کل رات سے حمزہ قصوری کو آئ ایس آئ والے اٹھا کر لےگئے ھین اس کا قصور یہ تھا کے وہ لبیک کا ورکر تھا اور عمران خان اور اسکی بہنوں کی ناحق گرفتاری پے بات کی اور اب اسکو اٹھا کر لے گئے ھین یہ انکی ٹوٹل اوقات ہے اور دعوے کر رہے ھین ہم نمبر ون ھین یہ صرف اپنوں کو ہی اٹھا سکتے ھین اپنوں سے ہی لڑ سکتے ھین بلوچستان میں انکی کیا اوقات سب کو پتا ہے بزدل ہجڑے کہیں کے
خواتین و حضرات، پیشِ خدمت ہیں سابقہ وزیر اطلاعات اور وزیرِ سائنس 🙂۔
کیا مدینہ میں:
آزانوں پر باپندی تھی؟
پبلک جگہوں میں نمازوں پر پابندی تھی؟
اسلامی قوانین پر پابندی تھی؟
حجاب پر پابندی تھی؟
حجاب کو جہالت کا نمونہ کہا جاتا تھا؟
تاریخ کا علم نہ لبرل ازم کا۔
یہ لوگ جہالت کا وہ پٹرول سٹیشن ہیں جہاں جہالت بذات خود refilling کرانے آتی ہے 🙂۔
حافظ سعد حسین رضوی اور انس رضوی کی گمشدگی کو پانچ مہینے سے زائد ہو گئے ہیں۔ قابلِ حیرت ہے، قابلِ افسوس ہے اور قابلِ مذمت ہے کہ ریاست اس معاملے پر ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اور کچھ نہ ہو، یہ دونوں پاکستان کے شہری ہیں اور عدالتوں تک رسائی اُن کا حق ہے۔
🚨🚨🚨
تحریک لبیک پاکستان کے مخلص کارکنان آپ سے گزارش ہے کہ حالات سے کچھ اسباق پڑھیں۔۔
کسی کے پیچھے آنکھیں بند کر کے دوڑ مت لگا دیا کریں۔۔
ابھی ایک گرفتاری کی خبر آئے گی تو خدارا اسکو فوراً سے تبصروں کی زد میں نہ لے آنا
#سانحہ_مریدکے100دن