@MunizaeJahangir اتنے جھوٹ بول رہا۔ جا کر درخواست سپریم کورٹ سے واپس لینے میں کیا ممانعت ؟ اسمبلی کا اسکو ختم کرنا۔ کونسا مارشل لاء لگ سکتا؟ صوبے میں فوجی قبضے کے مکمل سہولت کار ہیں۔
17 years in prison for tweets criticizing the military. Re-arrested hours after bail. We are Pakistani-origin professors and researchers calling for the release of lawyers Imaan Mazari & Hadi Ali Chattha. Full letter below:
@IBAHRI , @hrw , @HRCP87 , @amnesty@ICJ_org
"عسکری پیشکش تھی کہ ہماری بات مان لیں تو ایک شخص کو رہا کیا جائےگا جو باہر جا کر انکی باتوں پر عمل کرےگا، جس کےبعد باقی افراد کو بھی رہا کیاجائے گا۔ مزید دو، تین سال کےلیے یورپ میں آباد ہونےکی پیشکش بھی کی گئی، ہم نے تمام پیشکش مسترد کیں"
- ماہ رنگ بلوچ
https://t.co/oN2rKFxmuq
He committed a criminal act of intentional murder attempt and caused damage to private property. Despite knowing that there would be public backlash, he deliberately turned off replies. BBC, however, still calls him an activist.
پشتون قوم پرست رہنما علی وزیر سے سندھ کی دادو جیل میں بچوں کی ملاقات
ضلع دادو کی جیل میں علی وزیر اور حاجی صمد لالا سے اُن کے دوستوں کی ملاقات کرائی گئی۔
دو سال بعد علی وزیر کی اپنے بچوں مومین اور بریرہ سے ملاقات کرائی گئی۔
علی وزیر کے وکلا اور دوستوں نے بتایا کہ بچوں سے دو سال کی جدائی کے بعد بھی پشتون رہنما کا حوصلہ آج بھی پہاڑوں جیسا بلند ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک باپ اور بچوں کی ملاقات نہیں، بلکہ ظلم کے سامنے کھڑی ایک مزاحمت کی داستان ہے۔
@tariqtariqw@MohsinHijazee سیرئیس ۔ مسئلہ ایہہ ہے کہ محسن حجازی دی بہت گلاں نال میرا وی اختلاف اے۔ مگر نا بددیانت اے نا جھوٹا، جو صحیح سمجھدا اوہ کہندا تے ریس اچ آپنا بابا ہے نہیں۔ اس لئی دلا آکھنا مناسب نہیں۔ باقی غلط صحیح رائے ہو سکدی تے رکھن دا حق وی سبھ دا۔
@xadeejourno All scaremongering for what? To make more money? There js no autonomous agent. AI has no context awareness , thinking and intent capabilities.
We must also demand accountability for the climate of hostility that made defending Junaid so dangerous and preceded the murder of Rashid Rehman sab. If anyone incited, enabled or deliberately intensified that climate, the law must hold them accountable.
#JusticeforJunaidHafeez
قرآن مجید سے اجازت ملنے کے بعد کن صحابہ کرام نے اپنی بیویوں کی پٹائی کی؟
میں نے آج کا خاص مضمون اس موضوع پر لکھا ہے۔ اس میں ان تمام صحابہ کا ذکر ہے جن کے اپنی بیویوں پر تشدد کی روایات موجود ہیں۔
بعد میں اسلامی دنیا بلکہ یورپ میں بھی بعض مقدمات میں قرآن کی اس آیت کا ذکر آیا۔ ان کا کچھ احوال بھی بتایا ہے۔
https://t.co/Ou97tgfkL4
پیارے عمر چیمہ صاحب
آپ سے پیار اور احترام کا تعلق ہمیشہ سے تھا اور رہے گا۔ باقی سیاسی اختلافِ رائے اپنی جگہ۔ آپ کے اٹھائے گئے اعتراضات کے جواب میں عرض ہے۔
۱۔
بے شک آپ نے ماہ رنگ بلوچ اور اختر مینگل کو پہلے بھی سنا ہے لیکن بطور صحافی ہمارا اور ان کا موقف سننا ہمارا فرض بنتا ہے کیونکہ وہ بلوچستان کے تنازع میں اہم فریق اور مؤثر آواز ہیں۔ لہٰذا انہیں ایک بار سن لینا کافی نہیں بلکہ کئی بار سننا ہمارا فرض بنتا ہے۔ خاص طور پر جب ان کے مخالف فریق کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی بات کی جا رہی ہو تو ان کا موقف جاننا ضروری ہے۔ ماہ رنگ بلوچ کا موقف اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ ان کی بہن نادیہ بلوچ نے اس کی وضاحت بھی دی۔ جب وہ وضاحت بحث کا حصہ نہیں بنتی تو گفتگو یک طرفہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے عام لوگوں کی رائے جاننا بھی اس مسئلے پر ضروری تھا۔ میرا سوال یہی ہے کہ کیا آپ نے بلوچستان کے عام لوگوں کی رائے جاننے کی بھی کوشش کی؟
۲۔
ماہ رنگ بلوچ نے کئی مرتبہ بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کے مارے جانے کی مذمت کی ہے اور یہ ریکارڈ پر موجود ہے لیکن بار بار انہی سے مذمت کا مطالبہ کرنا بالکل ایسا ہے جیسے کشمیری مسلمانوں سے انڈیا میں ہونے والی ہر کارروائی کی مذمت کا مطالبہ کیا جائے یا مغرب میں ہونے والے ہر شدت پسند حملے کی مذمت مسلمانوں سے کروائی جائے۔ اگر کسی فرد یا گروہ کے کسی عمل کی مذمت ضروری ہے تو ضرور ہونی چاہیے لیکن کسی پوری سیاسی تحریک یا کسی فرد کی سیاسی حیثیت کو ہر بار اس بات سے مشروط کرنا کہ اس نے فلاں واقعے کی کتنی مرتبہ مذمت کی ہے ایک الگ بحث ہے اور جہاں تک لاپتہ افراد کا معاملہ ہے تو آئے روز ہمارے سامنے ایسے کیسز آتے ہیں جہاں لوگ لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ ابھی چند دن قبل اقوام متحدہ کی طرف سے ایک رپورٹ سامنے آئی جس میں ایک شخص کی جبری گمشدگی اور بعد میں ماورائے عدالت قتل پر تشویش ظاہر کی گئی۔ خیر باقی سب کو چھوڑیں کم از کم سمی دین بلوچ کو تو اب اس قانون سازی کے بعد جواب ملنا چاہیے۔ ان کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ گزشتہ 17 برس سے لاپتہ ہیں۔ آپ نے خود سمی دین کا انٹرویو بھی کیا ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر اب کوئی لاپتہ نہیں ہوتا اور صرف گرفتار ہوتا ہے تو ڈاکٹر دین محمد بلوچ کہاں ہیں؟
۳۔
دیکھیں بلوچستان ایک بہت بڑا اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ایک طرف ریاستی اداروں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ بعض لاپتہ افراد مبینہ طور پر علیحدگی پسند یا عسکریت پسند تھے۔ دوسری طرف بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیمیں مبینہ طور پر پنجابی مزدوروں کو مار کر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ فوجی اہلکار یا فوج کے سہولت کار تھے۔ یہ تو ہم جیسے صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ذرائع اور روابط اور نیٹ ورک استعمال کرکے آزادانہ تحقیق کریں کہ مارے جانے والے لوگ کون تھے اور ان کے خلاف کیا ثبوت تھے۔ پاکستان اس ملک میں رہنے والے شخص کو عزیز ہوگا لیکن ہمیں پاکستان عزیز ہے کی آڑ میں ناجائز کو جائز ہرگز قرار نہیں دینا چاہیے۔ دیکھیں ایمنسٹی انٹرنیشنل کیا کہہ رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کیا کہہ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ یورپی یونین کے سفیر نے بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بلکل اسی طرح ہمیں بلوچ شدت پسند تنظیموں کے دعوؤں کی بھی اسی طرح جانچ کرنی چاہیے۔ اگر وہ کسی پنجابی مزدور کو مار کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فوجی یا فوج کا سہولت کار تھا تو ہمیں ان کا دعویٰ بھی بغیر تحقیق قبول نہیں کرنا چاہیے۔
۴۔
میرے خیال میں اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہمیں ہر فریق کے دعوے کو شواہد کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔ ریاست کا دعویٰ ہے تو اس کی بھی تحقیق ہونی چاہیے۔ مسلح تنظیم کا دعویٰ ہے تو اس کی بھی تحقیق ہونی چاہیے۔ صحافت کا کام یہ نہیں کہ ہم کسی ایک فریق کا مؤقف لے کر دوسرے فریق سے صرف یہ پوچھیں کہ آپ کا حل کیا ہے؟صحافت کا کام یہ بھی ہے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ مسئلہ پیدا کیوں ہوا۔ اس میں کس کا کیا کردار ہے اور متاثرین کیا کہتے ہیں۔
۵۔
آخر میں وہ بات جو آپ کو بھی معلوم ہے اور پاکستان اور بلوچستان کے ہر شخص کو بھی معلوم ہے کہ انوار الحق کاکڑ اور سرفراز بگٹی بلوچ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کے خلاف بلوچستان میں خاص طور پر بلوچ عوام میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر وزیراعلیٰ یا وزیراعظم بنایا جائے کہ وہ پنجاب کے بارے میں محبت کا پرچار کرتا ہے تو پھر اس ملک میں جمہوریت اور عوامی رائے کا اللہ ہی حافظ ہے۔اسی لیے ہم نے اپنے پروگرام کے آغاز میں کہا تھا کہ آپ عام بلوچ کی بھی رائے لیتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو شاید آپ کاکڑ اور بگٹی کے متعلق آج یہ راۓ نہ رکھتے۔ شکریہ