#مخصوص نشستوں کے کیس میں سنی اتحاد کونسل کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا کوئہ سر پیر سمجھ نہیں آ رہا۔ اس عجیب و غریب فیصلے کی بظاہر ایک ہی منطق سمجھ میں آ رہی کہ ججز کے سامنے آئین و قانون نہیں کچھ دوسرے اسباب تھے۔
الیکشن کمیشن ایک انڈیپنڈنٹ آئینی ارارہ ھے جس نے مروجہ الیکشن ایکٹ کے تحت ایک صحیح فیصلہ دیا کہ جس پارٹی نے الیکشن میں حصہ ہی نہیں لیا اس کا ریزرو سیٹوں پہ کوئی قانونی حق نہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے الیکشن کمیشن کے آئینی دائرہ کار میں مداخلت کی ھے۔
؟ اور آزاد ارکان پارلیمان میں موجود ایک جماعت میں شامل ہو کر الیکشن کے بعد پارلیمان میں ایک ایسی سیاسی جماعت کو کیسے جنم دے سکتے جسے عوام نے ایک سیٹ بھی نہ دی ہو۔
#جہاں تک ججز کی سوچ کی بات ہے، اس پر بھی آفرین ہے، سب ہی جانتے ہیں کہ ہر طرف گیم ذاتی مفادات اور مفروضوں کی ہے
اگر وہ نشستیں جو سنی اتحاد کونسل کی بنتی نہیں پھر بھی انہیں دے دی جاتی ہیں تو کونسا فرق پڑے گا؟
پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں آجائے گی؟
نہیں
سنی اتحاد کونسل اکثریت لے لے گی؟
نہیں
عمران نیازی جیل سے باہر آجائے گا؟
نہیں
تو پھر یہ کُرتا پھاڑ جشن کس بات کا انی دیو؟
#آئین_کا_قتل
#سب سے پہلی بات تو یہ کہ پشاور ہائی کورٹ نے پانچ صفر سے ایک فیصلہ دیا، پھر چیف الیکشن کمشنر بھی ایک جج ہی ہے، ان کے فیصلے کو ریورس کرنے کے لیے کوئی ٹھوس جواز نہیں دیا گیا۔ ایک ایسی جماعت جس کا کوئی پارلیمانی وجود ہی نہ ہو۔ وہ مخصوص نشستوں کی دعویدار کیسے ہو سکتی
جیسے ایک یہ کہ حکومت کو دو تہائی چاہیے تاکہ قاضی فائز عیسی کے عہدے کی مدت بڑھا دی جائے۔
اس سوچ پر اگر یہ فیصلہ ہوا تو اس سے بڑھ کر نظام عدل کی توہین کیا ہو سکتی؟ کیا یہ حکومت و پارلیمان میں مداخلت نہیں کہ فیصلے میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کو سامنے رکھا حائے؟
جیوڈیشری کو آپس میں تقسیم کیا گیا ھے۔ پی ٹی آئی نے ملک میں ہمیشہ تقسیم کی سیاست ہی کی ھے۔
یہ فیصلہ اصل میں پی ٹی آئی کی قانونی غلطیوں پہ پردہ پوشی ھے جس کے نتیجے میں ملک کو مزید بحران کی طرف دکھیل دیا گیا ھے۔
یہ فیصلہ قانونی بنیادوں پہ نہیں بلکہ ججوں کے درمیانی اختلاف اور سیاست پہ ذیادہ کھڑا ھے۔
اس فیصلے سے پہلے ایک جھوٹی منضم مہم چلائی گئی کہ اصل میں یہ ریزرو سیٹوں کا مقدمہ نہیں بلکہ چیف جسٹس کی اکسٹینشن کا کیس ھے۔ پی ٹی آئی نے اس مہم سے قانونی مسعلے کو ایک اور رنگ دے
یہ فیصلہ غیر آئینی ھے اور الیکشن کمیشن کے قانونی دائرہ کار میں مداخلت ھے, اس کے خلاف الیکشن کمیشن کو ریوئو فائل کرنا چاہیے۔
الیکشن ایکٹ اور رولز واضح ھیں کہ ریزرو سیٹس نہ سنی تحریک کی بنتی ہیں نہ ہی پی ٹی آئی کی۔
*مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا سنی اتحاد کونسل کے حق میں فیصلہ- ملک آئینی بحران سے دوچار*
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا ہے جس کے مطابق مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست منظور کر لی گئی ۔
فیصلے کے حوالے سے مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پر ایک مدت سے متحرک تھی اور سماعت کے دوران ججز کے دیئے جانے والے ریمارکس کو تروڑ مروڑ کر ایسے پیش کیاجا رہا تھا جیسے ان کے ساتھ بے انصافی کی گئی ہے اور اب یہ فیصلہ ان کے حق میں ہی آنا چاہیے تھا -
یہ مخصوص سیاسی جماعت کا پرانا وطیرہ ہے اس طرح کے حربے استعمال کرکے وہ ایک جانب فضا قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری جانب ججز کو بھی دباؤ میں لاتے ہیں جس کا نتیجہ آج سامنے آگیا ہے۔
سنی تحریک اور پی ٹی آئی کو آئین میں سے گنجائش نکال نکال کے فائدہ دیا گیا ھے۔
اس سے پہلے ریزرو سیٹوں کا تعین الیکشن کمیشن ہی کرتا رہا ھے کیوں کہ یہ اسی کا دائرہ کار ھے۔ لیکن اب لاڈلی جماعت مسئلے میں آئی تو برخلاف مروجہ قانون, آئین کو تروڑ مڑوڑ کے گنجائش نکالی گئی ھے۔
نہ ہی ان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کیلئے درخواست جمع کرائی گئی- نہ ہی ان کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے کوئی درخواست آئی اور سب سے بڑھ کر سنی اتحاد کونسل اقلیتوں کو ٹکٹ ہی جاری نہیں کرتی نہ ہی ان کی جماعت میں کوئی اقلیتی رکن ہے
سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے نے قانونی ماہرین کے مطابق آئینی بحران پیدا کردیا ہے - قانونی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ آئین سے تجاوز کے مترادف ہے-
اب آئین کی شق 51 ڈی کی بھی ترمیم کرنا پڑے گی کیونکہ سنی اتحاد کونسل وہ جماعت ہے جس نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا
سب سے اہم نکتہ جو اس فیصلے پر سوال اٹھا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کچھ ایسے جج جو سیاسی لبادے اوڑھے ہوئے ہیں بے نقاب ہو گئے ہیں اور اب ان کی کوشش یہ ہو گی کہ یہ فیصلہ جو کہ سنی اتحاد کونسل اور مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں ہے فورا نافذ العمل ہو جائے
یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ کے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کو کسی بھی قانون کے مطابق مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی جماعت کا درجہ نہیں مل سکتا۔