹی یونیورسٹی میں تعینات تھا اور ان کو سوات یونیورسٹی سے گومل یونیورسٹی اور ایگریکلچر یونیورسٹی ڈی آئی خان کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا)، اور انہی کے دور میں مبینہ طور پر گومل یونیورسٹی سے 500 سے زائد جعلی ڈگریاں جاری ہوئیں۔ بعد ازاں جب ایک مستقل وائس چانسلر تعینات ہوا تو اس نے اس معاملے کی انکوائری شروع کی اور تمام تر سیاسی دباؤ اور بااثر شخصیات، بشمول مینا خان، کو خاطر میں لائے بغیر سلیکشن بورڈ بھی منعقد کرایا۔ جب احتساب کا عمل آگے بڑھا تو اسی وائس چانسلر کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے انہیں جبری رخصت پر بھیجنے کی سفارش کی ہے، حالانکہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات میں کہیں بھی ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔اسی دوران یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ وائس چانسلر نے اس پر اپنی سطح پر باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور زمہ داران کو معطل کروایا، لیکن اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک الگ انکوائری کمیٹی قائم کر دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی اسی شخص ڈاکٹر شکیب اللہ کے سپرد کی گئی جسے سابق وزیراعلیٰ نے پرو وائس چانسلر مقرر کیا تھا اور جس کے دورِ تعیناتی میں جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے آیا۔ اب فائرنگ کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی جعلی ڈگریوں تک کیسی پہنچی یہ الگ داستان ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کسی مخالف سیاسی جماعت یا کالے چینلز کی کہانی نہیں، بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اپنی سرکاری دستاویزات سے سامنے آنے والے حقائق ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر تحقیقات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو اور الزامات کا سامنا کرنے والوں کو ہی تحقیقات کی نگرانی سونپ دی جائے، تو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور احتساب کی کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟
خیبر پختونخوا کی جامعات کو سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور انتظامی انتشار کے حوالے کرنا صوبے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
خان رہا ہوتے ہیں یا نہیں، یہ اپنی جگہ؛ لیکن ان کے نام پر جس انداز سے اداروں کو چلایا جا رہا ہے، اس کی قیمت پورا صوبہ ادا کر رہا ہے۔ جلد یا بدیر اس حقیقت کا ادراک صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی ہو جائے گا جنہوں نے یہ نظام قائم کیا۔
The letter from Deputy Commissioner Charsadda exposes the PTI govt's criminal neglect of public health in Pakhtunkhwa.
DHQ Hospital Charsadda serves around 1 million people but has NO CT Scan, NO MRI, NO Cardiac Cath Lab, no specialized diagnostics services, no Gynecology & Obstetrics services
and 88 vacant posts. Patients are being sent to Peshawar while this hospital starves for basics.
This is not governance - this is betrayal of the people of Charsadda and entire Pakhtunkhwa.
مفتي تقي عثماني صیب وایي چي کله مونږ چا باره کي ليک کوو یا خبره کوو نو که مونږ دغه لیک یا خبره د رب په دربار کي ثابتولے شو نو دغه ليک يا خبره بلکل دي وکړو او که مونږ دغه لیک یا خبره د رب په دربار کي نشو ثابتولے نو خپل قلم او خوله بند ساتل پکار دي
#factsarefacts#pukhtunkhwafocus
صوبہ ہزارہ کی متفقہ قرارداد کے معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا ایوان میں احتجاج
#ANP | #ANPPakhtunkhwa | #NisarBaazKhan
🟥 ہزارہ ڈویژن خیبر پختونخوا کا صدیوں سے ایک حصہ رہا ہے اور ہمارے پختونخوا کا حصہ ہے۔
🟥 یہ قرارداد جس قرارداد کا آپ لوگوں نے ذکر کیا، وہ قرارداد آپ لوگوں نے ایسے موقع پر پیش کی تھی جب ہاؤس میں صرف چودہ، پندرہ ممبران موجود تھے۔
🟥 ہماری ملکی جرنیل شاہی کی خواہش ہے کہ وہ اس ملک کو مختلف صوبوں میں تقسیم کرے،
🟥 کچھ پارٹیاں ایسی بھی تھیں جو اس کے ہم نوا بننے جا رہی تھیں۔
🟥 ہماری پارٹی کی ایک واضح پالیسی ہے کہ اگر اس ملک میں نئے صوبے بنانے ہیں تو پھر قومیتوں کی بنیاد پر صوبے بننے چاہئیں۔
🟥 پختون قوم، بلوچ قوم، سندھی قوم، سرائیکی قوم، پنجابی قوم، کشمیری قوم، اسی طرح چلتے جائیں۔
🟥 قومیتوں کی بنیاد پر اگر صوبے بنیں گے تو اس وقت بلوچستان میں ہمارے گیارہ اضلاع بلوچستان میں شامل ہیں، وہ بھی اس پختونخوا کا حصہ بنیں گے۔
🟥 اس کے ساتھ ساتھ اٹک اور میانوالی بھی تاریخی طور پر اس پختونخوا کا حصہ رہے ہیں، وہ بھی اس صوبے کا حصہ بنیں گے۔
🟥 یہ بات نہیں ہونی چاہیے کہ ہزارہ والے کہتے ہیں ہمیں الگ صوبہ دیں، قبائلی علاقے والے کہتے ہیں ہمیں الگ صوبہ دیں۔ خواہشوں پر صوبے نہیں بنتے۔
نثار باز خان
رکن صوبائی اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #NisarBaazKhan
گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جعلی ڈگریوں پر انکوائری شروع کی ! عہدے سے ہٹا دیئے گئے
پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن نے کرپشن پر بات کی ! مائیک بند کر دیئے گئے
صحافی سکینڈلز سامنے لائے ! نوٹسز جاری کر دیئے۔
لیکن بیانیہ یہ ہے کہ۔۔۔ اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی نہیں
🟥 ریاست نے جب بھی وعدہ کیا، اس کی خلاف ورزی کی۔ چاہے وہ نواب نوروز خان کے ساتھ کیے گئے وعدے ہوں یا 2018 میں قبائلی اضلاع کے ساتھ کیے گئے وعدے۔
🟥 والیِ سوات سے وعدہ کیا گیا تھا کہ 100 سال تک وہاں کوئی ٹیکس نافذ نہیں ہوگا، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ساتھ 10 سال کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب ان وعدوں سے انحراف کیا جا رہا ہے
🟥 قبائلی اضلاع کے ساتھ ہر سال 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو اب تک پورا نہیں کیا گیا
🟥 نئی M-13 کھاریاں-راولپنڈی موٹروے اور پنجاب کے انفراسٹرکچر پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان آج بھی بنیادی رابطہ کاری، خستہ حال سڑکوں اور معاشی نظراندازی جیسے مسائل سے دوچار ہیں
🟥 باجوڑ میں دہشت گردی کے باعث تباہ ہونے والی سڑکیں آج تک تعمیر نہیں کی گئیں
🟥 ہم ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف ہیں۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے ہر جائز فیصلے کا ساتھ دیں گے
🟥 ایک طرف دہشت گردی کے باعث ہمارے گھر، اسکول اور کاروبار تباہ کیے گئے، اور اب جو سرمایہ دار باقی ہے، اسے بھی مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ دوسرے صوبوں کا رخ کرے
🟥 یہ ہم دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ پنجاب پاکستان ہے اور پاکستان پنجاب، اور اس ملک کو صرف پنجاب نے کھا لیا ہے
🟥 اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسمبلی کے فلور پر یہ مقدمہ اٹھاتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وفاق کے ساتھ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) اور این ایف سی فورم پر بھی یہ معاملہ اٹھائیں
🟥 آپ نے 109 ارب روپے سرینڈر کرنے کا کمٹمنٹ کیوں کیا؟ اور اب بھی کیوں کہا جا رہا ہے کہ ہم یہ رقم دیں گے؟ وفاق کے ذمے موجود 5000 ارب روپے کے واجبات کیوں ادا نہیں کیے جاتے؟
🟥 3000 ارب روپے دفاع پر خرچ ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم آج بھی غیر محفوظ ہیں۔ باجوڑ میں آج بھی ڈرون حملے ہو رہے ہیں
🟥 ہمارے روڈ آج بھی تباہ حال ہیں اور پرائی جنگوں کی وجہ سے بند پڑے ہیں
🟥 جب سوال کیا جائے تو ملیٹنسی کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ 25 سال گزر گئے، اتنے آپریشنز ہوئے، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟
🟥 عوامی نیشنل پارٹی اس ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔ ہم اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے
ہمیں اپنی قوم کے حقوق کی بات کرنے پر بار بار غدار کہا گیا اور کفر کے فتوے دیے گئے، لیکن نہ ہم کبھی پیچھے ہٹے ہیں اور نہ آئندہ ہٹیں گے
🟥 آج بھی میرا نام اے سی ایل میں شامل ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ میں نے آپریشنز میں رکاوٹ ڈالی تھی
🟥 احتجاج کرنا میرا آئینی اور قانونی حق ہے
🟥 اگر اپنی قوم کے حقوق، دہشت گردی کے خاتمے اور اپنے وسائل پر اختیار کی بات کرنے پر ہمیں غدار کہا جاتا ہے تو ہمیں یہ الزام بھی قبول ہے، لیکن ہم اپنی قوم کی ترجمانی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے
🟥 اگر اپنی قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے میری جان بھی چلی جائے تو میں اس کے لیے تیار ہوں
🟥 حکومت باجوڑ سے وزیرستان تک بجلی فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ 34 ارب روپے کی سبسڈی کہاں خرچ ہو رہی ہے؟
🟥 کشمیر اور گلگت بلتستان میں 2 اور 3 روپے فی یونٹ بجلی دی جاتی ہے، یہ اچھی بات ہے، لیکن قبائلی اضلاع کو یہ سہولت کیوں نہیں دی جا رہی؟
🟥 ایف سی آر جیسے کالے قانون اور طویل محرومیوں کے بعد قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا کا حصہ بنے، لیکن اب انہیں ان کے حقوق کیوں نہیں دیے جا رہے؟
🟥 70 سال تک ریاست پاکستان نے قبائلی اضلاع کو اپنے مفادات اور پرائی جنگوں کے لیے استعمال کیا۔
"Divide and Rule" کی پالیسی آج بھی جاری ہے جو انگریز نے قائم کی تھی۔🟥
🟥 میڈیا غیر جمہوری قوتوں کے دباؤ میں ہے، اور وہی دکھایا جاتا ہے جو طاقتور حلقے چاہتے ہیں۔
نثار باز خان
رکن صوبائی اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #NisarBaazKhan
Despite falling global oil prices, the government refuses to reduce petroleum prices in Pakistan. This is nothing but sheer insensitivity and cruelty towards the people.
We demand an immediate cut in fuel prices and that the full benefit of lower international rates be passed on to the masses.
Prioritising elite interests and own luxuries over public relief is unacceptable.
Dear Uncle,
Why is every major development project in Pakistan obsessively focused on Punjab? The new M-13 Kharian-Rawalpindi Motorway and billions poured into Punjab’s infrastructure, while Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan continue to struggle with basic connectivity, crumbling roads, and economic neglect.
In any functional country, resources are collected from the more developed regions and deliberately invested in the peripheries so that backward areas can catch up and the entire nation grows together. In Pakistan, it is the exact opposite: Punjab, which is already relatively better off, is being further pampered and modernized at the direct expense of the smaller, struggling provinces.
You can never achieve lasting security and peace through force or rhetoric alone. Without economic justice and balanced development, the sense of deprivation will only deepen.