*صرف عمران خان ہی کیوں۔۔..*
سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید
(اشک بہا دینے والی تحریر)
"کچھ لوگ ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے اتنی خوفزدہ کیوں ھے؟
یہ سوال سن کر مجھے اپنے پاکستانی لوگوں کی معلومات پر حیرت ہوتی ہے
کہ اس لاعلم قوم کو اتنا بھی علم نہیں کہ عمران خان کے دور میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار چھٹی جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک ہر بچے کے لیے ترجمہ قران کی تعلیم شروع کی گئی۔۔۔
ملک کے کروڑوں بچے اب سکول میں قران ترجمے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔۔۔
جماعت 12th 11th 10th 9th میں بچوں کے بورڈ کے امتحانات میں لازمی مضمون کے طور پر یہ سبجیکٹ شامل ہے۔۔۔۔
یہ کتنا بڑا قدم ہے یہ بات پاکستان کی سادہ عوام نہیں جانتی مگر امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران خان اس قوم کے نوجوان نسل کو قران سے جوڑ رہا ہے کیونکہ امریکیوں کو پتا ہے کہ کالج اور سکول کے سلیبس کس طرح نئی نسلوں کی ذہن سازی کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ
قران کو عام کرنے والے اس عمران خان سے امریکہ خوش ہو گا؟؟؟
یقینا نہیں
یہاں ایک اور وجہ بھی یاد کرانا ضروری ہے
عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر 193 ملکوں کی تنظیم کے سامنے یہ جملے بولے۔۔۔
"”حضور نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور جب مغرب میں(انگریزوں میں) کوئی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں اور دلوں کا درد سب سے زیادہ شدید درد ہوتا ہے"”
کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ عمران خان امریکہ کی نظروں میں کیوں چبھتا ہے؟؟
یاد کرو جب اس کی ماں کینسر سے فوت ہوئی تو اس نے کینسر ہسپتال بنا دیا کہ کسی اور کی ماں کینسر سے نہ مرے
پھر جب وہ وزیر اعظم بنا اور سردی کا موسم آیا تو اس نے پناہ گاہیں بنائیں کہ مزدور اور غریب سڑکوں فٹ پاتھ وغیرہ پر نہ سوئیں۔۔۔۔
صحت کارڈ دے کر ہر غریب کو 10 ، 10 لاکھ علاج کے لیے دیے۔۔۔۔
جب وہ لنگر خانے میں گیا تو مزدورں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔۔
جب بات شروع کی تو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہہ کر آغاز کیا۔۔
جب مدینہ منورہ پہنچا تو جوتے نہیں پہنے بلکہ ننگے پیر چلا۔۔۔
مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔۔۔
زرداری کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے
نواز شریف کے دور میں بھی سلسلہ جاری رہا
مگر عمران خان نے Absolutely Not کہہ کر کر بتا دیا کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے گا۔۔۔
عمران خان کے 3.5 سالہ دور میں امریکہ ایک ڈرون حملہ نہیں کر سکا۔
اب بتائیں
کیا ایسا شخص امریکہ کو برداشت ہو سکتا تھا؟؟
پھر وہی ہوا جو ہونا تھا امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجی جرنیلوں کو بول دیا کہ بس اب اور نہیں اور بالآخر امریکہ اور پاکستانی فوج جیت گئی اور عمران خان اور پاکستان ہار گیا۔
میں 45 سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہا ہوں تاریخ کے مطالعے اور اپنے 45 سالہ مشاہدے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ 75 سال میں اتنا ظلم کسی پارٹی پر نہیں ہوا جتنا آج فوج عمران خان پر کر رہی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 75 سالوں میں فوج کو ایسے کوئی نہیں ٹکرا جس طرح خان ٹکرا ہے
کیونکہ جو جیسا ٹکرتا ہے اس کو جواب بھی اتنا ہی ملتا ہے اور یہاں جواب کی شدت بتا رہی ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کو بندہ شدید ٹکر کا ملا ہے۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ کسی امیدوار کو الیکشن کے کاغذات ھی جمع کرانے سے روک دیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ ایک جماعت پر الیکشن کمپین کرنے پر گرفتاری ہو جب کہ دوسری جماعت کے جلسے ہر وقت TV پر دکھائے جا رہے ہو۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ فوج ایک پارٹی سے اتنی ڈر گئی کہ سرے سے اس پوری پارٹی کو ہی الیکشن سے نکال دیا
آج تک یہ سب نہیں ہوا اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا ظلم کرنے کے بعد بھی ایک بندہ ملک میں سے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت گیا
اور پھر وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا کہ ایک ایک لاکھ کی لیڈ بھی بدل دی گئی
واقعی
آج تک عمران خان جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جو امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہو
یہاں تو سب لیٹ جاتے تھے
ڈٹ جانے والا پہلی بار دیکھا ہے
اگر عمران خان کو تاریخ کے آئینے میں پرکھا جائے اور موجودہ حالات میں عمران خان کی ثابت قدمی دیکھی جائے تو بلامبالغہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کے قدموں کی دھول بن چکا ہے
عمران خان کے سامنے بھٹو بھی ایسے ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ ہو
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان سب سے بڑا لیڈر ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عمراں خان کے زمانے میں جی رہے ہیں
آنے والی نسلیں ہم پر رشک کریں گی کہ
وہ بھی کیا خوش قسمت لوگ تھے جو عمران خان کے دور میں زندہ تھے مگر کتنے بںےغیرت اور بںے قدرے تھے کہ عمران خان کو سمجھ نہیں سکے۔۔۔
🚨دنیا کے دلوں پے راج کرنے والا ون انڈ انلی کپتان عمران خان دنیا میں چند اشخاص ہوتے ہیں جنکی اتنی عزت تکریم ہوتی ہیں دنیا ان پر اپنی عزت نچھاور کرتی ہیں
دنیا میں بہت سے وزیراعظم ہیں اور صدر بھی ہے لیکن سب سے خوبصورت با کردار با اختیار با وقار شخصیت👍
ایک سکھ سردار فیملی جب پاکستان آئی اپنے پرانے محلے اور گھر کو دیکھنے تو سب کچھ دیکھ کر بہت جذباتی ہوگئے😔
مجھے یاد ہے کچھ سال پہلے میں پاکستان گیا تھا اور اس محلے میں گیا تھا جہاں میرا بچپن گزرا اور خاص کر وہ گھر دیکھا جہاں میری پیدائش ہوئی تھی خیر اب تو وہ کسی نے دوبارہ سے از سرے نو تعمیر کرلیا ہے
لیکن جب میں اس محلے میں گیا جہاں میں بچپن میں کھیلا کرتا تھا تو میں بہت اداس ہوا اور خاص ابو کی یاد آئی تو بہت رویا بھی😓
چچا ساتھ تھے انکے گلے جب لگا تو یقین کریں ایسا محسوس ہوا جیسے ابو کے گلے لگا ہوا ہوں
جس حساب سے میں چچا کے گلے لگ کر رویا تو انہیں محسوس ہوگیا تھا کے اسے اپنے ابو کی یاد آرہی تو انہوں نے بھی خوب اچھے سے گلے لگایا حالانکہ جب تک ابو زندہ تھے ہمارے چچا والوں سے تعلقات زیادہ اچھے نہیں تھے۔
کیونکہ چچا لوگ معاشی طور پر ہم سے زیادہ اچھے تھے تو آنا جانا اور لین دین کم ہی رکھتے تھے۔
لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے اور وہ بھی بدل چکے ہیں اور ہم نے بھی پرانی رنجشیں بھلا دی ہیں😊
میرے ابو لوگ پانچ بھائی اور دو بہنیں تھیں جس میں سے بس ایک ہی چچا حیات ہیں اور دونوں پھپھیاں حیات ہیں اللہ تعالی انہیں حیات اور صحت یاد رکھے🤲
باقی سارے بھائی ایک ایک کر اس جہاں فانی سے رخصت ہوچکے ہیں😔
میں اپنی چھ سالہ بیٹی کو نہلا رہی تھی جب اُس کے بازو پر چار انگلیوں کے نیلے نشان دیکھے وہ کسی بڑے ہاتھ کی سخت گرفت تھی۔
میرا نام مہرین ہے میری بیٹی عنائیہ چھ سال کی ہےوہ اسلام آباد کے ایک مشہور نجی سکول میں پڑھتی تھی
بڑا گیٹ صاف کلاس رومزمہنگی فیس اور والدین کو مطمئن کر دینے والا ماحول
مگر چند ہفتوں سےعنایہ بدلنے لگی تھی
صبح سکول کا نام آتےہی اُسکا چہرہ اتر جاتا
امی آج سکول نہ جائیں؟امی پیٹ میں درد ہے
امی مس شازیہ غصہ کرتی ہیں
میں نے ہر بار یہی سمجھا کہ نئی کلاس ہے عادت ہو جائے گی
پھر اُس شام میں اسے نہلا رہی تھی
میں نے اُس کا بازو اٹھایا تو میری سانس رک گئی
اوپر بازو پر چار نیلے نشان تھے بالکل انگلیوں جیسے میں نے بہت نرمی سے پوچھا عنائیہ یہ کس نے کیا؟ وہ فوراً چپ ہو گئی نظریں جھکا لیں پھر بہت آہستہ سے بولی مس شازیہ
میرے اندر جیسے سب کچھ جم گیا کب؟
جب میں نے کاپی غلط صفحے پر کھول لی تھی
پھر اُس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا
امی سکول میں مت بتانا مس نے کہا تھا کوئی یقین نہیں کرے گا
اُس رات میں نے اُس کے بازو کی تصویریں لیں تاریخ کے ساتھ
اگلی صبح میں اپنے شوہر عادل کے ساتھ عنایہ کو لے کر سکول گئی
پرنسپل مسز نادیہ قریشی نے ہمیں بٹھایا اور بہت نرم لہجے میں کہا
عنایہ بہت حساس بچی ہے بعض بچے معمولی ڈانٹ کو بھی دل پر لے لیتے ہیں
میں نے فون اُن کے سامنے رکھ دیا تصویر کھولی
عنایہ کے بازو پر انگلیوں کے نشان صاف نظر آ رہے تھے میں نے کہا یہ ڈانٹ نہیں ہے یہ ہاتھ ہے
عادل نے بھی سخت لہجے میں کہا
ہمیں کلاس روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے پرنسپل کا لہجہ فوراً بدل گیا یہ ممکن نہیں۔ سکول پالیسی اجازت نہیں دیتی
اسی وقت مس شازیہ اندر آئیں
انہوں نے عنایہ کی طرف جھک کر کہا
بیٹا امی ابو کو بتاؤ نا مس آپ سے پیار کرتی ہیں؟
عنایہ فوراً میرے پیچھے چھپ گئی
اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں
عادل نے یہ دیکھا تو اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا
پرنسپل نے بات سنبھالنے کی کوشش کی
دیکھیے آپ پہلے والدین نہیں ہیں جو ایسی شکایت لے کر آئے ہیں سکول کا نام خراب کرنے سے پہلے سوچ لیجیے گا
میں نے فوراً پوچھا پہلے والدین نہیں؟
کمرے میں خاموشی چھا گئی
اُنہیں احساس ہو چکا تھا کہ زبان پھسل گئی ہے
عادل نے بہت سکون سے کہا
تو اس کا مطلب ہے شکایت پہلے بھی آئی ہے۔ اب معاملہ صرف ہماری بچی کا نہیں رہا ہم وہاں سے نکل آئے
اس بار ہم خاموش نہیں رہے
سب سے پہلے عنایہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئ میڈیکل رپورٹ بنوائی
پھر اُس رات عنایہ نے مجھے ایک اور بات بتائی۔
امی حورین کو بھی مس شازیہ نے ایسے ہی پکڑا تھا
حورین اُس کی کلاس فیلو تھی جو دو ہفتے پہلے اچانک سکول چھوڑ گئی تھی
اگلے دن عادل نے حورین کے والد کا نمبر پرانے والدین گروپ سے ڈھونڈا
جب ہم نے بات کی تو دوسری طرف لمبی خاموشی ہوئی
پھر حورین کی امی روتے ہوئے بولیں
ہماری بچی نے بھی یہی بتایا تھا مگر سکول نے کہا وہ بہت حساس ہے
اسی دن ہم دونوں خاندان ملے
عنایہ کے بازو کی تصویریں تھیں
حورین کی پرانی تصاویر تھیں
دونوں بچیوں کی باتیں ایک جیسی تھیں دونوں کو ڈرایا گیا تھا دونوں کو کہا گیا تھا
گھر میں بتایا تو کوئی یقین نہیں کرے گا
اب یہ صرف شکایت نہیں رہی تھی یہ ثبوت بن چکا تھا
ہم نے مل کر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن پر شکایت کی
ایجوکیشن اتھارٹی کو درخواست دی پولیس میں رپورٹ جمع کروائی
اور سکول کو قانونی نوٹس بھجوایا
دو دن بعد ایک تیسرا والد بھی سامنے آ گیا
اُس کے بچے نے بھی کلاس میں سخت رویے اور بازو سے کھینچنے کی بات کی تھی
سکول نے پہلے اسے غلط فہمی کہا
پھر اندرونی انکوائری کا اعلان کیا
اور آخرکار جب دباؤ بڑھا تو مس شازیہ کو کلاس سے ہٹا دیا گیا
سی سی ٹی وی کی مکمل فوٹیج تو ہمیں نہ دی گئی مگر اتنا ضرور سامنے آ گیا کہ شکایت صرف ہماری نہیں تھی
پرنسپل کے خلاف بھی کارروائی شروع ہوئی کیونکہ شکایات پہلے سے موجود تھیں اور دبائی جا رہی تھیں
عنایہ نے سکول بدل دیا شروع کے دن آسان نہیں تھے
نئے سکول کے گیٹ پر وہ میرا ہاتھ زور سے پکڑتی اور پوچھتی
امی یہ والی میم اچھی ہیں نا؟ میں ہر بار جھک کر کہتی
بیٹا اگر کوئی بھی تمہیں ڈرائے ہاتھ لگائے یا کہے کہ امی ابو کو نہ بتانا تو سب سے پہلے ہمیں بتانا
آہستہ آہستہ اُس کی ہنسی واپس آنے لگی
وہ گاڑی میں پھر نظمیں پڑھنے لگی ایک دن گھر آ کر بولی
امی آج میں نے کلاس میں نظم سنائی
میں نے اُسے سینے سے لگا لیا کیونکہ وہ صرف نظم نہیں تھی
وہ میری بچی کی واپسی تھی
میں نے ایک بات سیکھ لی ہے جب بچہ بار بار کہے پیٹ درد ہے سکول نہیں جانا
میم اچھی نہیں لگتیں تو اسے ہمیشہ ضد نہ سمجھیں
کبھی کبھی یہ ایک چھوٹی سی جان کی آخری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی اُس کی خاموشی پڑھ لے
بچوں کو صرف بڑے سکولوں میں داخل نہ کروائیں
اُنہیں یہ یقین بھی دیں کہ اُن کی بات گھر میں سنی جائے گی
سبی کاظمی نے خود کو 50 ڈگری ٹمپریچر گرمی میں ایک کمرے میں بند کر کے پاکستانیوں کو بتایا کہ ایسے عمران خان اڈیالہ جیل میں آپ کی آزادی کیلئے بیٹھا ہوا ۔۔۔۔۔۔
⭕️استنبول کی جامع مسجدِالفاتح میں ترک خواتین نےمسجدِاقصیٰ کی بندش کےخلاف ایک انوکھااحتجاج کرتے ہوئےمسجدکی بالکونی سےمردنمازیوں پراپنےسکارف پھینکے۔
سکارف کےکناروں پرتحریردرج تھی:”مسجدِاقصیٰ مسلمان مردوں کی عزت ہے۔اپنی عزت کادفاع کرو!اےامت!اُٹھ کھڑی ہو،تمہاراقبلہ اول بند ہے“👇🏼
جب عمران خان کے پیچھے پی ٹی ائی والوں نے صبر کیا کہ جیلی گیا ہے خیر ہے کتنے بے وفا لوگ ہیں ہم تو اللہ رسول تو صرف مانگتے ہی وفا ہیں اس طرح ڈیتھ ہوتی ہے ادمی کی کہ ہم اس کی فکر کرنا چھوڑ دیتے ہیں جیسے پی ٹی ائی والوں نے عمران خان کے ساتھ کیا فکر کرنی چھوڑ دی۔۔
بریکنگ نیوز 🚨 یہ ہے حقیقی صحافت اسے بولتے ہیں صحافت کا حق ادا کرنا اسٹبلیشمنٹ کے تین ٹاؤٹس کو ایک ہی سوال پر ایسا رگڑا لگایا کہ تینوں کی بولتی بند ہوگئی کمال کر دیا 🔥
کتنی آہوں سے کلیجہ تیرا ٹھنڈا ہوگا؟ 💔
ملٹری کورٹ سے سزایافتہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن سہراب خان کی 4 سال کی قید کے غم میں اج انکی والدہ انتقال کر گئیں۔ سہراب خان کو ایک دن پیرول پر رہائی ملی مگر والدہ کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوسکا، سہراب خان والدہ کی قبر کے ساتھ لپٹ کر روتا رہا ہے۔