وفا ہو کر,جفا ہو کر,حیا ہو کر,ادا ہو کر
سمائے ہیں وہ میرے دل میں نہ جانے کیا ہو کر
بہر صورت وہ دل والوں سے دل کو چھین لیتے ہیں
مچل کر,مسکرا کر,روٹھ کر,تن کر,خفا ہو کر
مل ہی جائے گا وہ اک دن دل کو یقین رہتا ہے
وہ شخص اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے.
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم.
دار کی خشک ٹہنی پر وارے گئے.
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم.
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے.
کبھی اس نگر تجھے دیکھنا کبھی اس نگر تجھے ڈھونڈنا.
.کبھی رات بھر تجھے سوچنا کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا.
مرا خواب تھا کہ خیال تھا وہ عروج تھا کہ زوال تھا.
کبھی عرش پہ تجھے دیکھنا کبھی فرش پہ تجھے ڈھونڈنا.
فرشتوں سے بھی اچھا میں بُرا ہونے سے پہلے تھا
وہ مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا
کیا کرتے تھے باتیں زندگی بھر ساتھ دینے کی
مگر یہ حوصلہ ہم میں جدا ہونے سے پہلے تھا
بُجھا کے رکھ دے یہ کوشش بہت ہوا کی تھی...
مگر چراغ میں روشنی کچھ انا کی تھی...
میری شکست میں تھے کیا کیامضمرات نہ پوچھ...
عدو کا ہاتھ تھا اور چال آشنا تھی...
وہ شہد سےمیٹھا تھا کہ پھولوں سےحسیں تھا...
تھا جو بھی,مجھے کیاجو مقدر میں نہیں تھا...
دل میرے نے ہی میری کوئی بات نہ مانی...
تُو میرا نہیں اس کا مجھے پورا یقین تھا...