الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے حجِ بیت اللہ کی سعادت سے نوازا۔
بہت سے لوگوں نے قیاس و گمان کیا کہ یہ سفر کس نے کروایا اور کیسے ہوا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا خالصانہ ذاتی فیصلہ تھا۔
میں نے اپنے دل میں ایک روحانی منزل پائی تھی جہاں حج فرض ادا کرنا ضروری ہوگیا۔
اس مقدس سفر نے میری روح میں ایک ایسی الٰہی چنگاری روشن کردی ہے جو ہمیشہ جلتی رہے گی۔
دعا ہے کہ میرے جیسے بہت سے بھائی اور بہنیں بھی اس روحانی سفر کا حوصلہ کریں، حج کی سعادت حاصل کریں اور اسی لُطفِ الٰہی سے سرشار ہوں۔
اللہ نے تو (جنگِ) بدر کے موقع پر ایسی حالت میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل بے سروسامان تھے۔ لہٰذا (صرف) اللہ کا خوف دِل میں رکھو، تاکہ تم شکرگذار بن سکو۔
سورۃ آل عمران
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنادو.
سورۃ البقرۃ
فلاح اُس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے پروردگار کا نام لیا، اور نماز پڑھی لیکن تم لوگ دُنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے یہ بات یقینا پچھلے صحیفوں میں بھی درج ہے اِبراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں
سورۃ الاعلٰی
اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ (البتہ) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
(سورة الطلاق، ٣)
فلاح اُس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے پروردگار کا نام لیا، اور نماز پڑھی لیکن تم لوگ دُنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے یہ بات یقینا پچھلے صحیفوں میں بھی درج ہے اِبراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں
سورۃ الاعلٰی