دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے سفر میں اپنے ساتھ اللہ کو اپنا مددگار بنایا ہے یا نہیں، اگر ہاں تو ہر منزل آسان ہو جائے گی اور اگر نہیں تو شیطان ہمارے ساتھ موجود ہے-
- ابن العربی
سچ تو یہ ہے کہ انسان ہی انسان کی دوا ہے.
اگر کوئی دکھ دیتا ہے تو کوئی سکون بن جاتا ہے۔کوئی نفرت کرتا ہے تو کوئی محبت دے کر حساب برابر کر دیتا ہے۔کوئی رلاتا ہے تو کوئی مسکرانے کی وجہ بن جاتا ہے۔کوئی ٹھوکر لگا کر گرا دیتا ہے تو کوئی انتہائی محبت سے سہارا بن جاتا ہے۔
یہی تو زندگی ہے
محبت اچھی شے تو ہے مگر اس کے بہت خطرناک پہلو بھی ہیں
یہ بندے سے اس کی خودداری چھین لیتی ہے
اس کی انا کو مار دیتی ہے ایسے کہ انسان چاہ کر بھی اپنا بھرم خود اپنے ہاتھوں سے توڑتا ہے
خود کو جھکانا سب سے کٹھن مرحلہ ہے مگر محبت سب سے پہلے یہی سکھاتی ہے۔
ہم کبھی کبھی گاڑی کے شیشے پر اپنا نام لکھنے، یا میز پر اسے نقش کرنے، یا کسی درخت کے تنے پر اسے کھودنے کی طرف مائل ہوتے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہم سب ایک مشترکہ خوف میں مبتلا ہیں، یہ خوف کہ ہمیں بھلا دیا جائے گا۔
خواب تو آنکھوں میں ہیں اب بھی
پھر بھی ان کی تعبیروں سے دل ڈرتا ہے
تھکے ہوئے پر ، ڈرے ہوئے دل
دکھی ہوئی آنکھوں سے کہہ دو
اور کوئی اب خواب نہ دیکھیں
اب خواب کے سارے دریچے بند ہی رکھیں
تعبیروں سے آنکھ مچولی کھیلنا چھوڑیں
بہت سے گھروں میں مذہب کے نام پر اپنی انا،خوف اور روایات بچوں پر تھوپی جاتی ہیں تاکہ وہ سوال نہ کریں۔جو بچہ حق و غلط پر سوال کرے، ظلم کی نشاندہی کرے،اسے فوراً نافرمان اور خاندان کی بدنامی قرار دے دیا جاتا ہے، کیونکہ سچ بولنے والا اندھی فرمانبرداری چاہنے والوں کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔
ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا
یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے وہ لے جائیں ساتھ اپنے
یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے کوئی دیکھ کر یہ سوچے کہ یہ ہمارے بھی پاس ہوتی
دل تو چاہتا ہے بہت سارے پھول خریدوں اور پھر انہیں افسردہ لوگوں میں بانٹ دوں تا کہ چند لمحوں کے لیے ہی سہی وہ زندگی کو محسوس کر سکیں اور دل سے مسکرا سکیں...
طرزِ اظہار سے مر جاتی ہے آدھی اُلفت
آپ یہ بات نگاہوں سے نہیں کہہ سکتے؟
گھر پلٹتے ہوئے مَردوں کی قسم, دنیا میں
ایسے دکھ بھی ہیں جو ماؤں سے نہیں کہہ سکتے
کیا تم نے کبھی خود کو خط لکھا؟
ایک معذرت بھراخط اُن خواہشات کے لیئے جو مسخ ہو گئیں اُن خوابوں کے نام جو ادھورے رہ گئے کیا تم نے کبھی خود سے معذرت کی کہ ایک عرصے سے تم کبھی کُھل کر بے وجہ مسکرا نہ سکے یہ بھی ایک المیہ ہے اس پر معذرت بنتی ہے سو کبھی كبھار خود سے معذرت کر لیا کرو
تمہیں وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جس کی روح میں تمہاری روح کا عکس ہوتا ہے اور تمہیں وہی شخص یاد کرے گا جس نے تمہاری غیر موجودگی میں اس دنیا کو اجنبی محسوس کیا ہو گا۔ محبت یہ نہیں کہ تم کسی کا دل لے لو محبت یہ ہے کہ تم اس کے دل میں ایسی جگہ بنالو کہ جسے کوئی اور کبھی نہ لے سکے..
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
بچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے
یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گے
بدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے