اطلاعِ عام: نثار احمد پنھوار اور محسن نثار پنھوار آج دوپہر گھر سے روانہ ہونے کے بعد لاپتہ ہیں۔ آخری لوکیشن ملیر ہالٹ کے قریب تھی، اس کے بعد دونوں کے موبائل بند ہیں۔ کسی بھی معلومات کی صورت میں فوری اطلاع دیں۔
167 دن گزر چکے ہیں، مگر نثار پنہور اور ان کے بیٹے محسن پنہور آج بھی لاپتہ ہیں۔ پہلے نثار پنہور کو تین ماہ تک بغیر کسی جرم کے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، اور رہائی کے صرف آٹھ دن بعد انہیں دوبارہ ان کے بیٹے کے ساتھ دن دہاڑے اغوا کر لیا گیا۔
آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیوں بار بار میرے والد اور بھائی کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کس کے حکم پر یہ ظلم جاری ہے؟ کسی انسان کو مہینوں تک اس کے اہلِ خانہ سے دور رکھنا انصاف نہیں، بلکہ کھلی ناانصافی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نثار پنہور اور محسن پنہور کو فوری طور پر رہا کیا جائے!!! #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
167 دن گزر چکے ہیں، مگر نثار پنہور اور ان کے بیٹے محسن پنہور آج بھی لاپتہ ہیں۔ پہلے نثار پنہور کو تین ماہ تک بغیر کسی جرم کے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، اور رہائی کے صرف آٹھ دن بعد انہیں دوبارہ ان کے بیٹے کے ساتھ دن دہاڑے اغوا کر لیا گیا۔
آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیوں بار بار میرے والد اور بھائی کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کس کے حکم پر یہ ظلم جاری ہے؟ کسی انسان کو مہینوں تک اس کے اہلِ خانہ سے دور رکھنا انصاف نہیں، بلکہ کھلی ناانصافی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نثار پنہور اور محسن پنہور کو فوری طور پر رہا کیا جائے!!! #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
📢 RELEASE MY FATHER EX MNA NISAR AHMED PANHWAR AND MY BROTHER MOHSIN PANHWAR!
(166) days passed in illegal detention.
My father, former MNA Nisar Ahmed Panhwar, served Pakistan and its people selflessly for over 10 years—both with power and without power. When he was finally released from his 4th illegal detention of 87 days on December 12, it was the direct result of the relentless struggle and the legal battles fought bravely by my brother Mohsin but Our happiness, peace, and freedom lasted for only 10 days.
Exactly 10 days after his release, on December 22, 2025, my father Nisar Ahmed Panhwar and my brother Mohsin Panhwar were abducted together. Today, it has been more than 5 months. Both are being held in illegal detention without any charges and without any crime.
How are they? How is their health? How are they being treated?
For God’s sake, are you even human? Is this how you treat human beings who care for the people and are loved by the people?
Have some decency, have some shame, have some fear of God!
Just stop and think for a moment—if your father, your brother, or any of your family members went missing for just 3 days without any information, what would you go through? You cannot even think that agony! And think about what those innocent souls are going through, enduring wrongful confinement inside those dark dungeons.
On behalf of my entire family, as a citizen of Pakistan, and in my capacity as a son and a brother, I demand:
My father Nisar Ahmed Panhwar and my brother Mohsin Panhwar must be released from this illegal detention immediately, safely, and in perfect health!
We demand justice! We want our loved ones back!
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
📢 RELEASE MY FATHER EX MNA NISAR AHMED PANHWAR AND MY BROTHER MOHSIN PANHWAR!
(166) days passed in illegal detention.
My father, former MNA Nisar Ahmed Panhwar, served Pakistan and its people selflessly for over 10 years—both with power and without power. When he was finally released from his 4th illegal detention of 87 days on December 12, it was the direct result of the relentless struggle and the legal battles fought bravely by my brother Mohsin but Our happiness, peace, and freedom lasted for only 10 days.
Exactly 10 days after his release, on December 22, 2025, my father Nisar Ahmed Panhwar and my brother Mohsin Panhwar were abducted together. Today, it has been more than 5 months. Both are being held in illegal detention without any charges and without any crime.
How are they? How is their health? How are they being treated?
For God’s sake, are you even human? Is this how you treat human beings who care for the people and are loved by the people?
Have some decency, have some shame, have some fear of God!
Just stop and think for a moment—if your father, your brother, or any of your family members went missing for just 3 days without any information, what would you go through? You cannot even think that agony! And think about what those innocent souls are going through, enduring wrongful confinement inside those dark dungeons.
On behalf of my entire family, as a citizen of Pakistan, and in my capacity as a son and a brother, I demand:
My father Nisar Ahmed Panhwar and my brother Mohsin Panhwar must be released from this illegal detention immediately, safely, and in perfect health!
We demand justice! We want our loved ones back!
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
166 دن سے میرے والد نثار پنھور اور میرے بھائی محسن پنھور لاپتہ ہیں۔166 دن سے ہمارا گھر انتظار، بے بسی اور اذیت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، کس کے رحم و کرم پر ہیں، یا ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج بھی ہم اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کی خیریت جاننے کے منتظر ہیں۔ ایک بیٹی اپنے والد کی راہ تک رہی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کی واپسی کی دعا کر رہی ہے، اور ایک خاندان مسلسل کرب اور بے یقینی کی زندگی گزار رہا ہے۔
آخر ان کا قصور کیا ہے؟ کیوں ایک خاندان کو اتنی طویل سزا دی جا رہی ہے؟ اگر کوئی الزام ہے تو قانون کے مطابق پیش کیا جائے، مگر کسی کو مہینوں تک لاپتہ رکھنا نہ انصاف ہے اور نہ انسانیت۔
ہم متعلقہ حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور ہر صاحبِ ضمیر انسان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں۔ خاموشی ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے۔
خدارا، نثار پنھور اور محسن پنھور کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہمارے خاندان کی اس طویل اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔ اب یہ ظلم اپنی تمام حدیں پار کر چکا ہے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
166 دن سے میرے والد نثار پنھور اور میرے بھائی محسن پنھور لاپتہ ہیں۔166 دن سے ہمارا گھر انتظار، بے بسی اور اذیت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، کس کے رحم و کرم پر ہیں، یا ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج بھی ہم اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کی خیریت جاننے کے منتظر ہیں۔ ایک بیٹی اپنے والد کی راہ تک رہی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کی واپسی کی دعا کر رہی ہے، اور ایک خاندان مسلسل کرب اور بے یقینی کی زندگی گزار رہا ہے۔
آخر ان کا قصور کیا ہے؟ کیوں ایک خاندان کو اتنی طویل سزا دی جا رہی ہے؟ اگر کوئی الزام ہے تو قانون کے مطابق پیش کیا جائے، مگر کسی کو مہینوں تک لاپتہ رکھنا نہ انصاف ہے اور نہ انسانیت۔
ہم متعلقہ حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور ہر صاحبِ ضمیر انسان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں۔ خاموشی ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے۔
خدارا، نثار پنھور اور محسن پنھور کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہمارے خاندان کی اس طویل اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔ اب یہ ظلم اپنی تمام حدیں پار کر چکا ہے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
165 دن سے والد نثار پنہوار اور بھائی محسن پنہوار لاپتہ ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور کس کے رحم و کرم پر ہیں۔
پانچ ماہ سے ہم اپنے پیاروں کی جدائی کا کرب سہہ رہے ہیں۔آخر ان کا قصور کیا ہے کہ انہیں اتنی طویل سزا دی جا رہی ہے؟
خدارا انہیں فوری طور پر کریں !🙏🏻
165 دن سے والد نثار پنہوار اور بھائی محسن پنہوار لاپتہ ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور کس کے رحم و کرم پر ہیں۔
پانچ ماہ سے ہم اپنے پیاروں کی جدائی کا کرب سہہ رہے ہیں۔آخر ان کا قصور کیا ہے کہ انہیں اتنی طویل سزا دی جا رہی ہے؟
خدارا انہیں فوری طور پر کریں !🙏🏻
165 دن گزر چکے ہیں، مگر سابق MNA نثار احمد پنہور اور محسن نثار پنہور آج بھی ہم سے دور اور غیر قانونی حراست میں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک نہ کوئی مقدمہ سامنے لایا گیا، نہ کوئی الزام ثابت کیا گیا، اور نہ ہی کوئی قانونی جواز پیش کیا گیا۔
رمضان گزر گیا، عیدالفطر گزر گئی، اب عیدالاضحیٰ بھی گزر گئی، مگر ہمارے اپنے آج بھی اپنے خاندان سے دور ہیں۔ ایک خاندان کے لیے اس سے بڑا دکھ کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی خبر تک سے محروم ہو۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بعض اوقات عوامی مقبولیت، لوگوں کی محبت اور اعتماد کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عزت اور احترام کسی عہدے یا طاقت سے نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ تعلق، ان کے مسائل کو سننے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ میرے والد اور بھائی سے محبت کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔
یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ میرے والد کو متعدد مرتبہ اور میرے بھائی کو دوسری مرتبہ ہم سے دور کیا گیا۔ محسن کا واحد "قصور" یہ تھا کہ وہ اپنے والد کے لیے آواز بلند کرتا تھا اور انصاف کا مطالبہ کرتا تھا۔
165 دن بعد بھی ہم صرف یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون اور آئین کے مطابق میرے والد نثار احمد پنہور اور میرے بھائی محسن نثار پنہور کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا اگر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ ہم متعلقہ اداروں سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور ایسے عناصر سے محتاط رہیں جو غلط مشوروں یا غلط معلومات کے ذریعے اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں۔
ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ نثار پنہور اور محسن پنہور کو بحفاظت اور خیریت کے ساتھ جلد از جلد رہا کیا جائے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#Pakistan
165 دن گزر چکے ہیں، مگر سابق MNA نثار احمد پنہور اور محسن نثار پنہور آج بھی ہم سے دور اور غیر قانونی حراست میں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک نہ کوئی مقدمہ سامنے لایا گیا، نہ کوئی الزام ثابت کیا گیا، اور نہ ہی کوئی قانونی جواز پیش کیا گیا۔
رمضان گزر گیا، عیدالفطر گزر گئی، اب عیدالاضحیٰ بھی گزر گئی، مگر ہمارے اپنے آج بھی اپنے خاندان سے دور ہیں۔ ایک خاندان کے لیے اس سے بڑا دکھ کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی خبر تک سے محروم ہو۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بعض اوقات عوامی مقبولیت، لوگوں کی محبت اور اعتماد کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عزت اور احترام کسی عہدے یا طاقت سے نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ تعلق، ان کے مسائل کو سننے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ میرے والد اور بھائی سے محبت کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔
یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ میرے والد کو متعدد مرتبہ اور میرے بھائی کو دوسری مرتبہ ہم سے دور کیا گیا۔ محسن کا واحد "قصور" یہ تھا کہ وہ اپنے والد کے لیے آواز بلند کرتا تھا اور انصاف کا مطالبہ کرتا تھا۔
165 دن بعد بھی ہم صرف یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون اور آئین کے مطابق میرے والد نثار احمد پنہور اور میرے بھائی محسن نثار پنہور کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا اگر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ ہم متعلقہ اداروں سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور ایسے عناصر سے محتاط رہیں جو غلط مشوروں یا غلط معلومات کے ذریعے اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں۔
ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ نثار پنہور اور محسن پنہور کو بحفاظت اور خیریت کے ساتھ جلد از جلد رہا کیا جائے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#Pakistan
164 دن گزر چکے ہیں، مگر میرے والد نثارپنہوار اور میرے بھائی محسن پنہوار آج بھی لاپتا ہیں۔ آخر وہ کہاں ہیں؟ کس کے حکم پر انہیں مہینوں سے غیر قانونی طور پر لاپتا رکھا گیا ہے؟
نثار پنہور ماضی میں ایم این اے رہ چکے ہیں۔ عوام آج بھی ان سے محبت کرتی ہے، ان کی عزت کرتی ہے اور ان پر اعتماد رکھتی ہے۔ شاید یہی بات کچھ لوگوں کو برداشت نہیں ہوئی۔ لیکن یاد رکھیں، کسی کی عزت، محبت اور مقام چھیننے سے نہیں ملتا۔ عزت اور ذلت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
آپ دنیا میں اپنی طاقت کا جتنا چاہیں استعمال کر لیں، مگر ایک دن اللہ کو ہر ناانصافی کا جواب دینا ہوگا۔
ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے:
نثار پنہوار اور محسن پنہوار کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
164 دن گزر چکے ہیں، مگر میرے والد نثارپنہوار اور میرے بھائی محسن پنہوار آج بھی لاپتا ہیں۔ آخر وہ کہاں ہیں؟ کس کے حکم پر انہیں مہینوں سے غیر قانونی طور پر لاپتا رکھا گیا ہے؟
نثار پنہور ماضی میں ایم این اے رہ چکے ہیں۔ عوام آج بھی ان سے محبت کرتی ہے، ان کی عزت کرتی ہے اور ان پر اعتماد رکھتی ہے۔ شاید یہی بات کچھ لوگوں کو برداشت نہیں ہوئی۔ لیکن یاد رکھیں، کسی کی عزت، محبت اور مقام چھیننے سے نہیں ملتا۔ عزت اور ذلت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
آپ دنیا میں اپنی طاقت کا جتنا چاہیں استعمال کر لیں، مگر ایک دن اللہ کو ہر ناانصافی کا جواب دینا ہوگا۔
ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے:
نثار پنہوار اور محسن پنہوار کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
⏳ 163 دن — انصاف اب بھی لاپتا
Nisar (61, ex-MNA/MPA, diabetic) & Mohsin (29) — patriots punished without crime.
💔 Families shattered, candles still burning.
🏛️ Institutions silent, voices fading — مگر ہمارا سوال باقی ہے:
Where is justice.?
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
⏳ 163 دن — انصاف اب بھی لاپتا
Nisar (61, ex-MNA/MPA, diabetic) & Mohsin (29) — patriots punished without crime.
💔 Families shattered, candles still burning.
🏛️ Institutions silent, voices fading — مگر ہمارا سوال باقی ہے:
Where is justice.?
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
163 دن، ہر رات، ہر لمحہ ہم آپ دونوں کو یاد کرتے ہیں۔
میرے والد نثار پنہور نے اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر، ہمیشہ عوام اور ملک کی خدمت کی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ انہیں پلاٹوں کی فائلیں، پیسوں سے بھرے بیگ اور مختلف مراعات پیش کرتے تھے، مگر انہوں نے ہمیشہ عزت، دیانتداری اور وقار کے ساتھ ان سب کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے بجائے ہمیشہ عوامی مفاد کو ترجیح دی۔ یقیناً ایسی بے شمار خدمات ہیں جو انہوں نے لوگوں اور ملک کے لیے انجام دیں، جن کا مجھے بھی مکمل علم نہیں۔
میرے بھائی محسن پنہور نے صرف 18 سال کی عمر سے گھر کی تمام ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا لیں۔ اپنے والد کا ساتھ دیا، گھر کو سنبھالا اور ہر مشکل وقت میں ثابت قدم رہے۔ "محسن واقعی اپنے نام کی طرح اپنے گھر کے لیے محسن ثابت ہوا ہمیشہ۔" ❤️
آج 163 دن گزر چکے ہیں، مگر میرے والد سابق MNA نثار پنہور اور میرے بھائی محسن پنہور اب بھی غیر قانونی حراست میں ہیں۔ نہ کوئی جرم ثابت کیا گیا، نہ کوئی قانونی جواز پیش کیا گیا۔ جن لوگوں نے انہیں ہم سے جدا کیا ہے، وہ بھی جانتے ہیں کہ میرے والد اور بھائی کس کردار، دیانتداری اور عظمت کے انسان ہیں۔
آپ کی طاقت کا استعمال وہ کر رہے ہیں جن کے پاس اپنی کوئی اصل طاقت نہیں، اور اپنی عزت بچانے کے لیے اداروں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے (افسوس۔)۔ مشکل سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے دو باعزت اور اصول پسند انسانوں کو خاموش کر دیا گیا، جنہوں نے اپنی زندگی عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
یا اللہ! میرے والد اور بھائی کو صبر، ہمت اور استقامت عطا فرما، اور انہیں خیریت، عزت اور سلامتی کے ساتھ جلد از جلد ہمارے درمیان واپس لے آ۔ آمین۔
ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے: نثار پنہور اور محسن پنہور کی باحفاظت، باعزت اور فوری رہائی۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#Pakistan
#karachi
163 دن، ہر رات، ہر لمحہ ہم آپ دونوں کو یاد کرتے ہیں۔
میرے والد نثار پنہور نے اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر، ہمیشہ عوام اور ملک کی خدمت کی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ انہیں پلاٹوں کی فائلیں، پیسوں سے بھرے بیگ اور مختلف مراعات پیش کرتے تھے، مگر انہوں نے ہمیشہ عزت، دیانتداری اور وقار کے ساتھ ان سب کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے بجائے ہمیشہ عوامی مفاد کو ترجیح دی۔ یقیناً ایسی بے شمار خدمات ہیں جو انہوں نے لوگوں اور ملک کے لیے انجام دیں، جن کا مجھے بھی مکمل علم نہیں۔
میرے بھائی محسن پنہور نے صرف 18 سال کی عمر سے گھر کی تمام ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا لیں۔ اپنے والد کا ساتھ دیا، گھر کو سنبھالا اور ہر مشکل وقت میں ثابت قدم رہے۔ "محسن واقعی اپنے نام کی طرح اپنے گھر کے لیے محسن ثابت ہوا ہمیشہ۔" ❤️
آج 163 دن گزر چکے ہیں، مگر میرے والد سابق MNA نثار پنہور اور میرے بھائی محسن پنہور اب بھی غیر قانونی حراست میں ہیں۔ نہ کوئی جرم ثابت کیا گیا، نہ کوئی قانونی جواز پیش کیا گیا۔ جن لوگوں نے انہیں ہم سے جدا کیا ہے، وہ بھی جانتے ہیں کہ میرے والد اور بھائی کس کردار، دیانتداری اور عظمت کے انسان ہیں۔
آپ کی طاقت کا استعمال وہ کر رہے ہیں جن کے پاس اپنی کوئی اصل طاقت نہیں، اور اپنی عزت بچانے کے لیے اداروں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے (افسوس۔)۔ مشکل سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے دو باعزت اور اصول پسند انسانوں کو خاموش کر دیا گیا، جنہوں نے اپنی زندگی عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
یا اللہ! میرے والد اور بھائی کو صبر، ہمت اور استقامت عطا فرما، اور انہیں خیریت، عزت اور سلامتی کے ساتھ جلد از جلد ہمارے درمیان واپس لے آ۔ آمین۔
ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے: نثار پنہور اور محسن پنہور کی باحفاظت، باعزت اور فوری رہائی۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#Pakistan
#karachi