@zeshmohmand وہ رامی کانسٹیٹیوشن ایوینیو میں اپارٹمنٹ ، کمرشل دوکانیں، بنی گالا بناتا رہا
بہنیں بھی ارب پتی ہوگئیں
مگر یہ سالے ٹک ٹاک سے باہر نہ آسکے
😛😛
بلدیہ فیکٹری کو جلانے کا الزام بھی بالآخر ویسے ہی جھوٹا ثابت ہوا جیسے جناح پور، ٹارچر سیلز، را کی ایجنٹی، حکیم سعید، شاہد حامد کیس، نائن زیرو چھاپہ اور دیگر کئی کیسز جھوٹے ہی ثابت ہوۓ..
اس ملک میں سب سے آسان کام الزام لگانا،. سیاسی عداوت کو سرکاری سرپرستی میں نکالنا وغیرہ ہیں.
جن جے آئ ٹیز کو حرف آخر سمجھا جاتا رہا ہے اب انکا کردار بچا ہی کیا ہے..
پہلے دن سے یہ بات کہتا آیا کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ کو صرف سیاسی آپریشن کی وجہ. بنانے کے لئے استعمال کیا گیا، جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں نے اس سانحے کو اپنی سیاست چمکانے لئے استعمال کیا اور پراپیگنڈا کا انتہا کردی گئی...
ایک فیکٹری کو اس طرح دانستہ جلادینا کسی طور اتنا آسان اور ممکن نہ تھا لیکن قربان جائیے اس نسلی عصبیت و نفرت کا کس طرح پورے واقعہ کو صرف ایک سیاسی جماعت اور لسانی اکائی کے خلاف ایک منظم آپریشن کے لئے استعمال کیا گیا..
کتنے لوگوں کو جیو نیوز کے اس وقت کے نیوز کلپس یاد ہیں جن میں ابتدائی سی سی ٹی وئ فوٹیجز دکھائی جہاں نہ تو کوئ آگ لگاتا دکھائی دیا نہ کوئی مشکوک سرگرمی دکھائی دی. خبرنامے میں یہ بھی بتایا گیا کہ فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں. جن مین سے کچھ جیو نیوز نے حاصل کیں.
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی آگ لگوائی گئی تھی تو اس سارے معاملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں ریلیز نہیں کی گئی؟؟
کیوں صرف الزام پر الزام لگایا جاتا رہا؟
پوسٹ کے ساتھ جیو نیوز کی ایک بلیٹین شامل ہے جسے غور سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ کسی طور ایک دہشتگردی نہیں بلکہ ایک صنعتی حادثہ تھا.
کیا اب مخالفین باضابطہ کوئ معافی مانگیں گے؟؟ کیا وہ. لوگ جو جھٹ سے بلدیہ فیکٹری کا الزام لگاتے تھے اب اپنا منہ بند رکھینگے؟؟
ایک سیاسی جماعت کو کراچی میں لانے کے لئے اتنا بڑا بہتان سانحہ بلدیہ فیکڑی کی شکل میں ایم کیو ایم پر لگایا گیا اور جس پر جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
کیا پاکستان کے ارباب اختیار اور سپریم کورٹ ان تمام لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائینگے کہ جن کیوجہ سے ایم کیو ایم اور بالخصوص قائد تحریک الطاف حسین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا؟
کیا میڈیا معافی کا بیان چلائے گا؟
کیا سیاسی جماعتیں معافی مانگے گی جو صبح شام ایم کیو ایم کی ہرزہ سرائی کرتے رہتے تھے؟
کیا سوشل میڈیا انفلوئنسرز معافی مانگے گے؟
#LiftBanOnAltafHussain #MQM
@BalochNadir5 اس وقت سارے یوتھیے ایکشن کمیٹی بن چکے ہیں
جہاں فساد ہوگا وہاں یوتھیا ہوگا پی ٹی ائی کی مکمل سپورٹ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے
جہاں پاکستان دشمن ہو گا وہاں پی ٹی آئی ہوگی
پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دو
💪💪💪💪
اس وقت سارے یوتھیے ایکشن کمیٹی بن چکے ہیں
جہاں فساد ہوگا وہاں یوتھیا ہوگا پی ٹی ائی کی مکمل سپورٹ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے
جہاں پاکستان دشمن ہو گا وہاں پی ٹی آئی ہوگی
پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دو
💪💪💪💪
@pasha_samina اس وقت سارے یوتھیے ایکشن کمیٹی بن چکے ہیں
جہاں فساد ہوگا وہاں یوتھیا ہوگا پی ٹی ائی کی مکمل سپورٹ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے
جہاں پاکستان دشمن ہو گا وہاں پی ٹی آئی ہوگی
پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دو
💪💪💪💪
وہ جو سارا دن نئے صوبے، نئے صوبے کرتے رہتے ہیں ان کے لیئے 👇
نئے صوبے وفاق نہیں بنا سکتا، نئے صوبے بنانے کا اختیار صوبائی اسمبلی کے پاس ہے، صوبے وفاقی حکومت کو بناتے ہیں، سینیٹر ضمیر گھمرو
@zamirghumro
@s_faisalhussain روشن دان / کھڑکیاں ہر طرف تھے میں متعدد بار جاچکا ہوں بس ان کھڑکیوں پر باریک لوہے کی جسلیاں ویلڈ ہوتی ہیں تاکہ گارمنٹ باہر پھینک کر چوری نہ کی جاسکے
فیصل بھائ
شاھد بھائیلہ (مالک) میرا تیس سال پرانا دوست اور کاروباری تعلق ریا ہے اس کے والد عزیز بھائ کے ساتھ بھی بہت نیازمندی تھی
ہمارے فیملی تعلقات ہیں
پہلے دن سے معلوم تھا کہ یہ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی
کھڑکیوں میں جعلیاں اور دروازوں پر تالے ہر گارمنٹ فیکٹری کی بدنصیبی کے ساتھ مجبوری ہے ورنہ چوریاں اتنینہوںطکہ فیکٹری بک جائے
اس وقت پاشا ڈاکٹرائن اور نیازی کو کراچی میں گاڑنے کا منصوبہ شروع ہوچکا تھآ اور اسی کی ایک کڑی یہ بھی تھی
گو کہ عملی جامہ پہنانے میں تھوڑا وقت لگا اور ۲۲ اگست باقائدہ عامر خان کے ذریعے کروایا گیا
یہ وہ علاقہ تھا جہاں لیاری گینگز کا طوطی بولتا تھا
چند فرلانگ پر ہی بسوں سے اتار کر اردو اسپیکنگ قتل کئے جاتے تھے
2012سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں کراچی کے 260 شہری جھلس کر ہلاک ہوئے یہ پاکستان کی تاریخ میں آتشزدگی کا بدترین سانحہ تھا آج سپریم کورٹ نے ایم کیوایم کو اس واقعہ کی کلین چٹ دیدی اس واقعہ کے کئی پہلو ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا 14سال تک اس سانحہ کی بنیاد پر ایم کیوایم پر الزام تراشی ہوتی رہی بھتہ نہ دینے پر آگ لگانے کا الزام لگاکر ایم کیوایم کو سیاسی طور پر لپیٹ دینے کی کوشش کی گئی مگر آج سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ ایم کیوایم پر الزام غلط تھا مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو معصوم شہری مرے تھے ان کی موت کا زمہ دار کون ہے کیا ان زمہ داروں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی کیا اس تلاش کو سیاسی مقاصد اور خواہشات کے تابع تو نہیں بنایا جائے گا اس وقت اہم بات یہ نہیں ہے اس واقعہ میں ایم کیوایم ملوث نہیں ہے اہم بات یہ ہے اصل کرداروں کو بچانے کے لیے اس کیس کو سیاسی رنگ کیوں دیا گیا 260 شہدا کے لواحقین کو انصاف چاہیے ان کو انصاف کون دے گا ایم کیوایم سے وابستگان آج کے فیصلے کا جشن ضرور منائیں مگر اس جشن منانے میں یہ مت بھول جائیے گا کہ 260 افراد انسان تھے جو بڑی بے رحمانہ موت مرے ہیں ان کے اہل خانہ کے کرب و تکلیف کو محسوس کریں
سنتظام ناقص تھا
مگر راستے بند تھے اس کیلئے صرف اتنا کہوں گا کہ آج کسی بھی گارمنٹ فیکٹری کا چکر لگا لیجئے آپ کو ایسے ہی راستے بند نظر آئینگے
جیسا پہلے عرض کی یہ بدقسمتی سے مجبوری ہے
اور آگ نیچے کیمیکل کے ڈرم کے استاد میں لگی تھی جو ہر فیکٹری میں موجود ہوتا ہے
جس کاعمومی استعمال گارمنٹ کے لگے داغ دور کر کے پیکنگ کرنا ہے اور ڈیزل بھی وافر مقدار میں موجود تھا پھر ہر طرف کپڑا
یہی کچھ گل پلازہ میں ہواآگ کسی بھی وجہ سے لگی پھر بجھائ نہ جاسکی
سٹائل ٹیکسٹائل شمیم کمپنی مانگا منڈی کا PM ایک ورکر عورت کو ہراساں کرتا تھا عورت نے تنگ آ کر اس کو اپنے گھر بلا کر جو حال کیا توبہ توبہ..
اسٹائل ٹیکسٹائل جیسے بڑے اداروں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مینیجرز اور بالادست عملے (PMs/Supervisors) کے رویے پر نظر رکھیں اور خواتین ورکرز کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کریں۔
ایک عورت جب اپنا گھر چھوڑ کر باہر کام کرنے نکلتی ہے، تو وہ کوئی شوق سے نہیں نکلتی۔ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے، بوڑھے والدین کا سہارا بننے یا گھر کا چولہا جلانے کی مجبوری کے تحت قدم باہر نکالتی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اپنی بہن، بیٹی یا ماں باہر جاتے ہوئے محفوظ رہے، تو ہمیں باہر کام کرنے والی ہر دوسری عورت کو بھی وہی عزت دینی ہوگی۔ جب تک ہم دوسروں کی مستورات کو اپنی بہن بیٹی نہیں سمجھیں گے، تب تک ہمارا اپنا گھر بھی محفوظ نہیں ہو سکتا۔ یہ مکافاتِ عمل ہے، جو کرو گے وہی لوٹ کر آئے گا۔
اسلام اور ہماری روایات ہمیں عورت کا احترام سکھاتی ہیں۔ جو معاشرہ اپنی محنت کش خواتین کو تحفظ اور عزت نہیں دے سکتا، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ایسے درندوں کو نہ صرف نوکری سے نکالنا چاہیے بلکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین سزا دینی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی ہمت نہ ہو۔