بس اپنے تک ہی رکھتے ہیں وصالِ یار کی تفصیل
یہ در احباب کی دستک پہ بھی کھولا نہیں کرتے
حماقت ہے محبت میں بدن کی جستجو کرنا
مگر یہ وہ حماقت ہے جو ہم تنہا نہیں کرتے
جوانی،اکیلا پن،گھر کی ذمہ داریاں ،ادھوری خواہشات ،ناکامیاں،مستقبل،
سسکیاں ،مشکالات،تھکاوٹ،طعنے،ناامیدی،ناکام دوستیاں ،اور پتا نہیں کیا کیا سینے میں لیے،اگر جی رہے ہیں تو کمال کر رہےہیں آپ
آئینے میں پہلےاک چہرا ہوا کرتا تھا میں
یہ مجھے کیا ہو گیا ھےکیا ہوا کرتا تھا میں
پیاس کی صورت کھڑا ہوں آج سب کے سامنے
کون مانے گا کبھی دریا ہوا کرتا تھا میں 🥀
محبت میں جو سن رکھا تھا ویسا کچھ نہیں ہوتا
کہ اس میں بندہ مر جاتا ہے زیادہ کچھ نہیں ہوتا
یہ فلموں میں ہی سب کو پیار مل جاتا ہے آخر میں
مگر سچ مچ میں اس دنیا میں ایسا کچھ نہیں ہوتا
میری غربت نے مجھ سے میری دنیا چھین لی حافی
میری اماں تو کہتی تھی پیسہ کچھ نہیں ہوتا