مگر شاید زندگی کا اصل امتحان یہی ہے
کہ انسان ٹوٹ کر بھی خود کو دوبارہ
جوڑنے کی ہمت رکھے۔
اگرچہ دل کہتا ہے کہ
"میں نے تو ایک عمر تباہ ہونے میں لگا دی،
اب خود کو سنواروں گا تو شاید مر جاؤں گا"،
اور یہی ٹوٹا ہوا وجود میری
سب سے خوبصورت کہانی لکھ دے۔🫠❤️🩹
اپنی کھوئی ہوئی مسکراہٹ واپس لاؤں
اور اپنی زندگی کو نئے سرے سے جینے
کا حوصلہ کروں،
تو شاید ایک اور عمر درکار ہوگی-
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے
وقت نے صرف بکھرنا سکھایا،
سنبھلنا نہیں۔
مگر شاید زندگی کا اصل امتحان یہی ہے
کہ انسان ٹوٹ کر بھی خود کو دوبارہ
میں نے خود کو بکھیرنے میں ایک عمر لگا دی۔
ہر غلط فیصلے،
ہر ٹوٹے ہوئے خواب،
ہر خاموش آنسو اور ہر نامکمل خواہش
نے م��ھے آہستہ آہستہ اس مقام تک پہنچایا
جہاں خود کو پہچاننا بھی مشکل ہو گیا۔
اب اگر خود کو سنوارنے نکلوں،
اپنے زخم بھرنے کی کوشش کروں،
#غزل
ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی
پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو
وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج میرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
میرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
تیرے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
میرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی کبھی جو تیری قرب میں گزارے تھے
اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا
رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا
زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی
کھلے دریچے پہ اک پھول ��ان چھوڑ گیا
جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا
بڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ گ
نظرِ تغافلِ یار کا گلہ کس زباں سے کروں بیاں
کہ شرابِ حسرت و آرزو، خمِ دل میں تھی سو بھری رہی
وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی
ترے جوشِ حیرتِ حسن کا اثر اس قدر ہے یہاں ہوا
کہ نہ آئینے میں جِلا رہی، نہ پری میں جلوہ
خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی
شۂ بے خودی نے عطا کیا، مجھے اب لباسِ برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی، نہ جنوں کی پردہ دری رہی
چلی سمتِ غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
جب نظراندار ہونا شروع ہو جائیں۔
تو کنارہ کر لیں۔
کیونکہ کے وضاحتیں۔
آپ کا کھویا ہوا مقام واپس نہیں لا سکتی۔
ھاں خاموشی اپ کو مزید زلت سے بچا ضرور سکتی ہے۔
چنگیاں گلاں