دل کا مرنا کوئی واقعہ نہیں ہوتا
یہ ایک خاموش سا لمحہ ہوتا ہے
جب پسندیدہ کھانا سامنے ہو
اور بھوک دفن ہو جائے خاموشی میں
جب ہنسی ہو لبوں پر
مگر خوشی کا رنگ نہ ہو آنکھوں میں
جب دل روئے، پر آنکھ نہ نم ہو
اور اندر کی چیخیں
خامشی سے لپٹی رہ جائیں
جب اذیت ہو روح میں پیوست
اور زبان پہ شکوے کا حق بھی نہ ہو
تب سمجھو، دل مر گیا ہے
خاموش، بےصدا، بےنشان
پر دنیا کا چلن تو چلنا ہی ہوتا ہے
ورنہ جینا بھی جرم بن جاتا ہے
تب انسان ہنستا ہے، بولتا ہے
لیکن اندر سے
بس زندہ لاش بن جاتا ہے