مبینہ ریپ والے معاملے میں مجھے معاملے کی سنگینی کا پہلا اندازہ وزیر تعلیم کے موقع پر دیئے گئے بیان سے ہوا کہ واقعی طلبہ کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیئں۔ دوسرا بیان گورنر پنجاب کا تھا۔ پھر جب جھوٹ بولنے والی مشین کو سنا تو دال میں مزید کچھ کالا محسوس ہوا۔ اس سب کا حل یہ تھا کہ حکومت ایک آزادانہ جو ڈیشل یا پارلیمانی کمیشن بنا کر تحقیات کرواتی مگر حکومت نے ڈنڈہ اٹھایا اور احتجاج کرنے والے معصوم بچوں کے سر پھوڑ دیئے۔ درجنوں بچے لہولہان ہو چکے ہیں اور اب حکومت انہیں سیاسی مخالف قرار دے رہی ہے۔ خون پینے والے نالائقوں کو مسلط کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔
Hazrat Abdullah bin Abbas(RA) reports:
One day I was riding (a horse/camel) behind the beloved Prophet Muhammad, peace and blessings be upon him, when he said,
‘Young man, I will teach you some words.
Be mindful of Allah SWT, and He will take care of you.
Be mindful of Him, and you shall find Him at your side.
If you ask, ask of Allah SWT.
If you need help, seek it from Allah SWT.
Know that if the whole world were to gather together in order to help you, they would not be able to help you except if Allah SWT had written so.
And if the whole world were to gather together in order to harm you, they would not harm you except if Allah SWT had written so.
The pens have been lifted, and the pages have dried.’
They are Baloch students illegally detained in margalla police station of Islamabad. They r studying in different educational institutions of Islamabad. They went to welcome their sisters & mothers coming from Balochistan Wednesday night. They were arrested.They are not criminals
In Surah Yūsuf we see how both Yūsuf (a.s) and Aziz's wife ran towards the door. One to get away from the disobedience of Allāh, while the other in order to disobey Allāh. Our actions may be the same at times but due to intentions it's consequences may differ.
جس دن یہ سمجھ آجائے کے کوئی نہیں آئے گا، کسی کو فرق نہیں پڑتا، نہ اپنوں کو نہ پرایوں کو، دنیا کو احساس نہیں ہوگا کس پستی، زوال یا مشکل وقت سے دوچار ہیں آپ، چیر کے ٹکرے کردیں گے لوگ کسی بھی حلقے میں جگہ بنانے کے لئیے، جو کرنا ہے اللہ کے حکم سے تو نے کرنا ہے، یہ لوگ تلوار سے پہلے الفاظوں سے ماردیں گے، سیاست، ریاست ہو ، امامت ہو، خاندان ہو اس حد تک کے دین داروں میں بھی اپنی جگہ بنانے کے لئیے جنگ لڑنی پڑتی ہے ، مزاج دکھانا پڑتا ہے ورنہ خبیث النفس لوگ تیری کمزوری سونگ لیں گے ۔ بننا پڑے کا پتھر کا ، پتھر کو توڑنے کے لئیے، اپنی عزت نفس سے کلام کراور جس دن یہ بات سمجھ آگئی کے وحشی کو وحشی ہی کاٹے گا، اور عاجزی شرافت ہر کسی کو راس نہیں آتی اس دن ایک مرد کی زندگی کی پہنچان ہوگی کے اسے زندگی میں دو روپے کی عزت کمانے کے لئیے کیسے اپنی معصومیت قربان کرنی پڑتی ہے۔
ارشد شریف شہید کی اہلیہ سمعیہ ارشد کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جس بے ضمیری اور بے حسی بلکہ بے غیرتی کا مظاہرہ کیا ہے اس پر پوری قوم کر کھُل کر اس کی مذمت کرنی چاہئے، اس بات سے بے خوف ہو کر کہ ہمارے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔۔۔ ہم حاضر ہیں۔
اب آ یا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے
راولاکوٹ کے ایک گاؤں کے لوگوں نے واپڈا کو درخواست دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہماری زمینوں سے بجلی کا تمام سیٹ اپ کھمبے اور تاریں ہٹائی جائیں۔
جتنا عرصہ یہ کھمبے یہاں نصب رہے اس کا کرایہ اور تاروں کا راستہ کلیئر کرنے کے لیے کاٹے گئے درختوں کا معاوضہ ادا کیا جائے۔"
کتنی شاندار خبر ہے
زمین دار سے اگر یہ بجلی کے میٹر کا بھی کرایہ لیتے ہیں تو ہماری زمینوں سے مفت تاریں گزارنے اور کھمبے گاڑنے کا حق انہیں کس نے دیا۔
جیسے موبائل کمپنیاں اپنے ٹاور لگانے کے پیسے دیتی ہیں یہ واپڈا بھی دے اور پرائیویٹ کمپنبیاں بھی دیں۔ یہ زمینیں واپڈا یا آئی پی پی کے باپ کی جاگیر نہیں۔
اس لیے میں اس میں اس تجویز کا اضافہ کرتا ہوں کہ ہر دوسرے کھمبے کا کرایہ بجلی کی سلیب کی طرح بڑھا کر وصول کیا جائے اور بقایا جات اسی طرح جرمانے کے ساتھ وصول کیے جائیں جیسےواپڈا وصول کرتا ہے۔
انڈسٹریلسٹ بابو افسر شاہی اور اشرافیہ کو بجلی چاہیے تو کسان کو کھمبوں کا کرایہ ادا کرو۔
آئین کے آرٹیکل 25 کےُتحت کسان بھی اتنا ہی معزز شہری ہے جتنی یہ سفاک اشرافیہ۔
اسلام علیکم!
میں کچھ حقائق عوام کے سامنے لانا چاہتا ہوں
9 مئی کے بعد میرے ساتھ اور میرے خاندان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے7 مئی کو میری ATC لاہور میں Bail کنفرم ہوئی تو میں اُسی دِن لاہور سے باہر چلا گیا کیونکہ 31 مئی کو میری بیٹی کا نکاح ہونا تھا سوچا 11 مئی کوATC اسلام آباد میں بھی تاریخ ہے لہذا اُس سے پہلے جو انتظامات کرنے ہیں وہ بھی کر لیے جائیں دوست احباب و رشتے داروں کو دعوت پر بھی مدعو کرلیا جائے بُکنگ فلیٹیز ہوٹل میں کروائی وہاں سے تصدیق کی جاسکتی ہے
9مئی کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہے جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے املاک کو نقصان پہنچانے والے کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔
پولیس نے ہمارے گھروں پر ریڈ کرنی شروع کر دی گھر پر صرف والدہ صاحبہ ، بیٹی اور بیٹا موجود تھے۔
چند روز قبل تقریباً رات 3بجے میرے گھر کے دروازے توڑ کر 30/40 لوگ داخل ہوئے اور بدتمیزی شروع کر دی اور کہا “وہ قاتل ہے کدھر ہے اُسکو نہیں چھوڑیں گے” میری اہلیہ نماز تہجد پڑھ رہی تھی جبکہ بیٹی اور بیٹا اپنے کمرے میں تھے والدہ صاحبہ کی عمر 85 سال ہے آکسیجن پرہیں
جناب محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان انور، بلال صدیق کمیانہ اور لیاقت ملک پتہ آپکے محافظوں نے کیا کیا؟
گھر میں موجود جہیز کا قیمتی سامان اور سات لاکھ روپے نقد اور DVR لے کر چلے گئے میری والدہ صاحبہ چیختی رہی کہ ایسا نہ کرومحافظ نے ماؤں کا احترام بھی نہ کیا خوب بدتمیزی کی، میں آپ سے یہی اُمید کر سکتا تھا کہ آپ لوگ اخلاقیات سے اتنے نیچے گر جاؤ گے شرم آنی چاہیے تھی۔
میں ایسے نظام اور محافظوں پہ لعنت بھجتا ہوں آپ سمجھ رہے ہو گے کہ یہ صدا ایسے ہی چلنا ہے بے شک ہر رات کے بعد صبح ہر مشکل کے بعد آسانی اور ہر آزمائش کے بعد اس کا صلہ ہے ۔۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بیٹی کا نکاح منسوخ کیا کیونکہ سامان تو میرے پنجاب کے محافظ ہی لوٹ کر لے گئے کوئی نہیں اللہ تو ہے۔ تاریخ کینسل کروانے کی بینکوٹ ہال ( فلیٹیز ہوٹل) سے تصدیق کرلیں۔
لوٹ مار کے لیے گھروں میں داخل ہوتے ہیں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں
میری بڑی بہنوں کے گھروں میں دو دو دفعہ ریڈ کیا جا چکا ہے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ جو ہاتھ لگا میرےمحافظ ساتھ لے گئے
جناب محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان انور، بلال صدیق کمیانہ اور لیاقت ملک بہنیں بیٹیاں اور مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں آپ سب کی اصلیت تو میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہنے کو آپکے خلاف بہت کچھ ہے وضع داری بڑی چیز ہوتی ہے جو میرے بڑوں نے مجھے سکھائی ہے
میری بھتیجی کے سسرال پہ ریڈ کی گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہوئے بدتمیزی کی اور جو ہاتھ لگا محافظ لوٹ کر لے گئے
میری بڑی بھتیجی کا سسرال باغبان پورہ ہے کل رات اُسکے گھر ریڈ کی جنکا دور دور تک میری سیاست سے کوئی تعلق نہیں اُسکے دیور کو مارتے ہوئے ساتھ لے گئے ناک کی ہڈی توڑ دی اور CIA میں بند کر دیا
بڑے بھائی میاں جاوید اقبال کے گھر ریڈ کی اور بھابھی جو کہ ہارٹ پیشنٹ ہیں انکو اور میری بھتیجی جو کہ ڈاکٹر ہے ہراساں کیا اور کہا “قاتل کدھر ہے” DVR اور قیمتی سامان جو ہاتھ لگا ساتھ لے گئے
میرے پنجاب کے محافظ اب ناکوں سے پیسہ اکٹھا نہیں کرتے بلکہ گھروں میں بدمعاشی اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں
میرے بڑے بھائی جو علامہ اقبال ٹاون میں رہتے ہیں انکے گھر ریڈ کی انکی بہوؤں کے ساتھ بدتمیزی کی انکی بیوی نے بھی ابھی دل کا اپریشن کروایا ہے انکے ساتھ بدتمیزی توڑ پھوڑ اور جو لے کر جانا تھا لے گئے ہر کسی کے گھر دو سے تین دفعہ ریڈ کرچکے ہیں ہر دفعہ میرے پنجاب کے محافظ بھوکے کتے کی طرح آتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ہڈی ساتھ لے جاتے ہیں۔
میرے بھائی اکرم اقبال کے گھر ریڈ کیا اُنکے بیٹے حمزہ اور اکرم بھائی کو پولیس ساتھ لے گئی۔اکرم بھائی کا ایک بیٹا معذور ہے جسکی عمر 25سال ہے اور وہ باتھ روم تک بھی خود نہیں جاسکتا نہ کھانا خود کھا سکتا ہے۔ باپ ہی اسکے سارے معاملات کرتا ہے۔آج انکو بغیر کسی FIRاور جرم کے لے کر گئے ہوئے 8دن سے ذیادہ ہو چکے ہیں۔باپ اور بیٹا حمزہ CIAکے پاس ہیں۔
افضل اقبال بھائی اور امجد اقبال بھائی کے گھروں پر ریڈ DVRاور قیمتی اشیاء چوری کرکے میرے بھوکے محافظ انکے گھروں سے بھی لے گئے ہیں۔
یہاں تک کہ میرے رشتہ دار جوہر ٹاؤن رہتے ہیں وہاں پر ریڈ کی اُنکا بیٹا راحیل انگلینڈ سےاپنی نوزائیدہ بچی دیکھنے آیا تھااسکو ساتھ لے گئے۔ تھانے اچھرہ میں اسکو بجلی کا کرنٹ لگاتے رہے کہ بتاؤ میاں اسلم اقبال کدھر ہے۔ انہوں نے بیٹے کو چھوڑیا اُسی دن انگلینڈ واپس بھیج دیا وہ وہاں اپنے بازو کا علاج کروا رہا ہے۔
میرے ڈیرے پر ریڈ بار بار کی اور وہاں سے DVRلے کر چلے گئے۔ کام کرنے والے لڑکے قیصر کو پکڑلیا۔ عدالت سے اسکی بازیابی کروائی گئی۔کل رات پھر ریڈ کی اور دوسرے ملازم مرتضی کو لے کر چلے گئے اور ستم ظریفی کہ مار مار کر بُرا حال کر دیتے ہیں۔
آج میرے سب سے بڑے بھائی میاں جاوید اقبال کو CIA ڈیفینس لے کر چلے گئے اُنکا اس سارے معاملے سے کیا تعلق ہے۔ لیکن میرے پنجاب کے محافظ چیف سیکریٹری سے لے کرIGاور IGسے لے کر نیچے تک کے عہدوں پر مزے لے رہے ہیں اور چھوٹے محافظ لوٹ مار کر رہے ہیں۔
📌آخری بات میرے کوئی 9 مئی کے حوالے سے کوئی آڈیو کال، ویڈیو کال یا کلپ، کوئی میسج کچھ ہے تو سامنے لاؤ۔جیو فینسنگ کر لیں CDR کچھ تو سامنے لاؤ۔
یہ تو ایک سیاسی آدمی کے گھر ریڈوں کی بات ہورہی ہے کتنے ہزاروں بے گناہوں کے گھروں پر ریڈ اور لوٹ مار کی کہانیاں سب کے سامنے آئیگی پھر چیف سیکرٹری، آئی جی، چیف آفسر CCPO، SSP CIA، جواب دہ ہونگے۔
سوچاتھاوضع داری میں خاموش رہولیکن یہ ظلم تو بڑھتا جا رہا ہے
سوچا عوام کو تو بتا دوں اور ان افسران کو بھی تاکہ یہ نہ کہیں کہ ہمیں پتہ نہیں تھا
25 مئی کو CCPO نے یہی کہا تھا کہ میاں صاحب مجھے پتہ نہیں تھا اور 10 بار اس نے دوست بھیج بھیج کر معافی مانگی تھی اور ایک شادی پر ہاتھ جوڑ کر بھی معافی مانگی کہ آپکے گھر پولیس میں نے نہیں بھیجی تھی اگر یہ اس بات سے انکاری ہوا تو دوستو کے نام بھی بتا دونگا
آخری بات اگر میرے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوا تو FIR چیف منسٹر ، چیف سیکرٹری ، اور متعلقہ جو تھانوں سے آئے انکے SP, اور SHO پر کٹے گی۔ انشااللہ
پہلے بھی 25 مئی والی FIR کورٹ میں آڈر کے ساتھ پڑی ہے جس میں چیف سیکرٹری سے لے کر CCPO تک FIR کے آڈر موجود ہیں۔
تھانے نہیں FIR کرے گا تو Private Complaint استغاسہ ہی ہیں۔
اور جو لوگ آواز اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں آپ اُس میں بھی کیڑے نکالتے ہیں۔ خدا کے لئے سب اپنے اسکور سیٹل کر لیجئے گا، مجھ سے بھی، عمران ریاض بھائی سے بھی۔ لیکن ابھی آواز اُٹھائیں، دُعا کریں کہ وہ اپنے بچوں کے پاس آ جائیں۔ ہم بعد میں سارے جھگڑے، سب لڑائیاں کرتے رہیں گے۔
عمران خان اور پی ڈی ایم میں پھنسی قوم اس وقت ایک ڈرامہ بھی دیکھ رہے ہیں جسکا نام ہے تیرے بن۔مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے نوجوان نسل خاص طور پر لڑکیوں میں وہ زہر بھر رہا ہے جسکا نقصان ہمیں جلد یا بدیربھگتنا ہی پڑے گا۔*اپنا کھانہ خود گرم کرو*نے ویسے ہی عورت کو افلاطون بنایا ہوا ہے۔مزید ایسے ڈرامے جہاں غلط فہمی پر بیوی شوہر کو تھپڑ جڑ دے منہ پر تھوک بھی دے تہذیب اور روایات کی قبر میں آخری کیل ثابت ہوگا۔اپنے آپ میں کئیں میر بیں اب فخریہ مزاجی خداؤں کو تھپڑ جڑ رہی ہونگی۔دوٹکے کی عورت کہنے پر آسمان سر پر اٹھانے والے مرد کو پڑنے والے چماٹ پر بڑے سکون میں ہیں ؟؟
ڈرامہ بنانے والے اور انٹرٹینمنٹ کی پالیسی بنانے والے کچھ رحم کریں۔معاشرے کی بہتری میں کردار ادا نہ کرنا چاہیں تو کم ازکم بگاڑ تو تندہی سے پیدا نہ کریں۔
#TereBin
@iqrarulhassan حقیقی آزادی یہ ہے کہ ارشد شریف کے کیس کے تمام ثبوت آپکے پاس ہیں جن کا آپ نے اپنے وی لاگ میں ذکر کیا. مگر آپ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھتے؟