اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران میں پہلے دو مرحلوں میں سیاسی اتفاق رائے ہو گیا جس کا کریڈٹ عراقچی اور وینس کو جاتا ہے مگر ڈیڈلاک تکنیکی دور میں ہوا جس کے ذمے دار وٹکوف اور قالیباف ہیں۔ امریکہ نے جوہری پروگرام پر معائنے اور مداخلت کی جو تکنیکی شرائط پیش کیں اسے ایران کی جانب سے حد سے زیادہ قرار دیا گیا۔
مگر امریکہ اور ایران کے بیانات سے لگ رہا ہے کہ سیز فائر ابھی برقرار رہے گا۔ ( اگرچہ دونوں بارے پیشین گوئی بہت مشکل ہے مگر ) ہر کوئی انتظار کرے گا کہ دوسرا پہل کرے اب جھگڑا آبنائے ہُرمز پر چلے گا مگر اس کا نقصان یہ ہو گا کہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول کے تحت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
دوسری طرف آبنائے ہرمز کی مزید بندش خلیجی ممالک کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دے گی کیونکہ اس سے ان کی لائف لائن یعنی تیل کی فروخت متاثر ہو رہی ہے۔ خدشہ اور خطرہ ہے کہ امریکہ سے پہلے یو اے ای اور قطر ہی حملہ نہ کر دیں۔
پاکستان کی مجبوری یہ ہو گی کہ اگر سعودی عرب جنگ میں کودا تو اسے دفاعی معاہدے کی پاسداری کرنا پڑے گی۔ سو معاملات نہ پاکستان کے عوام کے لئے خوش کن ہیں ( پٹرول قیمت اور مہنگائی کے حوالے سے) اور نہ ہی حکومت کے لئے ( سفارتکاری اور جنگ کے حوالے سے) اسے غیرجانبداری چھوڑنی پڑ سکتی ہے اور یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہو گا۔
نجم ولی خان
دنیا کو اسرائیل کی جوہری طاقت پر فکرمند اور محتاط ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی بین الاقوامی جوہری ضابطے کا پابند نہیں، نہ ہی این پی ٹی (NPT) معاہدے یا کسی اور عالمی پابند معاہدے کا رکن ہے۔
اس کے برعکس پاکستان تمام بین الاقوامی جوہری ضوابط کا پابند ہے، اور ہماری جوہری صلاحیت صرف اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہے تاکہ دشمنوں کے معاندانہ عزائم کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ہم اپنے ہمسایوں کے خلاف کسی بھی قسم کی بالادستی کی پالیسی نہیں رکھتے، جیسا کہ آج کل اسرائیل کی پالیسیوں میں کھل کر نظر آ رہا ہے۔
مغربی دنیا کو اسرائیل کی پیدا کردہ ان کشیدگیوں پر فکرمند ہونا چاہیے، کیونکہ یہ تنازعہ پورے خطے اور اس سے آگے تک پھیل سکتا ہے۔
اسرائیل جیسے سرکش ریاست کی سرپرستی کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہو سکت�� ہیں۔
انگریزی ٹویٹ کا ترجمہ بشکریہ عمیر گوندل
پاکستان کیلئے دو اچھی خبریں ہیں ۔ سعودی وزیرخزانہ محمد بن عبد الله الجدعان اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وہ پاکستان کیلئے اہم معاشی پیکج کا اعلان کریں گے ۔ جبکہ کراچی کے صنعتکار پاکستان کے اکاؤنٹ میں دو ارب ڈالرز رکھوانے جارہے ہیں ۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے صدر کامران ارشد نےکہا ہے کہ مشکل وقت میں پاکستان کیساتھ ہیں اور اسٹیٹ بینک میں دو ارب ڈالرز سیف ڈپازٹ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔
جبکہ سعودی وزیر خزانہ بھی فی الفور دو ارب ڈالرز پاکستان کے اکاؤنٹ میں رکھوانے کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ جبکہ سعودیہ اور پاکستان گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام پر بھی آخری مراحل میں ہیں ۔
ناں لائک ہو رہی ٹویٹس اور ناں ہی ریٹویٹ
میں یو فون کا ڈیٹا استعمال کرتا
سمجھا نیٹورک میں مسلہ
اب جاز کا پیکج لگایا لیکن سیم مسلہ
دو دن میں 3 ہزار فالورز کم ہو گئے مطلب وہ PTI نے دئیے تھے اب واپس انفالو کر دیا تا کہ اکاؤنٹ کی ریچ فارغ ہو جائے
بحرال جس کو بھی یہ ٹویٹ نظر آئے وہ لائک آرٹی اور کمنٹ کردے پلیز🙏🏻
#IslamabadTalks