جن ممالک میں لوگ پِس رہے ہیں اور انکی حکومتیں اپنے لوگوں کیلئے کچھ نہیں کرتیں۔ وہ لوگ باقی دنیا کے نظر میں بھی گرے ہوتے ہیں۔ جب بھی کبھی کسی امریکی یا یورپی باشندے کو کوئی مشکل ہوتی ہے تو یہاں کے لوگ انکی مدد کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب تک آپ کے اپنے لوگ عزت نہیں کرتے دنیا آپ کو کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی۔
سر جی اس سب میں کسی بھی سیاستدان کی کوئی بھی غلطی نہیں ہے اس میں صرف عدلت کی غلطی ہے کہ عدلت ان سب پر کوئی ایکشن نہیں لے رہی اگر عدلت ان سب پر ایکشن لے اور عدلت کے خلاف بولنے والے کو عدلت سزا دے تو یہ ان سب کے لیے ایک سبق ہوگا جو کوئی بھی نہیں بھولے گا
عمر چیمہ کی اہلیہ، جو ایک ماہ سے زائد عرصے سے جیل میں قید اپنے خاوند کی پیشی کیلئے انسدادِ دہشتگردی عدالت آئیں، کو جس انداز میں عدالت کے باہر سے غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے وہ نہایت شرمناک ہے۔
اسی طرح تحریک انصاف چکوال کے صدر علی ناصر بھٹی کے کم سِن (سکول جانے والے) بیٹے کو بھی اٹھا لیا گیا ہے۔
خواتین اور بچوں کیخلاف اس نوعیت کا جبر اور اس سطح کی فسطائیت ملکی تاریخ میں آج سے پہلے کبھی دکھائی نہیں دی۔ حتّٰی کہ بدترین مارشل لاء ادوار بھی ایسی وحشت و بربریت سے خالی ہیں۔
محض مجھے تنہا کرنے کی خواہش میں یہ سرکار ( یہ بندوبست) کس حد تک گِرچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ (اس جبر و فسطائیت کے نتائج انکی توقعات کے) بالکل برعکس وارد ہورہے ہیں۔ عوام برسرِاقتدار گروہ سے مکمل نفرت و لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں جبکہ زیادہ سے زیادہ لوگ تحریک انصاف کے قافلے کا حصہ بن رہے ہیں۔
ظلم کی انتہا کر کے بھی دیکھ لی اور مختلف طریقوں سے ہمارا حوصلہ تورنے کی کوشش بھی کی، مگر قوم صرف عمران خان پر بھروسہ کر رہی ہے اس وقت۔ یہ حال میں کیا گیا سروے چیک کریں، عمران خان کا ووٹ ہر دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ #قوم_کپتان_کے_ساتھ
پاکستانیو آپ نے نہ گھبرانا ہے نہ دل چھوڑنا ہے، سب سے زیادہ پریشر تو میرے اوپر ہے، کیسز کے اوپر کیسز، جان کو خطرہ علیحدہ ہے لیکن میں تو کھڑا ہوں عمران خان
عمران ریاض کا جسٹس بندیال کو کُھلا خط۔۔
جناب چیف جسٹس !!
سنا ہے آپ آج کل انصاف کرنے کے بجائے منصف اعلی کے منصب پر بیٹھ کر قوم سے صبر اور تحمل کی تلقین کرتے ہیں۔
پھر بھی جی چاہتا ہے سو اس قید تنہائی سے کچھ عرض کئے دیتا ہوں
چیف صاحب میں آپکی منصب انصاف کی بساط اور زور بازو کو اسی دن ہی سمجھ گیا تھا جس دن میرا ایک بھائی کینیا کی سڑکوں کا رزق بنا تھا اس نے بھی آپکو خط لکھے تھے اس کی ماں نے بھی لکھے اور کئی ہزار پاکستانیوں نے آپ کو لکھا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا سو میرا یہ خط بھی اسی ردی کی ٹوکری میں جائے گا۔۔
جہاں آپکا حلف، آپکی دستار ، آپکا کالا چغہ اور اپکی آئین کی کتاب کے ساتھ ساتھ لاکھوں پاکستانیوں کے خواب اور انصاف کی لاشیں سسک رہی ہیں
مَیں کہاں ہوں میں نہیں جانتا !!
مَیں زندہ ہوں مجھے یہ بھی خبر نہیں
میرا دل کس قدر زخمی ہے اور میری انا پہ کتنے
داغ ہیں
میں گِن نہیں پایا ۔ میرا خون کب بہا اور پسینہ کتنا ٹھنڈے فرش میں جذب ہوا ۔ کوئی اندازہ نہیں
کتنی چیخیں ان دیواروں نے نفرت سے میرے منہ پر دے ماریں اور کتنی سسکیاں چپکے سے سامنے کی میری ہتھیلی جتنی کھڑکی سے باہر ہوا میں پھیلیں نہیں بتا سکتا۔
چیف صاحب
مجھے بتایا گیا کہ تمہارا سب سے بڑا جرم ہے کہ تم نے اس قوم کی بات کیوں کی؟ تم نے کرپشن کے ناسور کیوں گنے؟ تم کیوں بولتے ہو؟ تمہیں لوگ کیوں سنتے ہیں؟
مجھے میری فرد جرم سنائی گئی
جس کی سزا کے لیے میری کئی زندگیاں ہونا چاہئیں
میں سوچتا ہوں میرے خدا
یہ سب جرم میں نے کہاں کیئے
میرے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں تھی
اور میں کوئی سقراط بھی نہیں تھا
میں تو صرف اپنی تباہ حالی پر نوحہ خواں رہا
میں نے ستر سال کے زخم گنے قوم کی امیدوں کا لہو دیکھا اور چیخا ۔
چیف صاحب
ملک پہ منڈلاتے خطرے اور قوم کو بھوکا مارتا مہنگائی اور غربت کا دیو چیختا دیکھا اور کہا کہ ایسا نہ کرو۔ ہم پہ رحم کرو۔۔ ہمیں جمہوریت کے ثمرات دیکھنے دو۔۔
لیکن میری صدا ہی نہیں میری سانسوں کی گنتی کی گئی اور اس حساب سے ہزار گنا میری سسکیاں اور میری آہیں وصول کی گیئں
میں بے گناہ ہوں ۔ میں نے تو صرف آواز دی کہ خطرہ ہے
ملک اور عوام خطرے میں ہیں۔ کچھ بے رحم اور لالچی لوگ اس ملک پر قابض ہوچکے ہیں۔ بولنے کی اتنی کڑی سزا کہ میں اب خود کے زندہ یا مردہ ہونے کا فیصلہ بھی نہیں کر سکتا ۔
میں دیواروں کا قیدی ہوں یا دھرتی ماں کا رزق بن گیا ہوں ۔۔ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ہاں اتنا اندازہ ہے کہ میں کسی ناکردہ جرم کی سزا سے گزر رہا ہوں شاید مجھے مرنے نہیں دیا جا رہا
اور جینے دینے کا حکم بھی نہیں۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں میرے حواس کام کر رہے ہیں۔۔ میرے بچے میرے منتظر ہیں میری قوم میرا رستہ دیکھ رہی ہے چیف صاحب
میں نے آخری سانس سے آپ کو بھی اپنے کیس کی ایف آئی آر میں نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ آپ کا منصب پاکستان میں ہر مظلوم کی آخری امید ہے۔۔میرے بہت سے بھائی اس ستم کی اندھی سرنگ میں مارے جا چکے۔ ہم نے ارشد شریف شہید کے لیے آواز بلند کی لیکن آپ کو ٹس سے مس نہ ہوئی اور سوچتا ہوں کہ آپ یہ کہتے ہوئے کہ ,سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کا اختیار ہے ،، اتنی ہمت کہاں سے لاتے ہیں ؟ کیسے یہ کر لیتے ہیں چیف صاحب ؟؟
ارشد بھائی کے وکیل کو نہ سننا اور رعونت سے اٹھ کر چلے جانا میرے اور 54 ہزار پاکستانییوں کے مقدمات کا بوجھ قیامت تک آپکا پیچھا کرتا رہے گا
کاش ارشد کے قاتل پکڑے گئے ہوتے تو آج ہم اس اندھی قتل گاہ میں نہ ہوتے۔
چیف صاحب
جہاں انصاف نہیں وہاں خدا کی رحمت روٹھ جاتی ہے۔
میں معافی کی نہیں انصاف کی اپیل کرتا ہوں۔۔
مجھے پاکستان کے نظام انصاف اور منصب انصاف کے اس بڑے ترازو پر اب رتی بھر اعتماد نہیں کہ آپ مجھے اس اجنبی سرزمین اور کسی بھی قانون سے لاتعلق اور بے نیاز دنیا سے بازیاب کر سکتے ہیں۔
عدلیہ وکلا سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی صدا بلند کرنے والے کیوں چپ ہیں؟ ۔یہ وہ حالات ہیں جب خاموشی ظالم کی پشت پناہی ہوتی ہے۔
جناب چیف جسٹس میں ان سب کے لیے آپ سے انصاف کا طالب نہیں کہ میں کسی خوش فہمی کو شکار نہیں ۔۔میں جانتا ہوں آپکا منصب یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے ۔۔ ما شا اللہ بیگ صاحب یہاں اب سائلین کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں اور کروڑوں تک جا پہنچی ہے جنھیں انصاف سے دن بہ دن دور لے جایا رہا ہے۔ جہاں نہ ترازو ہے نہ عدل کی زنجیر۔
میں پاکستان کا ایک عام سا شہری اپنے اور پاکستان کے ہر شہری کے لیے ظلم کے اس نظام سے انصاف اور آمان کا طالب ہوں۔
معذرت میں بھول گیا تھا آپ اجکل انصاف کے بجائے صبر بیچتے ہیں
میں بھول گیا تھا 14 مئی کے الیکشن کا فیصلہ ، ارشد شریف کی جے آئی ٹی کی تازہ رپورٹ اور 54 ہزار مقدمات کا بوجھ آپ کے لئے کوئی بڑا ایشو نہیں ہے
1/2
#ReleaseImranRiazKhan
عدالت میں اس وقت خدیجہ شاہ کیس کے دلائل چل رہے ہیں
اگلا کیس عمران خان کا ہے،
کپتان خدیجہ شاہ کیس کے دلائل کو بھی سن رہے ہیں کس طرح سے خواتین کو بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے
دنیا جانتی ہے مشوانی کا بھائی کہاں؟ عدالت کو علم نہیں، عدالت بے بس ہےادارے ہٹ دھرمی دیکھا رہے ہیں، سیکرٹری ہائیکورٹ بار صباحت رضوی انٹرویو 👇👇👇👇
https://t.co/jbkIFVtRZW
گھٹیا لوگوں کی گھٹیا سوچ باہر سے آنے والے پاکستانی حق حلال کما کر کیا کاٹن کے سوٹ نہیں پہن سکتے اب دو ٹکے کے بھانڈ بتائیں گے بیرون ملک رزق حلال کمانے والے پاکستانی قابل قدر ہیں یا نہیں اللہ محنت کشوں کو پسند کرتا ہے