My children are not allowed to speak on the phone to their father @ImranKhanPTI. He has been in solitary confinement in prison for nearly 2 years.
Pakistan’s government has now said if they go there to try to see him, they too will be arrested and put behind bars.
This doesn’t happen in a democracy or a functioning state. This isn’t politics. It’s a personal vendetta.
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچھا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”
🚨🚨 اہم خبر: عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان پہلے امریکا جائیں گے وہاں اپنے والد پر ہونے والے ظلم کے بارے آگاہ کریں گے، پھر پاکستان میں شروع ہونی والی تحریک میں حصہ لیں گے، عمران خان کو بتا دیا گیا ہے، علیمہ خان۔۔۔!!!
My father, former Prime Minister Imran Khan, has now spent over 700 days in prison - held in solitary confinement. He is denied access to his lawyers, not allowed visits from his family, fully cut off from us (his children), and even his personal doctor is refused entry. This is not justice. It is a deliberate attempt to isolate and break a man who stood for rule of law, democracy, and Pakistan.
میرے والد، سابق وزیرِ اعظم عمران خان، اب جیل میں 700 دن سے زیادہ قید کاٹ چکے ہیں- اُنہیں اپنے وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں، ہم بچوں سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں، اور ذاتی معالج تک کو ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ ایک ایسے شخص کو تنہا کیا جائے اور توڑا جائے جس نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، جمہوریت، اور پاکستان کے لیے آواز بلند کی.
🇵🇰IMRAN KHAN'S SISTER: “THIS ISN’T PRISON - IT’S PSYCHOLOGICAL TORTURE”
Aleema Khan says Imran is being deliberately cut off from the world inside Adiala Jail.
He hasn’t spoken to his sons in 6 months, is denied books, and is blocked from meeting party members or legal counsel.
Even his doctors are barred from seeing him:
"For the past ten months, Imran Khan’s doctors ( Dr. Faisal Sultan and Dr. Aasim Yusaf ) have not been allowed to examine him.
His health is being put at risk by the continued denial of essential medical care."
Source: @InsafPK
خطے بلخصوص خیبر پختونخواہ کو نئی جنگ میں دھکیلنے اور دہشت گردی کی واپسی کی غلط پالیسی کی نشاندہی کی تو پروپریگنڈا قرار دیا گیا۔ عوامی طاقت سے دہشت گردوں کو واپس دھکیلا تو فیصلہ سازوں کو اس میں اپنی شکست محسوس ہوئی اور غدار ڈکلئیر کر دیا۔ مالاکنڈ میں تین دفعہ اس کوشش کو ناکام بنایا تو جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا کی جانب سے کھیل کا آغاز ہوا اور ہمارے سروں کی قیمت لگا دی گئی۔ مگر اس سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ ہر بات، ہر خدشہ، اور ہر دعوی سچ ثابت ہوا۔
کاٹلنگ میں ڈرون حملہ ہوا معصوم عوام شہید ہوئے تو فیصلہ سازوں نے پبلک انٹرسٹ میں ان کو دہشت گرد ثابت کرنے کا بیانیہ چلوایا۔ ہم نے پوری دنیا کو بتایا کہ یہ کوئی دہشت گرد نہیں سوات کی گجر برداری سے تعلق رکھنے والے معصوم لوگ تھے لیکن ریاست پہ قابض مافیہ اور ان کا سہولت کار میڈیا ان کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تلا رہا۔ اسی طرح ڈرون حملوں میں اضافہ ہوتا گیا اپنے ہی شہریوں پر ان کی اپنی ہی فوج پبلک انٹرسٹ میں ڈرون حملے کرتی رہی۔ گھر، کھیل کے میدان، بزرگ بچے سب پبلک انٹرسٹ میں بلا تفریق قتل کیے گئے اور ہر دفعہ نیا بیانیہ، نیا جھوٹ۔۔ کبھی کہیں بچے اور عوام نہیں دہشت گرد مارے گئے۔ کبھی کہیں کہ ڈرون طالبان نے کیا تو یہ بھی کس کی نا اہلی ہے؟ یہاں تک امن تحریک کے ساتھیوں نے پیغامات بھیجے کہ ہمارے اوپر نہ صرف زمین تنگ کر دی گئی ہے بلکہ فضاء میں ڈرون بھی پیچھا کرتے ہیں۔ اگر ڈرون گرانا شروع کر یں گے تو کہا جائے گا کہ ریاست سے ٹکر لے لی، دہشت گرد ہیں۔ اگر خاموش رہتے ہیں تو ایک ایک کر کے امن کے لیے اٹھنے والی ہر آواز خاموش کردی جائیگی۔
اور اب نیا تماشہ شروع ہونے لگا ہے اٹھارویں ترمیم پاس ہوچکی، فاٹا کا انضمام ہوچکا ہے لیکن چونکہ بڑی گیم کا حصہ بننے کی خواہش اور آفر ہے اس لیے صوبائی حکومت اور منتخب نمائندوں کو بائی پاس کرکے پرانے مقامی نظام کا نام دے کر پبلک انٹرسٹ میں نیا تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔ مقصد نئی جنگ یا آپریشن کی آڑ میں معدنیات پر قبضہ، اور بین الاقوامی مفادات ہیں۔ وگرنہ پبلک انٹرسٹ کی فکرہوتی تو بارڈر سیکیوریٹی کی ذمہ داری سرانجام دیتے اس کےلیے تو صحیح غلط کی کوئ توجیح نہیں درکار تھی وہ تو آپ کی ذمہ داری تھی پھر کیسے آتے ہیں دہشت گرد، کیوں ہوتی ہے دہشت گردی؟ پبلک انٹرسٹ کی پروا ہے تو ڈرون اڑا کر اپنے ہی لوگوں کو مارنا بند کر دیں۔ پبلک انٹرسٹ سے کوئی سروکار ہے تو فاٹا مرجر کے بعد طے شدہ این ایف سی شئیر ان کو کیوں نہیں دے رہے وہ دیجئے۔ ہمارے لوگوں کی فکر ہے تو ہمارے وسائل کو ہمارے لیے مسائل کا سبب نہ بنائیں۔اگر اتنی فکر ہے تو کرفیو لگا کر سکول ہسپتال کاروبار بند کرنے کی بجائے، غیر قانونی کان کنی بند کر دیں لیکن نہیں آپ کی نظر میں پبلک انٹرسٹ یہ ہے کہ پہلے دہشت گردی کی واپسی کو پروپیگنڈا قرار دے دیا، پھر امن کی آوازوں کو غدار ڈیکلئیرکردیا، پھر ڈرون حملوں کے زریعے خوف پھیلایا، پھر کرفیو، پھر آپریشن کی خواہش کا اظہار اور اب جرگہ سسٹم بحال کرنے جیسے نام دے کر نئی چالیں چلنی ہیں ۔ ہاں یہ علاقے یہ لوگ آپ کے لیے ہمیشہ سے تجربہ گاہ رہے ہیں لیکن اب نہیں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ آپریشن کا اعلان کرکے ایک دفعہ پھر ہمیں گھروں سے نکال دیں گے تو یہ آپ کی بھول ہے یہ ۲۰۰۰۸ نہیں ہے۔ قوم دیکھ رہی کہ جب ریاست کسی اور محاذ پر مصروف ہوجاتی ہے تو کیسے سابقہ فاٹا میں بھی امن آجاتا ہے۔
سو اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ڈالری جنگ شروع کرکے، دنیا کو ہمارے جنازے دکھا کر، ڈرون میں معصوم لوگوں کو شہید کرکے، ڈالر کما لیں گے اور ان سب کی آڑ میں ہمارے علاقوں کے ذخائر پر قبضہ کر لیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ اب پبلک اپنا انٹرسٹ آپ کے بیانیوں سے نہیں جانچتی۔ باجوڑ سے وزیرستان تک جو خونریزی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اپنی طاقت کو طول دینے بڑی طاقتوں کی لڑائی میں ریلیونٹ رہنے اور ہمارے وسائل کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کے لئے ان ڈراموں کو بند کرنا ہوگا۔ گذشتہ تین سالوں میں، کل اور آج جس انداز سے لوگ نکلے ہیں آپ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی یہ آپ کے اپنے انٹرسٹ میں بہتر ہوگا!
میں اپنے لوگوں کو بھی کہتا ہوں کہ اس نئے کھیل سے باخبر رہیں اور اسی طرح متحد رہیں۔ ۱۱ تاریخ سے وزیرستان میں دھرنا شروع ہوگا، دیگر مارچز کے علاوہ اس میں بھی اپنی شرکت یقینی بنائیں۔ یہ پورا کھیل جس طرح ان فولڈ ہو رہا ہے اس کی تفصیل میں نے آپ کے امن نمائندوں کو پہلے سے بتائی ہوئی ان سب کی زندگی کو خطرات ہیں لیکن ایسے متحد رہیں گے تو اپنا امن حاصل کر کے ان کے مضموم مقاصد کو شکست دینے میں کامیاب ہوں گے۔
عمران خان اگر مزاحمت نہ کرتا تو شاید قوم کا ایک ایک فرد یہ نہ جان پاتا کہ اس ملک میں ریاست سے بالا نظام کیسے کام کرتا ہے، ایک عمران خان کو ختم کرنے کی مہم میں کیسے کیسے حقائق بے نقاب ہو رہے ہیں، کیسے کیسے محراب نشینوں کے محراب کُھل رہے ہیں، اب تو یہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ ہمارے لئے صحیح یا غلط کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ہم جو بھی کرتے ہیں اسے national interest کا نام دیتے ہیں اور جس فیصلے کو ہم national interest کا نام دے دیں تو وہ جتنا خطرناک اور بھیانک فیصلہ ہی کیوں نہ ہو اسے کوئی غلط نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ national interest بنا دیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انکے دیئے ہوئے national interest ملک و قوم کیلئے national disaster ثابت ہوئے