وِچ مَن ماہی عِشق وسایا
عِشق نے لُوں لُوں رقص کرایا
رانجھن بنیاں عشق دا جوگی
عشقے تخت ہزارچھڑوایا اے
کی جانن لوکی کملے
عشق آسمانی ازلوں آیا ب
سمل بنھ کے بلھے وانگوں
گھنگھرو بن کے عشق نچایا
ہس کے سولی چڑھ جاندا
او جس تن عشق نے ڈیرہ لایا
ویکھ بندیا اسماناں تے اڈدے پنچھی
ویکھ تے سہی کی کردے نے
ناں او کردے رزق ذخیرہ
نا ں او بھکے مردے نے
کدی کسے نے پنکھ پکھیرو
بھکے مردے ویکھے نے؟
بندے ہی کردے رزق ذخیرہ
بندے ہی بھکے مردے نے
( بلھے شاہ )
دورِ تنہاٸ میں اکیلا پیدل میں چل رہا ہوں
ہر دن خود کو مٹا کر آنے والے دن کو میں بدل رہا ہوں
نفرتوں کا وہ عالم بھی وقتِ مصیبت میں دیکھا ہے میں نے
تبھی تو اپنا آج اپنے رب کی مرضی میں بدل رہا ہوں
لفظوں میں گیری بات کا ہونا لازم ہے
تیرے دل میں اُس ذات کا ہونا لازم ہے
لازم نہیں کے تُو ہر سو اُس کو دیکھ سکے!
بس تیری ذات میں اُس کی ذات کا ہونا لازم ہے