Remembering my grandfather, Shaheed Nawab Akbar Bugti, on his martyrdom anniversary. A man of principle whose sacrifice became the eternal symbol of Baloch dignity and freedom. Great souls never die they become ideals. Rest in power.
کیچ: حکام کے مطابق دشت میں پاکستان فوج کے بسوں کے قافلے کو خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکے میں نشانہ بنایا، دھماکے کے بعد مسلح افراد نے قافلے پر حملہ کیا۔
نقصانات کے حوالے سے حکام نے تاحال کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے پورے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگی کے خلاف تحریک میں آج پنجگور میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ، ریلی کے شرکاء کو ڈیٹھ اسکوارڈ اور ایجنسی کے کارندوں نے ہراساں کیا اور طالب علم حسیب بلوچ کو سرعام جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ، نام نہاد جمہوریت کے دعویدار بلوچستان میں جاری اپنے بدمعاش فورسسز کے گنڈہ گردی کے جرم میں برابر کے شریک ہے۔
#EndEnforcedDisappearences
#ReleaseHaseebBaloch
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے قبل چینی قافلے پر BLA کا حملہ نہ صرف بلوچ مسلح گروہوں کی آپریشنل صلاحیتوں کو ظاہر کرتا بلکہ ان کی حکمت عملی میں آنے والی تبدیلی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ماضی کے برعکس یہ تنظیمیں اب زیادہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ حملہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بے سرھال
منارا ھشت سالیں زندگی ءِ در نہ دیستگ من
کجا بندات بوتگ کشک
کجا آسر نہ دیستگ من
کدی ھوراں رگامی تَر کتگ لوگ ءِ دپ ءَ تاپیں منی زال ءِ گشان ءِ لمب
کدی مات ءَ منی جَر ءُ گدانی بو شمشتگ ھچ نزاناں من
#SaveShabirBaloch
گوادر سے دو بلوچ طالب علم جبری لاپتہ
بلوچ طلباء موسیٰ خالق داد اور سمیر مجید کو فورسز نے 22 ستمبر کو دشت ڈورو چیک پوسٹ گوادر سے اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ دونوں گوادر سے کپکپار جا رہے تھے-
#EndEnforcedDisappearances
آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد شروع کرکے بیگناہ پشتون قوم کا قتل عام کیا،
آپریشن ازم استحکام بلوچستان میں کئی دہائیوں سے جاری ہے، یہ ہڈیاں آپ کے آپریشن کا تسلسل ہیں، ہم تو ان چیزوں کے عادی ہیں لیکن آپ کی عوام بہت نازک ہے جو شائد اتنا برداشت نہ کرسکے، گراؤنڈ کی حالت دیکھ کر کسی تجزیے کی ضرورت نہیں، آپ شکر کریں کہ آپ کا سامنا ایسی قوم سے ہے جو آپ کی طرح بے لگام نہیں ہے اور کسی بیگناہ کو نقصان نہیں دیتا، آپ کی اس طرح کی بیہودہ حرکتیں دیکھ کر میرے خیال میں اب آپ کے رونے کے دن شروع ہونے والے ہیں،
ایک سیاسی کارکن کا کام سمجھانا ہوتا ہے،
بہادر بشیر احمد، کراچی یونیورسٹی کا طالب علم جو اپنے آبائی شہر پسنی میں عید کی چھٹیاں منانے کیلئے گیا تھا کل شام کو انکے علاقے سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں سنگین حد تک بڑھتی جارہی ہیں کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہے، بلوچ عوام سے درخواست ہیکہ اس جبر و لاقانونیت کے خلاف یکجاء ہوکر آواز اٹھائیں۔