نام نہاد راجی مچی دھرنے کی آڑ میں پھیلائی گئی غنڈہ گردی اور انتشاری فسادات کو دو سال بیت گئے۔ اس دہشت گردانہ دھرنے کے دوران بزدل شرپسندوں کے حملے میں بلوچ ماں کا نڈر بیٹا، سپاہی شبیر، ملک و قوم کی خاطر جامِ شہادت نوش کر گیا تھا۔ قانون نے اپنا کڑا محاسبہ کرتے ہوئے
1/2
ڈی ایس پی بارکھان مرید بگٹی نے آخری سانس تک بہادری سے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔
انہوں نے دشمن کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ ایسے بہادر سپوت پوری قوم کا فخر ہیں۔
اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے..
بی ایل اے کی دہشتگرد کمانڈر شہناز بلوچ جنوبی بامیان میں ہونے والے ایک کمین گاہ حملے میں شدید زخمی ہو گئی ہے، جبکہ اس کے دو ساتھی جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ افغان سکیورٹی اہلکاروں (طالبان) نے اسے نازک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا ہے۔
دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
آزادی کے نام پر خواتین کو پہاڑوں میں لے جا کر ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو وائرل ہونا اس نام نہاد جدوجہد کے اصل چہرے کو بے نقاب کر رہی ہے۔
مہرنگ بلوچ کے آپ کی قبر پر آپ بی ایل اے کا جھنڈا دیکھ سکتے ہیں۔ یہ وہی جھنڈا ہے جسے بی ایل اے کے دہشت گرد ہاتھ میں لے کر معصوم پاکستانیوں کو مار دیتے ہیں۔
اب عوام خود فیصلہ کریں کہ یہ کس نظریے کی نمائندگی کرتا ہے۔
جو لوگ عوام اور فورسز کو شہید کررہے ہیں ان پر حملہ کررہے ہیں ان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، میں ان لوگوں کو ہندوستان کی صف میں دیکھتا ہوں۔۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف
دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کو بھتہ نہ دینے پر بے گناہ بلوچ خواتین پر فائرنگ کر دی، جس سے دو خواتین شدید زخمی ہو گئیں۔ معصوم شہریوں پر اس ظلم کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے.
یہ ہیں بلوچستان کے بہادر بلوچ، جنہوں نے فتنہ الہندستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے اور ہتھیار بھی اٹھا لیے ہیں۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کر کے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے وطن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 🇵🇰🌹
جو لاپتا نہیں تھا بلکہ سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں مارا گیا تھا۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے "لاپتا افراد" کے بیانیے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر کے ریاست کے خلاف پروپگنڈا کی جاتی رہی۔..
یہ ہے بی وائی سی کی وہ خاتون جو اپنے شوہر کی قبر پر بی ایل اے کا جھنڈا لہرا کر فتح کا نشان (Victory Sign) بنا رہی ہے۔
اس سے پہلے یہی خاتون اپنے شوہر کو "لاپتا" قرار دے کر ریاست مخالف پروپیگنڈا کرتی رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ قبر اسی کے شوہر کی ہے،
1/2
نام نہاد راجی مچی دھرنے کی آڑ میں پھیلائی گئی غنڈہ گردی اور انتشاری فسادات کو دو سال بیت گئے۔ اس دہشت گردانہ دھرنے کے دوران بزدل شرپسندوں کے حملے میں بلوچ ماں کا نڈر بیٹا، سپاہی شبیر، ملک و قوم کی خاطر جامِ شہادت نوش کر گیا تھا۔ قانون نے اپنا کڑا محاسبہ کرتے ہوئے
1/2
جولائی 2026 کو کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے روزی کمانے والے بے گناہ مزدور جاوید خان (ساکن سوات/صوابی) کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا، جبکہ مزید 6 مزدوروں کو اغوا کر لیا، جن میں 2 خیبر پختونخوا اور 4 پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔
1/2
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر پل کو دھماکے سے اڑا دیا، کسی پنجابی نے نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے (BLA) کے بزدل دہشت گردوں نے۔ اب اس پر قوم پرست سردار کچھ نہیں کہیں گے، لیکن جب محرومیوں کی بات آئے گی تو وفاق اور پنجاب پر جھوٹے الزامات لگانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
1/2
تازہ اطلاعات کے مطابق، مستونگ شہر میں بشیر زیب بلوچ کے لیے 50,000 روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے والے افراد نے ایک پنجابی اے ٹی ایم اور ایک پنجابی بس پر فائرنگ کر دی۔
مستونگ میں بی ایل اے کے دہشت گردوں نے نہتی خواتین سے بھری بس پر فائرنگ کر دی۔
اب وہ قوم پرست سردار اور BYC خاموش کیوں ہیں؟ کیا یہ بلوچ خواتین ان کی عزت و غیرت کے دائرے میں نہیں آتیں؟ یا پھر غیرت صرف اس وقت جاگتی ہے جب معاملہ دہشت گردوں سے وابستہ خواتین کا ہو؟
بی ایل اے کے دہشت گرد سوچتے تھے کہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر تھوپ دیں گے، مگر یہ ویڈیو خود حقیقت بیان کر رہی ہے۔
سات آٹھ سال کے بچے فٹ بال کھیل رہے تھے، جیسے ہی بی ایل اے کے دہشت گرد آئے، بچوں نے ان کا استقبال پتھروں سے کیا۔
یہی ہے بلوچستان یہی ہے نئی سوچ، یہی ہے نئی نسل۔