جو خود آئین توڑتے ہیں وہ ہمارے لیے قانون بنارہے ہیں اور صحافیوں کو کہہ رہے ہیں آپ کا ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں سوشل میڈیا پر پگڑی اچھال دی، آپ نے سیاستدانوں کی شلواریں اتار دیں اور آپ پگڑی اچھالنے پر بات کررہے ہیں، مطیع اللہ جان
جب وجاہت نے جبران الیاس سے پوچھا کہ کیوں اپنی جان خطرے میں ڈال کر عمران خان اور پاکستان کے لیے سوشل میڈیا پر محنت کرتے ہو؟
جبران بھائی کا جواب خود سن لیں
جب بھی کوئی انٹرویو انٹرنیشنل میڈیا کو دیا جائے یا وہ کوئی پوسٹ شیئر کریں تو انہی کی پوسٹ کو ری ٹویٹ یا کوٹ ٹویٹ کیا کریں کاپی کر کر خود پوسٹ نہ کیا کریں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو پریس کانفرنس کی ہے وہ انتہاہی شرمناک ہے ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ کوئی جرنیل ہے۔ وہ تو سیاستدان سے بڑھ کر تنقید کررہا تھا اور دھکمیاں دے رہا تھا۔ تم پاکستان کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والے ہو، تم سیاست کرنا چاہتے ہو؟ حامد خان
ہمیں گھروں سے ننگے پاؤں
ننگے سر سادہ کپڑوں والوں نے بچیوں کی موجودگی میں گھسیٹا
کسی کو اخلاقیات یاد نہیں آئی
آنکھوں پر کالی پٹی
منہ پر کالا کپڑا
ہاتھ میں ہتھکڑی
تین دن کی جبری گمشدگی
16 ماہ کی قید اور آج بھی سزا کی وجہ سے گھر سے دور
کسی کو اخلاقیات یاد نہیں آئی
دہشت گردی سے بغاوت کے 100 سے زائد پرچے
16 سالہ بیٹی پر FIR سے انکے سروں پر بندوق رکھنے پر
کسی کو اخلاقیات یاد نہیں آئی
صرف میرے گھر پر کتنی دفعہ ریڈ کیے گئے
میری بیٹوں کے فون اور labtops کتنی دفعہ لیے گئے
کسی کو اخلاقیات یاد نہیں آئی!
کیا ہم کسی کی مائیں بہنیں بیٹیاں نہیں ہیں!
قصور صرف پاکستان اور پاکستانیو کے لیے کھڑا ہونا!
ہم نے یہ سب سہا اور کاٹا ہے اور آف بھی نہیں کی!
مہر صاحبہ میرے کچھ سوالات ہیں۔
۔ سوال پوچھنے والے نے وڈیو بنائی۔ ایک شاپنگ سینٹر تھا۔ مطلب پبلک سپیس۔ اس نے سوال پوچھا۔ شاہ ذیب نے جواب نہیں دیا بلکہ تیزی سے جا کر بیگم کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ بیگم نے اپنا کیمرا نکال کر وڈیو بنانی شروع کر دی۔ اور فوری طور پر کہا کہ آپ ہراسمنٹ کر رہے ہیں۔
اس میں ہراسمنٹ کہاں ہے ؟ آپ پبلک فگر بنتے ہیں تو لوگ سوال بھی پوچھتے ہیں۔ کیا کوئی گالی دی گئی ؟ کیا کوئی قانون توڑا گیا۔
یہ elite captured سوسائٹی کی سوچ ہے۔ جس میں کچھ اس ایلیٹ کلاس کا حصہ ہیں اور کچھ ان سے مرعوب ہیں۔
بھلا ایک جرنلسٹ کسی کے سوال پوچھنے کے حق کو کیسے چیلنج کر سکتا ہے۔
یہی وہ اجتماعی منافقت ہے جو ہمیں لے ڈوبی ہے۔ یہاں سبھی فیلڈ مارشل ہیں۔ کوئی چھوٹا کوئی بڑا۔