رجب بٹ ایک نمبر کا لفنڈر شرابی زانی اور رنگ باز تھا لیکن اسے ہر بات کا شادی سے پہلے بھی پتا لگ چکا تھا جب بیاہ کر گئی تواسے پتا چلا کہ رجب کی ماں اور بہن کی موجودگی میں اس کی جگہ اُس گھر میں بہت محدود ہے جو اسے پہلے سے پتا ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہ اپنے ویلاگ میں ماں کے لیے جیتا مرتا تھا نیوٹرل ہونے میں ٹائم لگنا تھا اور جائنٹ فیملی سسٹم میں تیلی لگانا کوئ مسئلہ ہی نہیں ہوتا جو رجب کی بہن کے لیے مسئلہ ہی نہیں تھا اور اس نے صبر اور سمجھداری کے بجائے اُس کے بچے کو ڈھال بنا کررجب کو بلیک میل کرنا شروع کردیا جب بھائ کے ساتھ مل کر سارا زور لگالیا تو پتا چلا کہ رجب کو بر��اشت کرنا اور واپس جانا ہی وقت کا تقاضا ہے لیکن اب دیر ہوچکی ہے یہ بات اگر اُس وقت سمجھ جاتی جب اس کا بھائ سیلیبریٹی بننے اور ویوز کے چکر میں روز تماشہ بناتا تھا بہر حال صلح ہوجائے تو بہتر ہے لیکن یہ شادی ایک سبق ہے کہ ہر لڑکی والوں کو حق مہر کے ساتھ کم از کم دو سال بچہ پیدا نا کرنے کی شرط ضرور رکھنی چاہیے تاکہ واپسی کا راستہ آسان رہے ۔