اہل بیت رسول ﷺ کی جنگ انسانیت کی بھلائی اور فلاح و بہبود کے لیے تھی
جبکہ اہل بیت رسول ﷺ کے دشمن درحقیقت انسانیت کے دشمن تھے
یہ مذہب کا معاملہ ہی نہیں ہے
جو اہل بیت رسول ﷺ کے دشمنوں ، باغیوں اور قاتلوں کو کسی بھی حوالے سے درست گمان کرتا ہے
دراصل وہ انسان ہی نہیں ہے
#حسین_پھر_حسین_ہے
بنو امیہ کی پہلی کوشش یہی رہی
کہ کسی نہ کسی طرح حسنین کریمین سلام اللہ علیہم سے بیعت لی جائے
تاکہ ان کی حکومت کے مذہبی طور پر جائز ہونے کا جواز مل سکے
امام حسن علیہ السلام نے خلافت چھوڑ دی ، پھر شہادت قبول کر لی
مگر بیعت نہیں کی
اور امام حسین علیہ السلام نے مدینہ چھوڑ دیا ، پھر مکہ بھی چھوڑ دیا ،
آخر شہید ہو گئے
مگر بیعت نہیں کی
حسنین کریمین سلام اللہ علیہم میں سے کوئی ایک بھی اگر بنو امیہ کی حکومت کو تسلیم کر لیتا
تو ان کی ملوکیت ، خلافت میں بدل جاتی
اور وہ بھی " خلفائے راشدین" کہلاتے
حسنین کریمین سلام اللہ علیہم کا انکار محض انکار نہیں تھا
یہ حق اور باطل کے درمیان ایسی واضح لکیر تھی کہ جسے قیامت تک کوئی پار نہیں کر سکتا
رسول اللہ ﷺ کا پاکیزہ و معطر خون ایسے لوگوں کی بیعت کر ہی نہیں سکتا تھا کہ جنہوں نے خلیفتہ الرسول ﷺ ، امیر المومنین مولا علی علیہ السلام سے بغاوت کر کے حکومت حاصل کی ہو
حسنین کریمین سلام اللہ علیہم کا حتمی پیغام یہی ہے کہ سر کٹوا دو
مگر کبھی کسی ناجائز حکومت کو تسلیم نہ کرو
کہ یہ انسانیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے
#حسین_پھر_حسین_ہے
یہ جو عشقِ حُسین ہے ناں
یہ فرقوں سے بہت اوپر کی بات ہے
نصیب والوں کو نصیب ہوتا ہے
وہ جوش ملیح آبادی نے کہا تھا نا
انسان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حُسین
سلام صحابہ کرامؓ
بنی اسد قبیلہ عرب کے مشہور اور بہادر قبیلوں میں شمار کیا جاتا ہے، اہل بیتؑ کے جانثاران میں زیادہ تعداد بنی اسد قبیلہ سے ہی تعلق رکھتی ہے، نبی کریمؐ سے لے کر امام حسینؑ تک اس قبیلہ کے کافی افراد نے ہمیشہ اہل بیتؑ کی حمایت کی ہے، کربلاء کی زمین کے مالک بنی اسد قبیلہ والے ہی تھے، امام حسینؑ نے کربلاء کی زمین بنی اسد قبیلہ سے ہی خریدی، شہدائے کربلاء کو بنی اسد قبیلہ نے ہی دفن کیا، آج بھی تیرہ محرم الحرام کو کربلاء میں سب سے بڑا جلوس بنی اسد قبیلہ کا ہی ہوتا ہے جس کی تعداد دس سے بارہ لاکھ افراد پہ مشتمل ہوتی ہے، بنی اسد قبیلہ عراق اور شام میں آباد ہے۔
میدانِ کربلاء میں نبی کریمؑ کے تین یا چار جلیل القدر صحابیؓ شامل تھے، پہلے دو اصحابِ رسولؐ حضرت انس بن حارث کاہلی اور حضرت حبیب ابن مظاہرؓ الاسدی پہ میں دو تحریریں لکھ چکا ہوں، آج ہم ذکر کریں حضرت مسلم بن عوسجہ الاسدیؓ کا، حضرت مسلم بن عوسجہ کا تعلق بھی بنی اسد قبیلہ سے تھا، آپ نبی کریمؐ کے بزرگ صحابی تھے، اوائل اسلام میں ہی آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا اور پھر ساری زندگی اپنے خاندان سمیت محمدؐ و آلِ محمدؑ کی غلامی میں گزاری، آپ اپنے وقت کے عابد، زاہد، سخی اور شرفاء میں شمار کئیے جاتے تھے، مسلمان لشکر کی ہمراہی کی اور آذربئیجان اور دیگر علاقوں کی فتوحات میں شامل رہے، حضرت مسلم بن عوسجہؓ نے آقا کریمؐ سے کئی روایات بھی نقل کی ہیں۔
جب حضرت مسلم بن عقیلؓ کوفہ پہنچے تو آپ کی بیت کرنے والوں میں پہلے اشخاص میں آپ بھی شامل تھے، حضرت مسلم بن عقیل سب سے پہلے آپ کے گھر ہی قیام پذیر ہوئے ، حضرت مسلم بن عقیل کے لئے اسلحہ کی فراہمی کرتے رہے ، حضرت ہانی بن عروہ کے گھر آنے جانے کی وجہ سے ابن زیاد نے آپ کی جاسوسی کروائی ، جب کوفہ میں سخت کرفیو نافذ کردیا گیا اور کوفیوں کو مسلم بن عقیلؑ کی حمایت سے روکا گیا تومسلم بن عوسجہ کو معلوم ہوا کہ مسلم بن عقیلؑ تو امام حسینؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دے چکے ہیں تو مسلم بن عوسجہ اپنے اہل و عیال کو لے کر کوفہ سے خفیہ طور پہ نکل کر امام حسینؑ کو راستے میں آن ملے، آپ امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوگئے۔
کربلاء کے شہداء میں حضرت مسلم بن عوسجہؓ کا بیٹا خلف بن مسلم عوسجہؓ بھی شامل ہے۔ شبِ عاشور جب امام حسینؑ نے چراغ بجھا کر اپنے اصحاب کو اپنی بیعت سے آزاد کرکے انہیں کربلاء سے جانے کو کہا تو حضرت مسلم بن عوسجہ نے فرمایا اے میرے آقا حسینؑ کیا آپ ہمیں اپنی بیعت سے آزاد کر رہے ہیں؟ بارگا الہی میں اس اپنے حق کی ادائیگی کا ہم کیا جواب دیں گے ؟ہم آپ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، اللہ کی قسم اگر میں یہ جان لوں کہ میں قتل ہو جاؤں گا پھر زندہ کیا جاؤں گا پھر مجھے جلا کر خاکستر کردیا جائے گا اور پھر زندہ کیا جائے گا اور ایسا ستر مرتبہ کیا جائے گا تو تب بھی میں کسی صورت میں آپ سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ آپ کی نصرت میں شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔ جب مجھے ایک بار زندگی ملی ہے تو میں کیوں نہ ایسا کروں ۔
جب آپ میدانِ جنگ میں تشریف لے گئے اور بزرگی اور ضعیفی ، بھوک پیاس کی وجہ سے زیادہ دیر نہ لڑ سکے تو زخمی ہوکر گھوڑے سے زمین پہ گرے تو امام حسینؑ اور حبیب ابن مظاہرؓ آپ کے پاس پہنچے، امام حسینؑ نے فرمایا خدا آپ پہ رحمت کرے اے میرے ناناؐ کے صحابیؓ، حبیب ابن مظاہر نے فرمایا اے مسلم اب حالات ایسے نہیں کہ میں آپ سے آپ کی وصیت پوچھ سکوں اور جسے میں پورا کرسکوں تو حضرت مسلم بن عوسجہؓ نے فرمایا اے حبیب میری یہی وصیت ہے کہ میرے آقا و مولا حسین ابن علیؑ کو تنہاء مت چھوڑنایہاں تک کہ تم میرے پاس جنت میں نہ پہنچ جاو۔
حضرت مسلم بن عوسجہؓ اپنے بیٹے سمیت باقی شہدائے کربلاء کے ساتھ امام حسینؑ کی قبر مبارک کے قریب ہی دفن ہیں۔
ہمارا سلام ہو نبی کریمؐ کے باوفا اصحاب پہ۔
علی اصغر
حجاج بن یوسف نے جس وقت محمد بن قاسم کو اک خاتون کو رہا کرانے کے لیے سندھ بھیجا اس وقت حجاج بن یوسف کی ذاتی جیلوں میں 35 ہزار عورتیں اور مرد قید تھے
سندھ اس وقت امن کا گہوارہ تھا
جہاں سادات کو اُموی مظالم سے بچانے کے لیے پناہ اور عزت دی گئی
دراصل سندھ پر حملہ یہاں کے وسائل قابو کرنے اور سادات کو پناہ دینے کی غرض سے کیا گیا
سینکڑوں قیدی عورتیں اور 13,300 من سونا بصرہ بحری جہاز پر شفٹ کیا گیا
ملتان کا محاصرہ کر کے پانی کے ذریعے کو تباہ کر دیا گیا
پیاس سے نڈھال ہو کر جب ملتانیوں نے ہتھیار ڈال دیے تو مردوں کو شہید کر دیا گیا، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا
ملتان سے زیادہ تر لڑکیوں کو قابو کر کے دمشق بھیجا گیا
جب وہ دمشق کے بازاروں سے گزر رہی رہیں تھیں، اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہاں جشن کا سماں تھا
کچھ لڑکیوں کو اُمویوں نے اپنے حرم میں رکھ لیا، باقیوں کو فروخت کر کے گھوڑے اور ہتھیار خرید لیے
اُسی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھنے کے لیے غیرت مند ملتانیوں نے ملتان میں محمد بن قاسم کا مجسمہ لگایا ہوا ہے
جبکہ غیور سندھی عوام آج بھی حملہ آوروں کو مسترد کرتی ہے
اور عظیم راجہ دہر کو اپنا ہیرو مانتی ہے
ماضی کے جھروکوں سے