پاکستان تحریک انصاف @pti کے کارکنان کی بڑی تعداد میں بہیمانہ شہادتوں پر دل زخمی ہے،جس بہیمانہ تشدد سے جمہوری نہتے کارکنان کو سرعام گولیاں چلاکر قتل اور زخمی کیا گیا وہ ناقابل معافی ہے،آج جمہوریت اور بشری حقوق کا قتل کیا گیا۔یہ پاکستان کی سیاسی و جمہوری تاریخ کا سیاہ دن ہے،
یقین نہیں آرہا کوئی فورس اپنے ملک کے نہتے جمہوری نوجوانوں کو اس سنگدلی اور درندگی کیساتھ گولیاں مار کر قتل و زخمی کرسکتی ہے۔شہباز شریف بلاول بھٹو نے اپنی سیاست کو دفن کردیا ہے،یہ تشدد اور خون آشامی آسیب کیطرح ان دونوں کا پیچھا کرے گی،آج ان دونوں کے ہاتھوں پاکستان میں فسطائیت کا راج ہے۔پی ٹی آئی کے جمہوری کارکنان کا خون بہا کر یہ کٹھ پتلیاں اپنے راج کو دوام نہیں دے پائینگی۔
پہلے ایک پارٹی سے نشان چھینا گیا،لیڈرشپ قید کردی گئی ،پھر اس کا دو تہائی مینڈیٹ چھینا گیا،پھر اس کا جمہوری حق احتجاج چھینا گیا اور اب اس کے ورکرز سے زندگی کا حق چھینا جا رہا ہے۔فاشزم،اسٹیبلشمنٹ اور ظلم کا یہ راج معصوم کارکنان کے خون کے ان چھینٹوں سے مٹے گا۔ان شاءاللہ۔
میں کھل کر پی ٹی آئی کے جمہوری جدوجہد اور اس کے مظلوم ورکرز کیساتھ کھڑا ہوں۔جس بہادری اور جرات سے پی ٹی آئی کے ورکرز نےریاستی جبر کا مقابلہ کیا وہ قابل تحسین ہے،میں پی ٹی آئی کے ورکرز اور لیڈرشپ سے تعزیت کرتا ہوں۔اللہ تعالٰی شہید کارکنان کی شہادتوں کو قبول فرمائے، زخمیوں کو شفایاب فرمائے۔
چیف جسٹس آف پاکستان، اعلی عدلیہ سپریم کورٹ سے چند گز کے فاصلے پر پی ٹی آئی کے نہتے جمہوری کارکنان کے اس خون کا نوٹس لے گی؟؟؟
پختونخوا میں کل 100 لاشیں گری ہے مگر وزیر دفاع جن کو آج کرم میں متاثرہ لوگوں کے درمیان ہونا چاہیے تھا وہ ٹی وی پر بھابی اور نند کی لڑائی بیان کررہے ہیں۔ شرم کا مقام ہے ن لیگ کے لیے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
🚨شیر افضل خان مروت کی جانب سے 24 نومبر کے متعلق اہم ویڈیو پیغام:
"یہ پیغام 24 نومبر کے لیے پاکستانیوں کے نام ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
میں تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ 24 نومبر کو اپ کو نکلنا ہوگا۔
ہمارا خان سوا سال سے زیادہ ناجائز پابند سلاسل ہے، ہم نے کوشش بہت کی کہ شاید قانون اور انصاف خان کو مل جائے لیکن انصاف نے انکھیں بند کی ہوئی ہیں۔
اور یہ انکھیں تب تک نہیں کھلیں گی جب تک ان کی انکھوں سے اپ پٹی نہیں کھینچیں گے نہیں، اور یہ کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے، کہ 24 نومبر کو ہر پاکستانی نکلے۔ اپ کا نکلنا معائنہ رکھتا ہے اپ کا نکلنا خان کی رہائی کا سبب بنے گا۔
-📍بے شک یہ ہمارے ساتھ جو بھی ظلم کرنا چاہیں ہم نے قانون اور ائین کا دامن نہیں چھوڑنا ہے۔
-📍پی ٹی ائی کے ورکر جو احتجاج میں ہوں گے، ان سے یہ کہوں گا، کہ اپنے اس پاس نظر رکھیے۔ اگر کوئی بھی شخص توڑ پھوڑ کرتا ہوا نظر ائے، سیبوٹاش کی کاروائی کرتے ہوئے نظر ائے تو اس کو فوری طور پر پکڑیے اور پکڑ کر قیادت کے حوالے کیجئے!"
"انشاءاللہ میں خود موجود ہوں گا، میں پنڈی اسلام اباد اٹک جیلم اور مقامی تمام لوگوں کو بشمول مری کے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ 24 نومبر کو صبح 10 بجے اپ لوگوں نے سنٹورس کے ساتھ پل پہ پہنچنا ہے اور یوں یہاں سے ہو کے ہم پنجاب پشاور اور دیگر علاقوں سے انے والے قافلوں کا انتظار کریں گے اور اگر ان کی امد میں تاخیر ہوتی ہے تو انشاءاللہ ہم ڈی چوک پہ قدم جمائیں گے۔
پولیس والے یا کوئی اور ہمارے ساتھ جو بھی کرنا چاہتے ہیں، ہم کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اپنا ائینی حق لے کر رہیں گے۔
انشاءاللہ۔"
@JahangirKTareen ترین صاحب! میں زیادہ کچھ تو نہیں کہوں گا۔لیکن صرف اتنا ضرور کہوں گا کہ تاریخ اپ کو ایک مفاد پرست اور خود غرض انسان کے طور پر یاد رکھے گی۔
میں پی کے 64 سے نومنتخب ایم پی اے افتخار اللہ درانی کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور خوش آمدید کہتا ہوں افتخار اللہ پاکستان تحریک کا درینہ کارکن ہیں اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ظلم اور نا انصافی کے خلاف جنگ میں اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں
تمام امیدواران کے لیے اہم ہدایات:
اپنے “تحریک انصاف نظریاتی” کے ٹکٹ ریٹرننگ افسران کے دفتر میں جمع کروائیں اور اس کی receiving لیں
اگر کوئی آپ کا ٹکٹ جمع نہیں کرتا یا جمع کروانے میں پولیس یا RO رکاوٹ ڈالتے ہیں تو فوری طور پر:
• ڈسٹرکٹ، صوبائی اور سنٹرل الیکشن کمیشن کو شکایت email کریں
• اپنی تحریری شکایت بھی ضلعی اور صوبائی الیکشن کمشنر کو جمع کروائیں
• پولیس میں درخواست دیں
• ہائی کورٹ میں پٹیشن کریں
• سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں
• یہ تمام ثبوت اور درخواستیں پارٹی کو بھی بھیجیں
@geonews_urdu نگراں حکومت کا کام صاف، شفاف،غیر جانبدارانہ اور منصفانہ الیکشن کرانا ہوتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں نگراں حکومتیں کسی اور چیز پر لگائے گئے ہیں۔اب یہ لوگ صاف اور شفاف انتخابات کرا سکتے ہیں کیا؟
#Pakistan#TheEconomist
اڈیالہ جیل شفٹ اور سہولیات دینے کا حکم تو ہو گیا ہے لیکن تحریری فیصلہ آۓ گا تو عمل درآمد کیا جاۓ گا،سوال یہ ہے کہ جب ہم کہہ رہے ہیں کہ ضمانت پہلے سنی جاۓ اور فیصلہ دیا جاۓ ،ضمانت سننا زیادہ ارجنٹ نوعیت کا معاملہ ہے اور ان کو رہا کیا جاۓ ،یہ ایک قسم کا چکما ہے جو ہمیں ملا ہے کہ ہم چپ ہو جائیں،خان صاحب کا باہر آنا ضروری ہے یا اڈیالہ جیل شفٹ کرنا؟،ہم اب بھی یہ ہی استدعا کر رہے ہیں کہ تمام کیسسز پر فورا فیصلہ دیا جاۓ تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں.