نا قائد اعظم،
نا علامہ اقبال،
اپنی ہی تصویریں دو دو جگہ لگا کر بولتے ہیں کہ ہمیں شخصیت پرست نا بولا کرو۔
اس سے زیادہ زہنی غلامی کیا ہوسکتی ہے؟
یہی کام مریم نواز کے دفتر میں ہوا ہوتا تو یوتھیا دن رات سوشل میڈیا پر چیخیں مارتا لیکن منافقت کے بغیر قوم یوتھ کا کام نہیں چلتا
اگر اپ کسی انصافی سے پوچھیں کہ حاشر درانی کون تھا
تو جواب ائے گا ہم نہیں جانتے
یہ جوان آئی ٹی ایکسپرٹ تھا ماں باپ نے محنت سے پال پوس کر اعلی تعلیم دلوائی تاکہ بڑھاپے کا سہارا بنے لیکن عمرانی کلٹ نے اس نوجوان سے بہترین مستقبل چھین لیا اور آج یہ جوان دس سال قید بامشقت بھگتا رہا ہے
تضادِ کردار کی انتہا دیکھئے گاڑی کروڑوں کی لائف اسٹائل فائیو اسٹار اور درس سادگی اور صحابہ کرام کی زندگیوں کا، فکری دیوالیہ پن اس سے واضح اور کیا ہو گا؟ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مفاد پرست چہرے ہی موٹیویشن کے نام پر فروخت ہو رہے ہیں۔
یہ ہے خیبرپختونخوا کا سرکاری ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان
یہ ہے وہ تبدیلی اور مثالی پختونخوا جس کا 12 سال قبل وعدہ کیا گیا تھا
12 سالہ حکمرانی میں اگر احتجاجی سیاست دوسروں پر الزامات کیساتھ ساتھ ان ہسپتالوں کی حالت زار پر توجہ دی جاتی تو آج یہ مناظر دیکھنے کو نہ ملتے
چلئیے باقی سب تو ایجنٹ اور بکاؤ ہیں لیکن امید ہے کہ ایران پر حملے کے بعد عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے بغل بچے اسرائیل کی مذمت ضرور کریں گے۔
آپ کو کیا لگتا ہے؟
کل تک میرا بھی خیال تھا کہ عمران خان اسرائیل کے حامی ہو ہی نہیں سکتے لیکن اب سے کچھ گھنٹے پہلے ان کے اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹوئیٹ میں اسرائیل کے حوالے سے مکمل خاموشی نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ “امت مسلمہ کا لیڈر” اس اہم موقع پر اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں کر رہا ؟؟؟