آئی ایس آئی کا بن کے کوئی فراڈیا آپکو فون کرے ڈرائے پی ٹی آئی جوائن کرنے کا بولے اسکوبلا لیں ساتھ بندے اور ڈنڈے بھی تیار کرلیں موبائل کیمرے سے شوٹنگ کابندوبست بھی جب آئے تو اسکےھاتھ پاوں باندھ کےدے مار ساڈھے چار😂
ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکا کہ ہمارا ان کاموں سے کوئی تعلق نہیں
@OfficialDGISPR ہم کو وہ یا اس قسم کی کوئی ٹیکنالوجی دینا نہیں چاہتا یا ہم لے نہیں رہے جو ایڈوانس ہے جے 20 ہو یا جے 35 ہو یا وائے 20 ہو نا ہم کان کو شامل کرپارہے ہے ایران جیا ملک سپر سونک کروز مزائل رکھا ہوا ہے نہ ہم شراکت داری کررہے ہے وجہ جو بھی ہو ہم کو موقع سے فائدہ اٹھانا اب تک نہیں آیا
@OfficialDGISPR ہماری افواج ہمارا وقار ہے اور پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضامن بھی ہے ہم جس طرح اپنی افواج کو اپ گریڈ کررہے ہے وہ بہت اچھی بات ہے پر ہم اور ہماری افواج چاہنئہ کے ساتھ مختلف ڈیل پر کام کررہے ہے پھر بھی چین سے ہم نے وائی 20 جہاز نہیں خریدے ہم اب تک ہرکولیس کو ہی استمال کررہے ہین.
اگر کسی محب وطن پاکستانی کا دل چاہے تو میرے اکاؤنٹ کی سانسیں بحال کرنے کیلئے لائک آر ٹی کمنٹ کر دے ❤️🙏
بھارت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ میرا اکاؤنٹ کس بم سے اڑائیں ۔ کبھی بین کرواتے ہیں کبھی ریچ ڈیڈ کرواتے ہیں مگر میری پاکستان سے محبت کو ان حملوں سے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا ۔ بھ��رتی کیمپوں میں گھس گھس کر سرجیکل اسٹرائیکس کرتی رہوں گی انشااللہ ۔ پاکستان زندہ باد❤️
1989 میں ایک ایسی کمپنی دنیا کی سب سے دولت مند بن چکی تھی جس کے پاس تاریخ کی کسی بھی کمپنی سے زیادہ پیسہ تھا۔ ہر ہفتے 420 ملین ڈالر کی چھوٹی کرنسی میں نقد رقم پہنچتی تھی۔ لیکن جلد ہی انہیں ایک ایسا مسئلہ درپیش ہوا جو کسی اسمگلر کے بس کی بات نہ تھی ان کی دولت پراسرار طور پر غائب ہو رہی تھی۔ یہ سمجھ سے باہر تھا کہ اتنی بڑی رقم آخر جا کہاں رہی ہے۔ یہ کہانی نہ صرف حیران کن ہے ��لکہ اس میں جرائم، طاقت اور پیسے کا ایسا امتزاج ہے جو آپ کو حیرت میں ڈال دے گا۔
بھارتی ایجنٹس بے نقاب
بلوچستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی کڑی نگرانی اور جدید تفتیشی طریقوں نے ایک اور بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالیہ چھاپوں میں اُن پانچ افراد کو گرفتار کیا جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کیلئے مخبری اور لوجسٹکس کا کام کر رہے تھے۔ ان کے قبضے سے ملنے والے سیٹلائٹ فونز، ہندوستانی سِم کارڈز اور غیر ملکی کرنسی اس امر کی ٹھوس شہادت ہیں کہ بھارت بلوچستان میں نئی گرم محاذ کھولنے کی پلاننگ میں مصروف تھا۔
عبدالطیف ولد محمد عیسیٰ کو 5 مئی 2025 کو تربت کے علاقے دانک سے حراست میں لیا گیا۔ فرانزک تجزیے نے ثابت کیا کہ اس کے سیٹلائٹ فون پر کی گئی پچیس خفیہ کالز براہِ راست نئی دہلی کے بدنامِ زمانہ لودھی روڈ ہیڈکوارٹر سے کنیکٹ ہو رہی تھیں۔ ایک مغربی سائبر سکیورٹی جرنل Global Infowar Review میں چھپنے والی تازہ رپورٹ کے مطابق یہی IP رُوٹ بی ایل اے کے سربراہ اللہ نذر کے زیرِ استعمال نیٹ ورک سے میل کھاتا ہے،ایک ناقابلِ تردید لنک👇