Blockading Iranian ports is an act of war and thus a violation of the ceasefire.
Striking a commercial vessel and taking its crew hostage is an even greater violation.
Iran knows how to neutralize restrictions, how to defend its interests, and how to resist bullying.
سوال۔کیا ایران ایٹم بم بنا سکتا ہے؟
خاکسار (جمی ورک) کا جواب:
ایران کے پاس 9875 کلوگرام افزودہ یورینیم ہے۔ جس میں 440 کلوگرام weapons grade ہے۔ 20 فیصد سے اوپر سے بم بن سکتے ہے۔ لیکن ایران کی 440 کلوگرام یورینیم 60 فیصد سے زیادہ افزودہ شدہ ہے۔ اسے کسی بھی وقت 90 فیصد تک آسانی سے افزودہ کیا جا سکتا ہے جو بم کے لئے آئیڈیل گریڈ ہے۔
ہر بم کے لئے 42 کلوگرام یورینیم درکار ہے۔
لیکن ایٹم بم ساٹھ فیصد سے بھی بن سکتا ہے لیکن اس میں یورینیم زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ اور بم کی تباہی کہ صلاحیت کچھ کم ہوتی ہے۔
سوال: کیا ایران کے پاس ایٹم بم ہے؟
جواب: نہيں۔ امریکی ایجنسیوں اور IAEA سب کی رائے assessment ہے کہ ایران نے کبھی ایٹم بم بنانے کی کوشش نہيں کی۔ ہمیشہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے روک تھام کے لئے بنائے گئے انٹرنیشنل اداروں سے تعاون کیا ہے۔
اصل وجہ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ کا فتوٰی ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال میں کیونکہ معصوم اور مجرم دونوں مرتے ہیں اس لیے یہ غیر اسلامی ہے۔ اس لئے ایٹم بم نہيں بنایا۔
میرے خیال میں شرعی طور پر یہ فتوٰی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ختم null and void ہوچکا ہے۔ اب نئے لیڈر کوئی ایسا فتوٰی جاری نہيں کرتے تو ایران کی حکومت کسی بھی وقت نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
میرے خیال میں ایران کو ہر صورت ایٹم بنانا ہوگا کیونکہ اس سے بہتر جارحیت کو روکنے والی اس وقت کوئی چیز نہيں ہے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی ایک deterrence ہے۔ جارحیت کو ردکتی ہے۔ امن کو پروان چڑھاتی ہے۔ نیوکلیئر ہتھیار امن کے ضامن ہیں۔
ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ان کے استعمال کا خوف ہی امن قائم رکھتا ہے۔
مثلا۔ اگر اسرائیل کو پتہ ہونا کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائلوں کی ٹوپی میں ایٹم بم رکھ کر تل ابیب بیجج سکتا ہے تو وہ کبھی ایران پر بمباری کرنے کی جرأت کرتے؟ کبھی ایران کی قیادت کو شہید کرنے کی جسارت کرتے؟
Prophet #Jesus (pbuh) called people to the path of God & warned against evil & oppression. Immoral, tyrannical powers sought to kill that divine messenger. Lustful, warmongering people couldn’t tolerate the religion of God, His Prophet, and the followers of His path.
Jan. 2, 1995
His Holiness Pope Leo XIV (@Pontifex), I condemn the insult to Your Excellency on behalf of the great nation of Iran, and declare that the desecration of Jesus, the prophet of peace and brotherhood, is not acceptable to any free person. I wish you glory by Allah.
ایران جنگ جیت رہا تھا لیکن پاکستان کے بلانے پر وہ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ گیا، سیز فائر کیا اور اسلام آباد آ گیا
لیکن امریکہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی نے مذاکرات ناکام کر دیے، اب بطور ثالث پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ایران کے حق میں ادا کرے
🚨ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ مذاکرات کے بعد کہنا ہے کہ 👇
"ہمیں امریکہ کے رویے پر مایوسی ہوئی ہے۔ نیتن یاہو کی جانب سے نائب صدر وینس کو دورانِ ملاقات کی گئی کال نے امریکہ-ایران مذاکرات کا رخ بدل کر اسرائیل کے مفادات کی طرف موڑ دیا۔
امریکہ نے مذاکرات کی میز پر وہ حاصل کرنے کی کوشش کی جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا۔ ہم یہاں نیک نیتی کے ساتھ آئے تھے، پاکستان سے روانگی سے قبل وینس کی پریس کانفرنس غیر ضروری تھی۔
ہم اپنے ملک کے مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم اور تیار ہیں"