ایک رضاکار چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ
”آگ کے اندر بچے رو رہے ہیں۔“
غزہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور تین بچے بری طرح جھلس گئے۔۔
دو سال پہلے، انہوں نے اس کے بچے کو شہید کر دیا
اپنے بیٹے کی نمازِ جنازہ پڑھاتے وقت وہ بمشکل اپنے قدموں پر کھڑا ہو پا رہا تھا انہوں نے اسے قید کر لیا اور گزشتہ 623 دنوں سے اس پر تشدد کر رہے ہیں! خاموش نہ رہیں، آواز اٹھائیں، اسے بھولنے نہ دیں۔
ناصر ہسپتال غزہ میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبر غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم کی خاموش گواہ بن گئی ۔ اس رائیلی حملوں کے نتیجے میں کھنڈر بن جانے والے ہسپتال کے آس پاس، اس رائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے عام شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ یہ کوئی جنگ
ایک امریکی خاتون غزہ کے بچوں کے محاصرے کی وجہ سے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں:"اے بیمار دنیا، اے لوگو! تم نے غزہ کے بچوں کو کیسے بھوک کا شکار ہونے دیا اور تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوا، تم نے ان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا؟"
ناروے کی ایک حامیِ فلسطین (فلسطین حامی کارکن) پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں: "ہم پچھلے 500 دنوں سے زیادہ عرصے سے فلسطین کے لیے رو رہے ہیں۔ انسانیت کے دشمن ہمیں کبھی شکست نہیں دے سکتے۔"
ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو۔
یہ بچہ اس رائیلی گولہ باری میں اپنی ٹانگوں سے محروم ہو گیا اور اب وہ آمد و رفت کے لیے رولر سکیٹس کا استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جو "دنیا کی سب سے گھٹیا فوج نے پیدا کی ہے۔۔۔