Shehbaz sharif said to PTI, let's work for a national charter. Do what faisal sultan is asking for in terms of @ImranKhanPTI eyes treatment. Or tell why it would be against national interest. Otherwise it confirms your desire of a national charter is just fake.
Where is Imran Khan and What are they Hiding?
Everyone asking this question - why aren’t they allowing meeting with family and personal doctors? His health is important for the whole nation as it represent HOPE in Pakistan!
#EndKhansIsolationNow
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
ہمیں چلاس سے واپس کیا گیا اور واپس کرنے والوں کو باقاعدہ مخبری کی گئی تھی ذاتی تصاویر، گاڑیوں کی تصا��یر اور تمام تفصیلات کے ساتھ جس سے بہت کم لوگ واقف تھے۔
تاہم گلگت بلتستان کے غیور لوگوں کے لئے پیغام یہ ہے کہ یہ کوئی عام الیکشن نہیں بلکہ یہ ایک ریفرینڈم ہے کہ کیا ہم لوگ غلام ہی رہیں گے یا اللہ کے آزاد انسانوں کی طرح حق کے فیصلے کریں گے اور پھر نتائج کی حفاظت بھی کریں گے۔
پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے، پورا پاکستان خان کے ساتھ ہے۔ بے خوف ہو کر پی ٹی آئی امیدواروں کو نہ صرف ووٹ ڈالیں بلکہ نوجوان بالخصوص ووٹ ڈلوانے اور انتخابی نشانات لوگوں تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
اللہ ہم سب کا مددگار ہو
اللہ اپنے نیک بندوں کی صحت کا خیال رکھتا ہے! سات سال پہلے میاں صاحب کے پلیٹ لیٹ فرشتوں کی سازش سے ڈھائی ہزار تک گر گئے تھے! اللہ کو فرشتوں کی یہ گستاخی پسند نہیں آئی! اور ایسی صحت عنایت کی کہ سات سال کے بعد بھی ماشاللہ گلگت میں لوگوں کو پھدو بنانے پہنچ گئے ہیں! اور لوگ بھی ایسے بدنصیب ہیں کہ قیامت تک پھدو بننے کے لئے تیار ہیں!
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر ہوتے وقت انصاف سٹوڈنٹس کے دوستوں کے ہمراہ جابر کو پیغام : تم جھوٹ، فریب اور دھونس ہو۔ حق، سچ اور شرافت ہر پاکستانی کا ایمان ہے۔ جیت ہمارا مقدر ہے۔
آج مجھے شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو گلگت بلتستان داخل ہوتے ہی جل تھانہ کی حدود میں آگے جانے سے روک دیا گیا۔ میرا نام ڈی آیس پی کے پاس درج تھا۔ ہمیں اور آئی ایس ایف کے آئے دوستوں کو پولیس کی گاڑیوں کے نرغے میں صوبہ بدر کر دیا گیا ہے۔ عمران خان اور آزادی _ قوم کا فیصلہ
گلگت بلتستان ایک انتہائی حساس علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ قرارداد کے مطابق جب کشمیر کے حتمی فیصلے کے لئے ریفرنڈم ہو گا تو گلگت بلتستان کے عوام بھی ووٹ ڈالیں گے۔ پہلے ہی وہاں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ الیکشن میں دھاندلی کر کے انہیں اور دور نہ دھکیلا جائے۔ #GBElections
#StopCrueltyAgainstKhan
New article on inhumane treatment on IK!
Gotta luv @Jemima_Khan, she always speaks up for all the right causes & shows how relationships are meant to be honored.
Thank you Jemima for being so classy and raising @Kasim_Khan_1999 & #Sulaiman so well.
”ایک ہی مطالبہ، عمران خان صاحب کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہو۔ اس میں کچھ غیر آئینی و غیر قانونی ہے؟ خان صاحب نے جیل میں 3 سال سے زیادہ وقت بنا کوئی بھی شکایت کیے گزارا ہے۔ انکی آنکھ 85٪ ضائع ہوچُکی ہے، وہ مُلک سے باہر نہیں جا رہے۔ ہم، پوری قوم بس انکا علاج چاہتے ہیں، ہم اُنہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم بار بار آئینگے، آپ گولیاں چلائیں، ہم سینے حاضر کر��نگے۔ آپکی گولیاں ختم ہوجائینگی، لیکن ہمارے سینے نہیں۔“
سہیل خان آفریدی
#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاری��ی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اس�� منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان ت��ام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آ��اد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
شھید امین عبداللہ - نے San Diego کیلیفورنیا کی مسجد کے دفاع میں اپنی جان قربان کر دی! امین ایک نومسلم تھا، اس کی ذہانت کی وجہ سے حملہ آور اسلامک اسکول کے بچوں تک نہ پہنچ سکے جو ان کا اصل حدف تھے!
اپوزیشن لیڈر سمیت پوری پی ٹی آئی قیادت کا بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ کی طبیعت سے متعلق شدید تشویش ہے، عمران خان کو 4 مرتبہ اور بشری بی بی کو 2 مرتبہ ہسپتال لایا گیا، تفصیلات چھپائیں گئی، اب بہت ہوگیا ، عمران خان سے ملاقات کروائی جائے، ہم اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں، بیرسٹر گوہر علی خان
میرا رب سچ کا خُدا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیشہ حق اور سچ پر رہنے والوں ��ا ساتھ دیتا ہے۔ آج سائفر کی حقیقت سامنے آگئی۔ عمران خان صاحب نے ہمیشہ سچ بولا ہے۔ ہمیشہ حق بات کی ہے۔
عمران خان صاحب نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی سالمیت اور خودمختاری کی بات کی ہے۔ اپنی قوم کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے۔ غلامی قبول نہیں کی۔ وہ ایک آزاد شخص ہے اور اپنی قوم کو بھی آزاد دیکھنا ان کا خواب ہے۔ جو ہر صورت پورا ہوگا انشاء اللّٰہ
اڈیالہ کی دیواریں کچھ وقت کے لئے انہیں قید تو رکھ سکتی ہے لیکن دیواروں کے پیچھے بھی وہ ایک آزاد شخص ہیں۔ انشاء اللّٰہ یہ دیواریں ایک آزاد شخص کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ پائینگی۔ ناجائز طریقے سے کرسیوں پر بیٹھے بیرونی غلام آزاد ہو کر بھی غلام ہیں۔
پاکستانیوں کا مینڈیٹ چوری کر کے نااہلوں کو ملک پر مسلط کیا گیا ہے۔ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ عوام پر قرضوں، مہنگائی اور بیروزگاری کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ پاکستان دن بدن تباہی کی طرف جا رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کا مفاد اور مقصد عمران خان صاحب کو جُھکانا اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنا ہی ہے اور یہ خواب انشاء اللّٰہ کبھی پورا نہیں ہوگا۔
یہ نااہلوں کا ٹولہ اب مزید ملک پر اور مُلک پر مسلط کرنے والوں پر بوجھ بن گیا ہے۔ عمران خان صاحب واحد شخص ہے جو پاکستان کو بچا سکتا ہے۔ جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیرونی طاقتوں سے پاکستان کے لیے فیصلے کر سکتا ہے۔ بیرونی غلامی کو Absolutely Notبول سکتا ہے۔ معیشت بہتر کر سکتا ہے۔ قوم کو اکٹھا کر سکتا ہے۔ قوم کو صرف اس پر اعتماد ہے۔ عمران خان صاحب نے اب آنا ہے۔ یہ قوم کی ضد ہے اور ملک کی ضرورت۔
🚨 سائفر کے معاملے پر پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس
آج یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اپریل 2022 میں مقامی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ نے گٹھ جوڑ کر کے عمران خان کی حکومت گرائی اور جمہوریت کو دفن کردیا، سلمان راجہ
Bombshell! Amazing work by my friends: Ryan Grim & Murtaza Hussain! Not only because of the Cypher- but because? Every line is worth reading! Well Done! @ryangrim@MazMHussain