اس حال میں ہم نے تمہیں دیکھا ہی نہیں تھا
محفل میں بھی ہوتے ہو پہ ہوتے بھی نہیں ہو
آنکھیں تیری بوجھل سی نظر آیں سر شام
آنکھیں ہیں پریشان کہ سوتے بھی نہیں ہو
پوچھو تو سہی چل کے عطا سے کہ ہوا کیا
ہنستے بھی نہیں ہو کبھی روتے بھی نہیں ہو
"گدھا بہت ثقہ جانور ہے یہ کبھی نہیں ہنستا۔گدھے کبھی نہیں ہنستے۔گدھے کی آواز میں ایک عجیب طرح کا جوش اور ولولہ پایا جاتا ہے ۔ جب رات گئے یہ اپنا نظریاتی راگ چھیڑتا ہے تو لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔ہمارے ہاں سارے نظریاتی راگ اسی لے میں گائے جاتے ہیں"
کانا
وہ ہوتا ہے جس کی صرف ایک آنکھ ہوتی ہے چنانچہ وہ ادھورے مناظر دیکھتا ہے ۔اگر وہ بائیں آنکھ سے کانا ہے تو اسے دائیں ہاتھ کی خوبصورتیاں نظر آتیں اور اگر وہ دائیں آنکھ سے کانا ہے تو بائیں ہاتھ کا حسن اس کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔``