سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ,,اراکین کمیٹی کے سخت سوالات
کسی ہسپتال کو لائسنس دینے کی کیا شرائط ہوتی ہیں،سینیٹر مسرور احسن
پمز ہیپتال آپ کے ادارے کی جانب سے کیوں چیک نہیں کیا گیا؟ سینیٹر روبینہ خالد
آخری بار پمز کی انسپیکشن کب کی گئی؟ روبینہ خالد
خرابی یہ کہ جس بندے کا اپنا میڈیکل کالج ہے اسکو اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کا ہیڈ کس نے بنایا؟ سینیٹر مسرور
یہ مفادات کا ٹکرائو ہے، سینیٹر روبینہ خالد
اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی وزارت صحت کے ماتحت نہیں ہے، وفاقی وزیر
آئی ایچ آر اے میں آپ نے حکومت کا عمل دخل نہیں رکھا ہوا، وفاقی وزیر
اس ادارے کا بورڈ 2024 میں بنا، کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں آتا ہے، وفاقی وزیر
منسٹر صاحب پہلی فرصت میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو ختم کریں، روبینہ خالد
یہ میرا استحقاق نہیں ہے کہ میں اس کو ختم کر سکوں، وفاقی وزیر
پمز کا آخری دورہ کچھ عرصہ پہلے ہوا، قائم مقام سی ای او آئی ایچ آر اے
قائم مقام سی ای او آئی ایچ آر اے کمیٹی ارکان کے کسی بھی سوال کا جواب نہ دے سکیں
#PIMS
عالمی ثالثی عدالت میں @PMOIndia کو منہ کی کھانا پڑی ،پاکستان کی بڑی جیت ،بھارت معائدے کو توڑ نہیں سکتا، عدالت کا متفقہ فیصلہ ،ساتھ رتلہ ہائیڈرو پراجیکٹ پر بھی پابندی لگ گئی
#pakistan
رضیہ نورین نے تمام خبروں اور اندازوں کو غلط بھی ثابت کیا اور اپنے فعل سے پمز انتظامیہ کی نااہلی غفلت و لاپروائی کی کالک کو بھی دھو ڈالا
ویلڈن رضیہ نورین اپ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کے ایک بچے کو بچانے میں کامیابی حاصل کر لی آپ کے آنسو گواہ ہیں کہ اپ نے جان لڑائی مگر آگ کی شدت کے آگے اپ بےبس نظر آئیں
سیلوٹ یو
#PIMS
ہمارے وزیر داخلہ @MohsinnaqviC42
نے سسٹم سے متعلق بات کی تو سب کو سانپ سونگھ گیا یہ حالت ہے شہر اقتدار کی ایوان صدر و وزیر اعظم ہاوس سے چند کلومیٹر دور شدید گرمی اور حبس میں @Iescoofficialpk
بہارہ کہو کا سسٹم بھی بیٹھ گیا رات سوا بارہ بجے سے 45۔1 تک 110 مرتبہ کال کی مگر مجال ہے ایک بار بھی فون حضور مل پاتے ، @MoWP15 اور جناب وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری صاحب کی توجہ درکار ہے
#greatrespectforcdf
محترم @S_SajidOfficial صاحب یہ فوٹیجز چند دن قبل کی ہیں اسی پارلیمنٹرین کے گیٹ پہ ہمارے ایک دوست نے ایک ایم این اے کی توہین کی ،وزیر دفاع کا ہاتھ پکڑ کے زبردستی بات کرنی کی کوشش کی ،ایک خاتون ایم این اے کو دھکا مارا گیا ،کب سے ہم کہہ رہے ہیں کہ ایس او پیز بنائیں اگر ڈیجٹیل والے دوست جرنلسٹس ہیں تو انہیں آنے دیں مگر ان کی تربیت تو کریں انہیں پی آر اے کے ڈسپلن میں تو لائیں مگر کسی کے کانوں میں جوں نہیں رئینگی جب ہمارے اوپر پابندی یے کہ ہم لابیوں میں کوریج نہیں کرسکتے تو پھر ٹی وی چینلز پہ ساٹس کیوں چلتے ہیں ،مجھے نہیں پتہ کہ آج کیا ہوا میں اس وقت سینٹ ہال میں تھا مگر 10 بار میں شکایات کر چکا ہوں ہماری منتخب باڈی آنرشپ کب لے گی جہاں تک ڈی جی میڈیا کی بات ہے اس نے ہمیشہ ہمیں اکاموڈیٹ کیا گزشتہ دنوں جب چیکنگ ہوئی تو متعدد نان ممبرز کے خلاف کاروائی ہوئی ڈی جی میڈیا نے انہیں پولیس سے چھڑوایا، اپ سنیئر ہیں ہمارے ممبران اور نان ممبرز جرنلسٹس کو بھی تا چاہیئے کہ وہ سب سے بالادست فورم کی عزت وتکریم کا خیال رکھیں ،سوال کرنا ہمارا حق مگر جواب دینا یا نہ دینا اگلے کا حق یے زبردستی موبائل اس کے منہ پہ رکھنا کون سی صحافت ہے مجھے اسی پارلیمنٹ میں 24 سال کوریج کرتے ہوگئے ہم نے ہمیں پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کو ترجیح دی مہربانی کرکے ہمیں اپنی منجھی تھلے ڈانگ پھیرنے کی ضرورت یے ،اس وقوع کی بالکل تحقیقات ہونی چایئں یہ معاملہ ڈسپلن کمیٹی کے پاس جائے اور ساتھ ڈسپلن کمیٹی محترمہ شاندانہ گلزار کی درخواست پر بھی کاروائی کرے ،وڈیو بطور ثبوت لگا رہا ہوں کہ کس طرح پارلیمنٹرین کا راستہ بلاک کیا گیا اور یہ وڈیو اپنے نوٹ کے ساتھ ڈی جی میڈیا کو بھیجی تھی کہ یا ڈسپلن لائیں یا ہمیں کہہ دیں ہم گھر بیٹھ جائیں ہم نے اس 24 سالہ پارلیمانی رپورٹنگ میں صرف عزت کمائی ہے ۔۔۔شکریہ
بصد احترام میرے سمیت دس سینیر صحافی وہاں موجود تھے اور اس محترمہ کو ان کے نام بھی نہیں آتےسپیکر قومی اسمبلی کون ہیں یہ بھی نہیں پتہ ۔ ڈی جی میڈیا پر یہ چلائی ہیں وہ پھر بھی سنتے رہے کیونکہ محترمہ نے پہلے خود کو آئی ایس پی آر کا رپورٹر بتایا پھر پاکستان Connect کا حالانکہ ڈیجٹیل میڈیا اور یوٹیوبرز کے داخلے پر پابندی ہے ڈی جی میڈیا ظفر سلطان تو پھر ان کو اکاموڈیٹ کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر آپ زبردستی ممبران کو روک کر ساٹس لیں گے وہ بھی کوریڈور میں جاکر تو پھر ڈسپلن بھی کوئی چیز ہے اس محترمہ نے وہاں موجود صحافیوں بارے جو اپنے ٹویٹ میں زبان استعمال کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے خاتون ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو کسی کی بھی بے عزتی کرنے کا لائسنس مل گیا ہے صحافت کی ویسے کوئی جنس نہیں ہوتی باقی وقار ستی ،عثمان خان،رانا طارق،شہریار خان سمیت اور سینیر صحافی وہاں موجود تھےان سے پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔
وزیر صحت مصطفی کمال نے کسی عذر کے بغیر سانحہ پمز کی ذمہ داری قبول کرلی دونوں ایوانوں میں کھل کے موقف سامنے رکھ دیا!! رپورٹ آنے دیں یقین دلاتا ہوں کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا چاہیئے وہ کتنا ہی پاور فل کیوں نہ ہو
#PIMS@mustafakamal
گنگا الٹا بہتا ہے ،یہ محاورتا تو غلط ہے مگر پمز کے معاملے پر یہ فٹ بیٹھتا یے جیسے اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ کر اپنوں میں کے مصداق جناب ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے انکوائری کمیٹی میں انہی کو شامل کردیا جن کی گردن اس پھندے میں آنی تھی اب رپورٹ بنے گی سب اچھا ہوگا اور رپورٹ وزیر اعظم کو پیش ہوگی البتہ آنسو صرف ان ماوں کے نصیب میں رینگے جن کی گود اجڑی یے
#PIMS
#GoMustafaKamalGo
اونچی دوکان پھیکا پکوان !! اربوں کا بجٹ اور نومولود بچ نہ سکے !!
پمز ہسپتال کے مالیاتی بجٹ کی تفصیلات حاصل کر لیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سےگزشتہ تین سال کےدوران پمز ہسپتال کو 22ارب بجٹ دیا گیا۔
گزشتہ سال پمز ہسپتال کے لیے وفاقی حکومت نے 6ارب 84کروڑ بجٹ مختص کیا۔
پمز ہسپتال انتظامیہ نے مختص بجٹ کے برعکس7ارب51کروڑ روپے خرچ کیے۔
گزشتہ سال پمز ہسپتال انتظامیہ نے66کروڑ اضافی بجٹ وصول کیا
رواں سال پمز ہسپتال کو7ارب63کروڑ بجٹ مختص کیا گیا۔۔
وفاقی حکومت نے رپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں پمز ہسپتال کو50کروڑ روپے دیئے
رواں سال رپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں23کروڑ روپے مختص کیے گئے ۔۔
#PIMS
پمز اسپتال سانحہ
حادثہ کیسے پیش آیا
پمز انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی
این آئی سی یو میں انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹا،رپورٹ
نیبولائزر پھٹنے سے آکسیجن نے آگ پکڑی ،رپورٹ
آگ لگنے سے دھواں پیدا ہوا اور وہ دھواں پائپ کے ذریعہ بچوں کے سانس میں گیا
بچوں کی موت کی ایک وجہ آکسیجن بند ہونے پھر جھلسنے سے ہوئی ،رپورٹ
آگ پہلے کم تھی پھر تیزی سے پھیلی ،رپورٹ
#Pims
پمز آتشزدگی واقعہ کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ تیار ۔۔۔ذرائع
فائر بریگیڈ کو پمز میں آگ کی اطلاع 6:55 پر ملی، ذرائع
فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی چھ منٹ میں پمز اسپتال پہنچ گئی، ذرائع
پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے، ذرائع
پمز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات معیار کے مقررہ تقاضوں کے مطابق نہیں تھے، ذرائع
ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند پائے گئے، ذرائع
ہنگامی اخراج کے محفوظ راستوں میں رکاوٹیں موجود تھیں، ذرائع
اسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے عملے کی ابتدائی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی، ذرائع
جائے وقوعہ پر ہجوم کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے انتظامات ناکافی پائے گئے، ذرائع
#PIMS
اسلام آباد:پمز ہسپتال آتشزدگی کا واقعہ
واقعہ میں زندہ بچ جانے والی بچی کی خالہ کا بیان سامنے آ گیا
میں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھانجی کو بچایا:خالہ کا بیان
وارڈ میں ڈاکٹر اپنی جان بچا کر بھاگ گیا تھا:خالہ کا بیان
میں اپنی بہن اور بھانجی کو پولی کلنک لے گئی:خالہ
پمز ہسپتال انتظامیہ مجھ سےرابطہ کر کے کہ رہی ہے کہ میں کسی اور کا بچہ لے گئی:خالہ نے موقف مسترد کر دیا
#pims
#HospitalFire