بیڈرومز میں کیمرے لگانے والے اور عدت کے مقدمات چلانے والے تحریک انصاف کو حد نہ سکھائیں
اور معیشت کا اتنا ہی درد ہوتا تو بیرونی اشارے پر رجیم چینج نہ کرتے جسکے بعد آج تک برامدات اور ترسیلات زر کا لیول دوبارہ ٹچ نہیں ہو سکا۔
قوم کو سب معلوم ہے کہ درد کس چیز کا ہے
#May9th_FalseFlag
سال 2013 کے بعد سے پاکستان میں سوشل میڈیا اپنی جڑیں مضبوط کرچکا تھا�� اس سے پہلے ٹی وی ریڈیو اخبار ہر چیز پر کمپنی کا قبضہ تھا۔ جو وہ چاہتے تھے وہ شائع ہوتا تھا جو نہیں چاہتے تھے وہ نہیں ہوتا تھا۔ اب تو جاوید ہاشمی نے ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دی کہ ان پر تنقید بھی ان کی رضا مندی سے ہوتی ہے۔
جب سوشل میڈیا آیا تو قدرتی عمل تھا کہ عوام تک معلومات کی حقیقی رسائی ہوتی۔ عوام سوال اٹھاتے۔ یکطرفہ کمیونیکیشن کی بجائے دو طرف کمیونیکیشن ہوتی۔ یہی وہ سال تھے جب کمپنی کے کپڑے سوشل میڈیا پر اتر جاتے۔ لیکن انہی سالوں میں کمپنی عمران خان کے زیر سایہ آگئی۔ اگر اس وقت کمپنی عمران خان کی مقبولیت اور سوشل میڈیا فورس کے پیچھے نہ چھپتی تو جو درگت آج بن رہی ہے یہ 2016 میں ہی بننا شروع ہوجاتی۔
عمران خان کی مقبولیت کمپنی کی ڈھال تھی لیکن یہاں ڈفرز اپنی عقل کے ہاتھوں مار کھاگئے۔ انہیں یہ وہم پیدا ہوگیا کہ عمران خان ان کی بدولت مقبول ہے۔ سوشل میڈیا پر سارے لائکس قوم سے فوج کی محبت کا نتیجہ ہے۔ حقیقت اس وقت کھلی جب کمپنی مقبول لیڈر کے پیچھے سے ہٹی اور سامنے آئی تو انہیں اپنی اصلیت معلوم ہوئی۔
اب کمپنی کی حکمرانی کا باب ہمیشہ ہمیشہ کےلیے بند ہوچکا۔ یہ آخری شعلے ہیں جو بس بجھنے کو ہیں۔ اس نسل نے جو کچھ دیکھ لیا ہے یہ اب بھولنے والے نہیں۔ کمپنی کی حکومت ختم شد !
کمپنی کے ہتھیار اور عوام کا ہتھیار
کمپنی کے پاس خوف کا ہتھیار تھا۔ بھرپور استعمال کیا۔ ڈرانا دھمکانا اور لوگوں کو اغواء کرنا شروع کردیا۔ لوگ نہیں ڈرے۔ پھر ان کے اہلخانہ کیساتھ بے غیرتی کی حدود پار کرنا شروع کردیں۔ لوگ پھر بھی نہیں ڈرے۔ پھر اغواء کرکے لاپتہ کرنا شروع کیا بدترین تشدد کیا۔ لوگوں کو برہنہ کیا نازک اعضاء پر کرنٹ لگائے۔ عوام نہیں ڈرے۔ گھر توڑے ، کاروبار سیل کیے عوام کا معاش بند کرنے کی کوشش کی عوام پھر بھی نہیں ڈرے۔ انتہائی نوبت تھی قتل کردینا۔ کمپنی نے وہ بھی کرکے دیکھ لیا۔ سینکڑوں لوگ دو سال میں شہید ہوئے۔ پہلے لانگ مارچ سے لے کر نومئی کو اور پھر الیکشن ڈے تک شہادتیں ہوئیں ۔ارشد شریف جیسے جید صحافی سے لیکر ظل شاہ تک معصوم بھولے بھالے کارکن بھی جان سے گئے۔ لیکن یہ قوم نہیں ڈری۔ کیا اب کمپنی کے پاس کوئی ہتھیار بچا ہے؟ نہیں! کمپنی نے اپنے تمام ہتھیار استعمال کرلیے ہیں۔ اب ان کا ترکش خالی ہے۔ کبھی غریدہ دھمکیاں لگاتی ہے کبھی منیب کبھی منصور کبھی فیصل واوڈا بتاتا ہے کہ کمپنی سخت غصے میں ہے۔ کمپنی غصے میں نہیں مایوسی کا شکار ہے۔ اپنا منہ نوچنا باقی ہے باقی تمام ہتھیار استعمال کرلیے۔
عوام نے ابھی تک کیا کیا؟ تاریخ ہے دنیا میں جب ریاست کا جبر حد سے بڑھ جاتا ہے تو عوام ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ عوام نے ابھی تک ہتھیار نہیں اٹھائے۔ عوام سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں۔ ابھی تک پاکستان میں ویسا احتجاج بھی نہیں ہوا۔ جلاو گھیراو نہیں ہوا۔ پرتشدد مظاہرے نہیں ہوئے۔ عوام نے جلاو گھیراو نہیں کیا۔ عوام نے سول نافرمانی کا آغاز نہیں کیا۔ ابھی تک عوام نے سوائے ووٹ کے ایسا کوئی بھی ہتھیار استعمال نہیں کیا جو دنیا کی تاریخ میں قومیں استعمال کرتی رہی ہیں۔ عوام کے ترکش میں سارے تیر محفوظ ہیں۔ اب مقابلہ ان سے ہے جو اپنے سارے ہتھیار چلا چکے اور دوسری طرف عوام جو ابھی تک مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں !!!
کمپنی کے ڈرنے کا وقت آگیا ہے۔ اب جرنیل خوفزدہ ہونگے۔ ان کے ہاتھ پاوں پھولیں گے۔
انجام قریب ہے انشاءاللہ
عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔ اب بھی اگر اس قوم کی غیرت نہ جاگی اور فوجی چھاونیوں اور ڈی ایچ اے کے اندر تمام کاروباروں کے بائیکاٹ کا اعلان نہ کیا گیا تو پھر ستو اور دھنیا پی کر سو جائیں۔
عمران خان کو دو ہفتے انکی اہلیہ اور خاندان اور باقی لوگوں سے متعلق غلط خبریں دے کر توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ کمپنی عمران خان کو زرداری اور نواز شریف سمجھنے کی غلطی کرنے سے اب بھی باز نہیں آرہی۔ عمران خان مضبوط کھڑے ہیں اور انشاءاللہ کھڑے رہیں گے
🚨تمام پاکستانی متوجہ ہوں: فوج کا معاشی بائکاٹ کیوں ضروری ہے؟
پچھلے چند ہفتوں میں آپ نے تاریخ رقم کی ہے، تمام تر فسطائیت کے باوجود آپ نے اپنے محبوب لیڈر عمران خان کو جیل سے جتوایا ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو قوموں کی زندگی میں ایسی تحریکیں بہت کم ملتی ہیں۔ آٹھ فروری کا دن تاریخ میں ہمیشہ کے لئیے امر ہوچکا ہے۔
لیکن کیا ہم نے عمران خان کو ووٹ دے کر اس کی حکومت قائم کر دی ہے؟ کیا ہم نے فوجی اسٹیبلشمنٹ ��ا زور توڑ دیا ہے؟ کیا ہم نے چوروں پر اقتدار کے دروازے بند کر دئیے ہیں؟ کیا ہم نے حقیقی آزادی خاصل کر لی ہے؟ اگر آپ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں تو ان سب سوالوں کا جواب ہے: نہیں!
لیکن اس جواب سے ایک اور سوال نکلتا ہے کہ آخر عوام تو ووٹ دے کر ہی یہ ساری ��بدیلی لا سکتے ہیں اور عوام نے تو اپنا حق ادا کر دیا ہے، تو پھر کون ہے جس نے حقیقی آزادی کو سلب کر رکھا ہے؟ اس کا جواب ہے: پاک فوج۔
تو پھر ان سے آزادی کیسے لی جائے؟ اسی سوال کے جواب میں آپ کو اپنا مدعا بیان کرتا ہوں:
سب سے پہلے ان کا معاشی بائکاٹ کیا جائے اور ان کے علاقوں میں تمام کاروباری سرگرمیوں کا بائیکاٹ ہو چاہے وہ DHA کے پلاٹ ہوں یا CSD سے ملنے والی اشیا یا پھر فوجی کارپوریشن کی بنائی گئی مصنوعات ہوں یا ان کے بنائے گئے بنک سب کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
🚫اگر آپ کا اکاؤنٹ عسکری بنک میں ہے تو سارا پیسہ اپنے دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں اور اکاؤنٹ کو بند کر دیں۔
��اگر آپ کے پاس DHA کا پلاٹ ہے تو اس کو بیچ دیں اور اگر آپ پلاٹ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کسی اور جگہ خریدیں۔ یاد رکھیں یہ ان کی سب سے بڑی دکھتی رگ ہے، DHA کا بائیکاٹ ان کی کمر توڑ سکتا ہے۔
🚫اگر آپ فوجی مصنوعات جیسے سیمنٹ، دلیہ، دودھ، دہی یا کوئی بھی ایسی مصنوعات جو فوجی بناتے ہیں تو ان کو خریدنا بند کر دیں، مارکیٹ میں متعدد م��یاری چیزیں دستیاب ہیں جو خریدی جا سکتی ہیں۔
🚫اگر آپ ان کے بنائے گئے میرج ہالز میں اپنی شادی کی تقریبات کرتے ہیں تو اس کو ترک کر دیں، متعدد پرائیویٹ میرج ہالز موجود ہیں جو آپ استعمال کر سکتے ہیں۔
🚫اگر آپ شاپنگ کے لئیے فوجی چھاؤنیوں میں بنائے گئی مارکیٹوں میں جاتے ہیں تو اس کو بھی ترک کر دیں اور عام سول علاقوں میں موجود مارکیٹوں سے شاپنگ کریں۔
🚫جہاں جہاں ہوسکے ان کا معاشی بائیکاٹ کریں تا کہ یہ اپنے اصل کام یعنی ملکی دفاع یعنی چوکیداری کی طرف واپس جا سکیں۔ اس میں ان کا بھی بھلا ہے اور عوام کا بھی۔ یہ ہماری فوج ہے (اگر) تو اس کے لئیے اپنی آئینی حد میں رہنا ہی اس ��ے حق میں ہے۔
🚫اگر آپ نے اس کو آخر تک پڑھا ہے اور آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں تو آئیے اس کا آغاز بھی کریں، کھولیں اپنا عسکری کا بنک اکاؤنٹ اور پیسہ بھیج دیں دوسرے اکاؤنٹ میں یہ آپ کا پہلا امتخان ہے اس کے بعد ہر پاکستانی تک اس پیغام کو پہنچا دیں، جس کسی سے بات ہو اس کو بتائیں، سکرین شارٹ پھیلائیں، اس تحریک کو، عمران خان کو آپ کی ضرورت ہے۔ 🙏