مولانا فضل الرحمان پر حامد میر پر اور حاصل بزنجو پر مقدمہ دائر کرنیوالی ایک ہی شخصیت ہے جس کا نام منظور قادر بھنڈر ہے 10 سال ہو گئے بندہ بھی تبدیل نہیں ہوا ایک ہی بندہ ہے جو سب پر مقدمے کر رہا ہے ! سینیٹر کامران مرتضی ۔۔
عمران خان نے بنی گالہ کو وزراعظم کیمپ آفس ڈیکلیر نہیں کیا جیسے آپ لوگوں نے جاتی امرا کو کیا
جہانگیر ترین فنانشنل مضبوط ہونے کے باجود خان نے نکال دیا کیونکہ کرپشن سیکنڈل چلا تھا
آپ کی ساری کابینہ ناہلوں چوروں کی بھری ہے یہ ہوتا ہے وژن نظریہ
چوہان نے کہا کہ مولوی اسمبلی میں نہیں سجدے میں اچھے لگتے ہیں جس پر مولانا کے جانشین نے جواب دیا کہ لوٹے بھی اسمبی میں نہیں بیت الخلا میں اچھے لگتے ہیں گول ہی گول ہو رہےہیں 😂
میرا نام احتشام مسیح ہے میں اسلام آباد پولیس میں ہوں مجھے یہ انڈین کرنسی میرے سنئیر نے دی کہ راولاکوٹ دھرنے میں کسی کے کھاتے میں ڈال دوں۔تاکہ اسے انڈین ایجنٹ ثابت کیا جا سکے ۔ اسے دھرنا میں عوام نے پکڑا ہے اور اس کا بیان لیا گیا ہے ۔اسکا کہنا ہے مجھ پر کوئی کسی نے تشدد نہیں کیا
عمران خان ساڑھے تین سال وزیراعظم رہے۔ کبھی ان کی بہنیں وزیراعظم ہاؤس نہیں آئیں۔ لاہور آتے تھے مگر بہنوں کو کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس نہیں دیکھا گیا۔ فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں۔ باوجود اس کے ایک منگل کا دن بھی ایسا نہیں جب وہ عمران خان کے لیے آواز اٹھانے اڈیالہ جیل کے باہر نہ گئی ہوں۔ آواز اٹھانے کے جرم میں انہیں مختلف فسطائی حربوں کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔
بیرسٹر شہزاد اکبر
اس قرآنی آیت پر پر سرکاری مولوی حافظ طاہر اشرفی کا کیا موقف ہو گا ؟جس کا مفہوم ہے کہ جس کو لوگ امانت دیں ، صرف وہی حکمرانی کا حق رکھتا ہے اور جو زبردستی مسلط ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو
مذکورہ ویڈیو کا کل اخلاقی سبق....!!!
میٹرک اچھے سکول سے کریں، ٹیوشن رکھیں، بہترین نمبر لیں، پھر FSC میں ٹاپ میرٹ حاصل کریں، MDCAT کی مہنگی تیاری کریں، ٹیسٹ پاس کریں،
پانچ سالہ MBBS پر کروڑوں روپے اور جوانی کے کئی سال صرف کریں، PMDC کے مراحل بھی مکمل کریں، اور آخر میں فارم 47 کے وزیرِ صحت سے کیمروں کے سامنے اپنی عزتِ نفس مجروح کروائیں،
۔
کرنل صاھب الیکٹرکل انجنیر ہیں ۔ آرمی ایویشن کی یونٹ کمانڈ کر رہے ہیں اور ائیرپورٹ پر کسی ائیر لائن کے عملے کو ٹریاں لگا رہے ہیں ۔ کیونکہ بونے دماغ والے فوجیوں کو لگتا ہے کہ یہ اس ملک کے خدائی خدمت گار ہیں اور ان کی ٹرنیلی ہر مسلئے کا حل ہے
میں قاضی فیض کے بیٹے، بیٹیوں، ماں، باپ اور ان کے بچوں اور ان کے پوتے، ان کے نواسوں جو کوئی بھی رشتہ دار ہیں یہ کہنا چاہتا ہوں،کبھی اپنے قاضی فیض عیسی پر فخر نہ کرنا بلکہ شرم محسوس کرنا کیونکہ اس شخص نے
ہمارے ملک پاکستان کے آئین اور قانون کو تباہ کرنے والا آپ کا قاضی فیضی صاحب ہے.
یہ وہ شخص ہے جس نے ہمارے ملک کے عدالتی نظام کو تباہ کیا۔ یہ وہ شخص ہے جس کے دور میں مائیں ، بہنوں کے دوپٹے کھینچے گئے، مائیں ،بہنوں کی عزتیں پامال ہوئیں، لوگوں کی چار دیواریوں کے تقدس پامال ہوئے، اور یہ وہ شخص ہے جس کے دور میں لوگوں اغوا ہوئے ۔ یہ وہ شخص ہے جس کے دور میں وہ لوگ تماشا بنے، یہ وہ شخص ہے ۔
بہت سارے صحافیوں کو اغوا کیا گیا اور اس نے پوچھنا تھا گوارا نہ کیا ۔
بہت ساری خواتین کو پنجاب کے اندر خاص طور پر اغوا کیا گیا اور اس نے پوچھنا گوارا نہ کیا ۔
عالیہ حمزہ، صنم جاوید ،فلک جاوید، ڈاکٹر یاسمین راشد اور درجنوں ایسی خواتین ہیں جن کے میں نام لکھ سکتا ہوں
جن کو ان کے دور میں اغوا کیا گیا
پاکستان کی سب سے بڑی اواز عمران ریاض خان کو جب اغوا کیا گیا اس بے شرم شخص نے ایک بار بھی اس کو بلا کے نہیں سنا کہ پانچ مہینے اپ کدھر تھے اپ کو کس نے اٹھایا تھا ۔
میں اگر اخر میں یہ کہوں کہ یہ گھٹیا ،بیہودہ بے شرم شخص تھا تو غلط نہیں ہوگا
اگر اس کے علاوہ بھی کوئی اپ کے ذہن میں مزید گھٹیا لفظ ا رہے ہیں تو وہ ٹھیک ہوگا اب میں لکھ نہیں سکتا کیونکہ مجھے اخلاقیات یہ اجازت نہیں دیتی ۔
خان صاحب کی بہنیں اپنے بھائی کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں
خان صاحب کی رہائی کے لیے جو بھی کچھ کرے گا ہم ان کے ساتھ دیں گے۔۔۔۔
خان صاحب کی رہائی ملک کی بقا کی ضمانت ہے
ہم خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں
کیپٹن صفدر نے سلینڈر گیس سے سوئی گیس کا افتتاح کر دی، پیچھے گیس کی لائن ہی نہیں تھی تو صحافی حیران تھے گیس کا افتتاح کیسے ممکن ہے، جب دیکھا تو گیس سلنڈر رکھا ہوا تھا
دکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔
خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گرمی میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔
حد ہے ویسے اتنا خوف۔
آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔