تجلی نار تھی یا نور ، نہ تم سمجھے ، نہ ہم سمجھے
جلا کیوں کر یہ کوہ طور ، نہ تم سمجھے ، نہ ہم سمجھے
وہ شہ رگ سے بھی ہے نزدیک ، یہ قرآن کہتا ہے
ہے شہ رگ ہم سے کتنی دور، نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
کہ بیٹاں نصیب سے تو بیٹے دعاوں کے بعد آتے ہیں
ہم لڈکے ہیں جناب کچھ زمہ داریوں کے ساتھ آتے ہیں
پورا بچپن کتابوں میں گزر جاتا ہے، تو جوانی کمانے میں
یہ زمہ داریاں عمر کے ساتھ بڈھتی ہیں کبھی کم نہیں ہوتی
کون کہتا ہے کہ ہم لڈکوں کی زندگیوں میں غم نہیں ہوتے