@KlasraRauf ایسا کئی مقامات پر ہوتا ہے۔
تونسہ جاتے ہوئے پل قمر پر ایسے نوجوان موجود ہوتے ہیں جو شدید گرمی میں مسافروں کو ٹھنڈا پانی فی سبیل اللہ پلاتے ہیں۔
یہ حقیقت میرے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے کہ قران کی
ایک پوری سورت صرف ایک عورت کی شکایت کی وجہ سے
نازل ہوئی نہ کوئی بادشاہ نہ فوج نہ عالم نہ ولی صرف
ایک عورت جس نے اللہ کے حضور گریا وذاری کی جو اللہ
کے سامنے شکایت کرنے لگی تو اللہ نے ایک پوری سورت نازل کر دی کہانی حضرت خولہ بنت ثعلبہ سے شروع ہوتی ہے
ان کے شوہر نے ظہار کیا اسلام سے پہلے یہ رسم تھی کہ جس نے اپنی بیوی کو ماں کہہ دیا اس کی بیوی معلق ہو کے
رہ گئی وہ نہ تو پوری طلاق یافتہ تھی نہ ہی ان کے ساتھ بیویاں جیسا سلوک کیا جا سکتا تھا یہ نا انصافی کا جال تھا اور خولہ نے خاموش رہنے سے انکار کر دیا
وہ حل کی تلاش میں نبی علیہ السلام کے پاس گئی لیکن اس وقت تک اس حوالے سے کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا خولہ کو ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کی دنیا تباہ ہو رہی ہے چنانچہ انہوں نے وہی کیا جو وہ کر سکتی تھی
انہوں نے اپنا چہرہ پھیرا اور براہ راست اللہ سے فریاد کرنے لگی انہوں نے چیخ و پکار نہیں کی انہوں نے ہنگامہ کھڑا نہیں کیا انہوں نے براہ راست اللہ سے شکایت کی پھر وحی نازل ہوئی اور اللہ نے فرمایا
قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کر رہی
ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کمرے میں موجود تھی انہوں نے کہا میں اس کی تمام باتیں نہیں سن پا رہی تھیں
اس بارے میں سوچو کہ چند فٹ کے فاصلے پر کھڑی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس کی سرگوشیاں نہیں سن سکیں لیکن کائنات کے خالق نے سات آسمانوں کے اوپر اسے سن لیا
اللہ نے صرف ان کا مسئلہ حل نہیں کیا بلکہ ان کی آواز کو ہمیشہ کے لیے قرآن میں امر کر دیا
سورۃ المجادلہ اس کا معنیٰ ہوتا ہے بحث کرنے کا عمل یہ ایک الہی یاد دہانی ہے کہ اللہ ہر سرگوشی سنتا ہے وہ
الفاظ جو آپ بلند آواز میں کہتے ہیں وہ دعائیں جو آپ اپنے تکیے میں سسکیاں لیتے ہوئے مانگتے ہیں وہ درد جس کے لیے
ابھی آپ کے پاس الفاظ بھی نہیں ہے اللہ ان سب کو سنتا ہے
کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ کی دعا بہت چھوٹی ہے یا آپ کے وسائل بہت معمولی ہیں جس رب نے خولہ کے لیے آسمانوں کو تھام لیا وہی رب آج آپ کی بھی سن رہا ہے
آپ کبھی خلا میں نہیں پکار رہے اللہ سنتا ہے اور ہمیشہ سنتا ہے
برسوں گزر گئے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضعیف خولہ کے لیے پورے قافلے کو روکا ان کی بات سنی اور انہیں بہت سارا وقت دیا
جب لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے ایک ضعیف عورت کو اتنا وقت کیوں دیا تو انہوں نے جواب دیا میں عمر اس عورت
کی بات نہ سنوں جسے اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سنا تھا
کبھی بھی دنیا کو یہ احساس نہ دلانے دیں کہ آپ چھوٹے ہیں آپ معمولی ہیں بلکہ آپ کا رابطہ تو براہ راست بادشاہوں کے بادشاہ سے ہے
اگر آپ کو لگے کہ آپ کی دعائیں قبول نہیں ہو رہی تو خولہ کو یاد رکھو ان کے کمرے کی دیواریں ان کی التجا کو نہیں روک سکیں تھی آسمان اسے بلاک نہیں کر سکا تھا اور فاصلے اسے لیٹ نہیں کر سکے تھے
آپ اس سے کلام کر رہے ہیں جو اپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ سنتا ہے وہ جانتا ہے اور وہ حسیب ہے
آپ کی ہر مشکل میں مدد کرنے کے لیے اپ کو کافی ہے
@ShahzadGujjar_1 دجال سے پہلے
ایک جنگ ہوگی جس میں مسلمان اور عیسائی اپنے مشترکہ دشمن سے لڑیں گے اور جیت جائیں گے۔
پھر ایک جنگ ہوگی
جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہوگی۔
اور وہی جنگ سب سے بڑی ہوگی۔
کرا ارض کی سب سے بڑی جنگ اور اس میں مسلمان ہی فتح یاب ہونگے۔
پھر دجال کا ظہور ہوگا